Skip to main content

وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ

وَمَن
اور جو
يَعْشُ
غفلت برتتا ہے۔ اندھا بنتا ہے
عَن
سے
ذِكْرِ
ذکر
ٱلرَّحْمَٰنِ
رحمن کے
نُقَيِّضْ
ہم مقرر کردیتے ہیں
لَهُۥ
اس کے لیے
شَيْطَٰنًا
ایک شیطان
فَهُوَ
تو وہ
لَهُۥ
اس کا
قَرِينٌ
دوست ہوجاتا ہے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور جسے رند تو آئے (شب کوری ہو) رحمن کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے،

احمد علی Ahmed Ali

اورجو الله کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان متعین کر تے ہیں پھر وہ اس کا ساتھی رہتا ہے

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے (١) ہم اس پر شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے (٢)۔

٣٦۔١ عَشَا یَعْشُوْ کے معنی ہیں آنکھوں کی بیماری اس کی وجہ سے جو اندھا پن ہوتا ہے۔ یعنی جو اللہ کے ذکر سے اندھا ہو جائے۔
٣٦۔٢ وہ شیطان، اللہ کی یاد سے غافل رہنے والے کا ساتھی بن جاتا ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اور نیکیوں سے روکتا ہے۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرکے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور جوشخص خدا کی یاد سے اندھا بنتا ہے تو ہم اس کیلئے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

اور جو شخص بھی اللہ کے ذکر کی طرف سے اندھا ہوجائے گا ہم اس کے لئے ایک شیطان مقرر کردیں گے جو اس کا ساتھی اور ہم نشین ہوگا

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور جو شخص (خدائے) رحمان کی یاد سے صرف نظر کر لے تو ہم اُس کے لئے ایک شیطان مسلّط کر دیتے ہیں جو ہر وقت اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

شیطان سے بچو
ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بےرغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں (عشی فی العین) کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت ( وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا\011\05ۧ) 4 ۔ النسآء ;115) ، یعنی جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے اور آیت میں ارشاد ہے (فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ۝) 61 ۔ الصف ;5) یعنی جب وہی ٹیڑھے ہوگئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے۔ اور آیت میں فرمایا (وقیضنا لھم قرناء) الخ، یعنی ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کرلیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہہ دیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو قمرین یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو ابو ین یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔ ایک قرأت میں (جا انا) بھی ہے یعنی شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے حضرت سعید جریری فرماتے ہیں کہ کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آکر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے پھر فرماتا ہے کہ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لئے نفع دینے والا نہیں اس کے بعد اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے کہ ازلی بہروں کے کان میں آپ ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپکی ہدایت قبول نہیں کرسکتے۔ یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے ؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہوجایا کرو پھر فرماتا ہے کہ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لئے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں سورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ کے دشمنوں کو مغلوب نہ کردیا آپ کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کردیں آپ ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے یہ تو ہے تفسیر حضرت سدی وغیرہ کی لیکن حضرت قتادہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے اٹھا لئے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آپ کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ کی ناپسندیدہ تھے بجز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور تمام انبیاء کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ حضرت حسن سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آجائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آجائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لئے رہ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے ذکر ہے یعنی شرف اور بزرگی ہے۔ بخاری شریف میں ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ امر (یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں اس لئے بھی آپ کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے ذکر کے معنی نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت ( لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10۝ۧ) 21 ۔ الأنبیاء ;10) یعنی بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لئے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے ؟ اور آیت میں ہے ( وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ\021\04ۙ ) 26 ۔ الشعراء ;214) یعنی اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے پھر فرماتا ہے تم سے عنقریب سوال ہوگا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا ؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنی امت کو دے رہے ہیں کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو حضرت عبداللہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے (واسئل الذین ارسلنا الیھم قبلک رسلنا) پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے واللہ اعلم۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کرلے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں عبدالرحمن فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء آپ کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔