یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھ خود آگے بھیج چکے ہیں اور بیشک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے،
English Sahih:
That is for what your hands have put forth and because Allah is not ever unjust to [His] servants."
1 Abul A'ala Maududi
یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے
2 Ahmed Raza Khan
یہ بدلا ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا،
3 Ahmed Ali
یہ اس چیز کے بدلےہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور الله بندوں پر ظلم نہیں کرتا
4 Ahsanul Bayan
یہ تمہارے پیش کردہ اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالٰی اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا
6 Muhammad Junagarhi
یہ تمہارے پیش کرده اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں
7 Muhammad Hussain Najafi
یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے (زاد سفر کے طور پر) آگے بھیجا ہے اور یقینا اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اس لئے کہ تم نے پہلے ہی اس کے اسباب فراہم کرلئے ہیں اور خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے
9 Tafsir Jalalayn
یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا۔
10 Tafsir as-Saadi
۔ فرمایا : ﴿ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ ﴾ یہ رسوائیاں اور قباحتیں جو انہیں عذاب کا مستحق بناتی اور ثواب سے محروم کرتی ہیں ان کا اپنا کیا دھرا ہے۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے مذکورہ ہر زہ سرائی کی تھی۔ ان میں ” فنحاص بن عازوراء“ کا نام لیا جاتا ہے جو مدینہ میں علمائے یہود کا سرخیل تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب فنحاص بن عاز وراء نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾ (البقرہ :2؍ 245) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَأَقْرَضُوا اللَّـهَ قَرْضًا حَسَنًا ﴾ (الحدید :57؍18) سنا تو اس وقت اس نے تکبر کی بنا پر یہ بات کہنے کی جسارت کی۔۔۔ قبحہ اللہ اللہ تعالیٰ نے اس کی بدگوئی کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ ان کی یہ ہرزہ سرائیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے قبیح کام کرتے رہے ہیں ان کی ایک نظیر یہ ہے کہ انہوں نے نبیوں کو ناحق قتل کیا۔۔۔ یہاں ” ناحق“ کی قید لگانے سے مراد یہ ہے کہ وہ نبیوں کو لاعلمی اور ضلالت کی وجہ سے قتل نہیں کرتے تھے بلکہ اس جرم کی قباحت اور شناعت کو جانتے ہوئے بھی سرکشی اور عناد کی بنا پر قتل انبیاء علیہم السلام کے اقدام کی جرأت کرتے تھے۔
11 Mufti Taqi Usmani
yeh sabb tumharay haathon kay kartoot ka nateeja hai jo tum ney aagay bhej rakha tha , werna Allah bandon per zulm kernay wala nahi hai .