Skip to main content

هٰذَا عَطَاۤؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ

هَٰذَا
یہ
عَطَآؤُنَا
ہماری بخشش تھی
فَٱمْنُنْ
پس احسان کر
أَوْ
یا
أَمْسِكْ
روک لے
بِغَيْرِ
بغیر
حِسَابٍ
حساب کے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

(ہم نے اُس سے کہا) "یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں"

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

(ہم نے اُس سے کہا) "یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں"

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کر یا روک رکھ تجھ پر کچھ حساب نہیں،

احمد علی Ahmed Ali

یہ ہماری بخشش ہے پس احسان کر یا اپنے پاس رکھ کوئی حساب نہیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں (١)۔

٣٩۔١ یعنی تیری دعا کے مطابق ہم نے تجھے عظیم بادشاہی سے نواز دیا، اب انسانوں میں سے جس کو چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، تجھ سے ہم حساب بھی نہیں لیں گے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

(ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

یہ ہے ہمارا عطیہ اب تو احسان کر یا روک رکھ، کچھ حساب نہیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

یہ ہماری عطا ہے (آپ(ع) کو اختیار ہے) جسے چاہے عطا کر اور جس سے چاہے روک رکھ۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

یہ سب میری عطا ہے اب چاہے لوگوں کو دیدو یا اپنے پاس رکھو تم سے حساب نہ ہوگا اور ان کے لئے ہمارے یہاں تقرب کا درجہ ہے اور بہترین بازگشت ہے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

(ارشاد ہوا:) یہ ہماری عطا ہے (خواہ دوسروں پر) احسان کرو یا (اپنے تک) روکے رکھو (دونوں حالتوں میں) کوئی حساب نہیں،