Skip to main content

اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْاَرْحَامِ ۗ وَمَا تَدْرِىْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۗ وَّمَا تَدْرِىْ نَـفْسٌۢ بِاَىِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۗ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 

إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
عِندَهُۥ
اس کے پاس
عِلْمُ
علم ہے
ٱلسَّاعَةِ
قیامت کا
وَيُنَزِّلُ
اور وہ اتارتا ہے
ٱلْغَيْثَ
بارش کو
وَيَعْلَمُ
اور وہ جانتا ہے
مَا
جو کچھ
فِى
میں ہے
ٱلْأَرْحَامِۖ
رحموں
وَمَا
اور نہیں
تَدْرِى
جانتا
نَفْسٌ
کوئی شخص
مَّاذَا
کیا کچھ
تَكْسِبُ
کمائی کرے گا
غَدًاۖ
کل
وَمَا
اور نہیں
تَدْرِى
جانتا
نَفْسٌۢ
کوئی شخص
بِأَىِّ
کس
أَرْضٍ
زمین پر
تَمُوتُۚ
وہ مرے گا
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
عَلِيمٌ
علم والا ہے
خَبِيرٌۢ
باخبر ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے، اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی، بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے

احمد علی Ahmed Ali

بے شک الله ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہوتا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس زمین پر مرے گا بے شک الله جاننے والا خبردار ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

بیشک اللہ تعالٰی ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا (یاد رکھو) اللہ تعالٰی پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے۔

٣٤۔١حدیث میں آتا ہے کہ پانچ چیزیں مفاتیح الغیب ہیں، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قرب قیامت کی علامات تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں ہیں لیکن قیامت کے وقوع کا یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، کسی فرشتے کو، نہ کسی نبی مرسل کو، بارش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آثار و علائم سے تخمینہ تو لگایا جاتا اور لگایا جاسکتا ہے لیکن یہ بات ہر شخص کے تجربہ و مشاہدے کا حصہ ہے کہ یہ تخمینے کبھی صحیح نکلتے ہیں اور کبھی غلط۔ حتی کہ محکمہ موسمیات کے اعلانات بھی بعض دفعہ صحیح ثابت نہیں ہوتے۔ جس سے صاف واضح ہے کہ بارش کا بھی یقینی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ رحم مادر میں مشینی ذرائع سے جنسیت کا ناقص اندازہ تو شاید ممکن ہے کہ بچہ ہے یا بچی؟ لیکن ماں کے پیٹ میں نشوونما پانے والا یہ بچہ نیک بخت ہے یا بدبخت ناقص ہوگا یا کامل، خوب رو ہوگا یا بد شکل، کالا ہوگا یا گورا، وغیرہ باتوں کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ انسان کل کیا کرے گا؟ وہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا؟ کسی کو آنے والے کل کے بارے میں علم نہیں کہ وہ اس کی زندگی میں آئے گا بھی یا نہیں؟ اور اگر آئے گا تو وہ اس میں کیا کچھ کرے گا؟ موت کہاں آئے گی؟ گھر میں یا گھر سے باہر اپنے وطن میں یا دیار غیر میں جوانی میں آئے گی یا بڑھاپے میں اپنی آرزوؤں اور خواہشات کی تکمیل کے بعد آئے گی یا اس سے پہلے؟ کسی کو معلوم نہیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم واﻻ اور صحیح خبروں واﻻ ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس سرزمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا (اور) بڑا باخبر ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یقینا اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی پانی برساتا ہے اور شکم کے اندر کا حال جانتا ہے اور کوئی نفس یہ نہیں جانتا ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کسی کو نہیں معلوم ہے کہ اسے کس زمین پر موت آئے گی بیشک اللہ جاننے والا اور باخبر ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

بیشک اﷲ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش اتارتا ہے، اور جو کچھ رحموں میں ہے وہ جانتا ہے، اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (عمل) کمائے گا، اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کِس سرزمین پر مرے گا، بیشک اﷲ خوب جاننے والا ہے، خبر رکھنے والا ہے (یعنی علیم بالذّات ہے اور خبیر للغیر ہے، اَز خود ہر شے کا علم رکھتا ہے اور جسے پسند فرمائے باخبر بھی کر دیتا ہے)،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

غیب کی پانچ باتیں
یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں۔ مگر اس کے بعد کہ اللہ اسے علم عطا فرمائے۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانے نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ نر ہوگا یا مادہ لڑکا ہوگا یا لڑکی نیک ہوگا یا بد ؟ اسی طرح کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کل وہ کیا کرے گا ؟ نہ کسی کو یہ علم ہے کہ وہ کہاں مرے گا ؟ اور آیت میں ہے ( وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ 59؀) 6 ۔ الانعام ;59) غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جنہیں بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور حدیث میں ہے کہ غیب کی کنجیاں یہاں پانچ چیزیں ہیں جن کا بیان آیت ( اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 34؀ ) 31 ۔ لقمان ;34) میں ہے مسند احمد میں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانچ باتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری کی حدیث کے الفاظ تو یہ ہیں کہ یہ پانچ غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مسند احمد میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے تجھے ہر چیز کی کنجیاں دی گئی ہیں سوائے پانچ کے پھر یہی آیت آپ نے پڑھی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں حضور ہماری مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے اور پوچھنے لگے ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ کو فرشتوں کو کتابوں کو رسولوں کو آخرت کو مرنے کے بعد جی اٹھنے کو مان لینا۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے ؟ فرمایا ایک اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا نمازیں پڑھنا زکوٰۃ دینا رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے دریافت کیا احسان کیا ہے ؟ فرمایا تیرا اس طرح اللہ کی عبادت کرنا کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا حضور قیامت کب ہے فرمایا اس کا علم نہ مجھے ہے اور نہ تجھے ہے ہاں اس کی کچھ نشانیاں میں تمہیں بتادیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنے میاں کو جنے اور جب ننگے پیروں اور ننگے بدنوں والے لوگوں کے سردار بن جائیں۔ علم قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وہ شخص واپس چلا گیا آپ نے فرمایا جاؤ اسے لوٹا لاؤ لوگ دوڑ پڑے لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے (بخاری) ہم نے اس حدیث کا مطلب صحیح بخاری میں خوب بیان کیا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ جبرائیل نے اپنی ہتھیلیاں حضور کے گھٹنوں پر رکھ کر یہ سوالات کیے تھے۔ ایک صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں مروی ہے کہ بنو عامر قبیلے کا ایک شخص آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا کہنے لگا میں آؤں ؟ آپ نے اپنے خادم کو بھیجا کہ جا کر انہیں ادب سکھاؤ یہ اجازت مانگنا نہیں جانتے۔ ان سے کہو پہلے سلام کرو پھر دریافت کرو کہ میں آسکتا ہوں ؟ انہوں نے سن لیا اور اسی طرح سلام کیا اور اجازت چاہی یہ گئے اور جاکر کہا آپ ہمارے لیے کیا لے کر آئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا بھلائی ہی بھلائی۔ سنو تم ایک اللہ کی عبادت کرو لات وعزیٰ کو چھوڑ دو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھاکرو سال بھر میں ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے اپنے فقیروں پر تقسیم کرو۔ انہوں نے دریافت کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا علم میں سے کچھ ایساباقی ہے جسے آپ نہ جانتے ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں ایساعلم بھی ہے جسے بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ مجاہد فرماتے ہیں گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے آکر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تھا کہ میری عورت حمل سے ہے بتلائے کیا بچہ ہوگا ؟ ہمارے شہر میں قحط ہے فرمائیے بارش کب ہوگی ؟ یہ تو میں نہیں جانتا کہ میں کب پیدا ہوا لیکن یہ آپ معلوم کرادیجئیے کہ کب مرونگا ؟ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ مجھے ان چیزوں کا مطلق علم نہیں۔ مجاہد فرماتے ہیں یہی غیب کی کنجیاں ہیں جن کے بارے میں فرمان باری ہے کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ حضرت صدیقہ (رض) فرماتی ہیں جو تم سے کہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کل کی بات کا علم جانتے تھے تو سمجھ لینا کہ وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا ؟ قتادۃ فرماتے ہیں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا نہ نبی کو نہ فرشتہ کو اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کس سال کس مہینے کس دن یا کس رات میں وہ آئے گی۔ اسی طرح بارش کا علم بھی اس کے سوا کسی کو نہیں کہ کب آئے ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ حاملہ کے پیٹ میں بچہ نر ہوگا یا مادہ سرخ ہوگا یا سیاہ ؟ اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ نیکی کرے گا یا بدی کرے گا ؟ مرے گا یا جئے گا بہت ممکن ہے کل موت یا آفت آجائے۔ نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ کس زمین میں وہ دبایا جائے گا یا سمندر میں بہایا جائے گا یا جنگل میں مرے گا یا نرم یا سخت زمین میں جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے جب کسی کو موت دوسری زمین میں ہوتی ہے تو اس کا وہیں کا کوئی کام نکل آتا ہے اور وہیں موت آجاتی ہے اور روایت میں ہے کہ یہ فرما کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔ اعشی ہمدان کے شعر ہیں جن میں اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ قیامت کے دن زمین اللہ تعالیٰ سے کہے گی کہ یہ ہیں تیری امانتیں جو تو نے مجھے سونپ رکھی تھیں۔ طبرانی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے۔