Skip to main content

وَكَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ

وَكَانُوا۟
اور وہ تھے
يَنْحِتُونَ
تراش لیتے
مِنَ
سے
ٱلْجِبَالِ
پہاڑوں میں (سے)
بُيُوتًا
گھروں کو
ءَامِنِينَ
امن سے رہنے والے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور وہ پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے بے خوف

احمد علی Ahmed Ali

او وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے، بےخوف ہو کر (١)۔

٨٢۔١ یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ ٩ ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بستی سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کر لیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر)
صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ امن و اطمینان سے رہیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور یہ لوگ پہاڑ کو تراش کر محفوظ قسم کے مکانات بناتے تھے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور وہ لوگ بے خوف و خطر پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے،