Skip to main content

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَـبُـوا الطَّاغُوْتَ اَنْ يَّعْبُدُوْهَا وَاَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ ۙ

وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
ٱجْتَنَبُوا۟
جنہوں نے اجتناب کیا
ٱلطَّٰغُوتَ
طاغوت سے
أَن
کہ
يَعْبُدُوهَا
وہ عبادت کریں اس کی
وَأَنَابُوٓا۟
اور رجوع کیا
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ
اللہ کے
لَهُمُ
ان کے لئے
ٱلْبُشْرَىٰۚ
خوش خبری ہے
فَبَشِّرْ
پس بشارت دے دو
عِبَادِ
میرے بندوں کو

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،

احمد علی Ahmed Ali

اور جو لوگ شیطانوں کو پوجنے سے بچتے رہے اور الله کی طرف رجوع ہوئے ان کے لیے خوشخبری ہے پس میرےبندوں کو خوشخبری دے دو

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالٰی کی طرف متوجہ رہے وہ خوشخبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے۔ تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جن (خوش بخت) لوگوں نے طاغوت (معبودانِ باطل) کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کیلئے خوشخبری ہے (اے نبی(ص)) میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جن لوگوں نے ظالموں سے علیحدگی اختیار کی کہ ان کی عبادت کریں اور خدا کی طرف متوجہ ہوگئے ان کے لئے ہماری طرف سے بشارت ہے لہذا پیغمبر آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جو لوگ بتوں کی پرستش کرنے سے بچے رہے اور اللہ کی طرف جھکے رہے، ان کے لئے خوشخبری ہے، پس آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی (رض) کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لئے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا ہے۔