بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہلِ ایمان (یعنی صحابہ رضی اللہ عنھم) اب کبھی بھی پلٹ کر اپنے گھر والوں کی طرف نہیں آئیں گے اور یہ (گمان) تمہارے دلوں میں (تمہارے نفس کی طرف سے) خُوب آراستہ کر دیا گیا تھا اور تم نے بہت ہی برا گمان کیا، اور تم ہلاک ہونے والی قوم بن گئے،
English Sahih:
But you thought that the Messenger and the believers would never return to their families, ever, and that was made pleasing in your hearts. And you assumed an assumption of evil and became a people ruined."
1 Abul A'ala Maududi
(مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آ سکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کیے اور تم سخت بد باطن لوگ ہو"
2 Ahmed Raza Khan
بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مسلمان ہرگز گھروں کو واپس نہ آئیں گے اور اسی کو اپنے دلوں میں بھلا سمجھیں ہوئے تھے اور تم نے برا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے
3 Ahmed Ali
بلکہ تم نے خیال کیا تھا کہ رسول الله اور مسلمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی واپس نہ لوٹیں گے اور تمہارے دلوں میں یہ بات اچھی معلوم ہوئی اور تم نے بہت برا گمان کیا اور تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے
4 Ahsanul Bayan
نہیں بلکہ تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعًا ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا (١) دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے۔ (۲)
١٢۔١ اور وہ یہی تھا کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کرے گا۔ یہ وہی پہلا گمان ہے، تکرار تاکید کے لئے ہے۔ ۱۲۔۲ بور، بائر کی جمع ہے ہلاک ہونے والا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقدر ہلاکت ہے اگر دنیا میں یہ اللہ کے عذاب سے بچ گئے تو آخرت میں تو بچ کر نہیں جا سکتے وہاں تو عذاب ہے ہر صورت میں بھگتنا ہوگا ۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل وعیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں۔ اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی۔ اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخرکار) تم ہلاکت میں پڑ گئے
6 Muhammad Junagarhi
(نہیں) بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ پیغمبر اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعاً ناممکن ہے اور یہی خیال تمہارے دلوں میں رچ بس گیا تھا اور تم نے برا گمان کر رکھا تھا۔ دراصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے
7 Muhammad Hussain Najafi
(اصل بات یہ ہے کہ) تم نے خیال کیا تھا کہ رسول(ص) اور اہلِ ایمان اب کبھی بھی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برے گمان کئے (اسی طرح) تم برباد ہو نے والی جماعت بن گئے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اصل میں تمہارا خیال یہ تھا کہ رسول اور صاحبانِ ایمان اب اپنے گھر والوں تک پلٹ کر نہیں آسکتے ہیں اور اس بات کو تمہارے دلوں میں خوب سجا دیا گیا تھا اور تم نے بدگمانی سے کام لیا اور تم ہلاک ہوجانے والی قوم ہو
9 Tafsir Jalalayn
بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخر کار) تم ہلاکت میں پڑگئے
10 Tafsir as-Saadi
پس اگر ان کے دلوں میں یہی بات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استغفار ان کے لئے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انہوں نے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں تو یہ مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لئے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں: ﴿أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا﴾ ” کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔“ یعنی ان کو قتل کرکے نیست و نابود کردیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہوگئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں : (1) وہ ﴿ قَوْمًا بُورًا﴾ ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم کی بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لئے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔
11 Mufti Taqi Usmani
haqeeqat to yeh hai kay tum ney yeh samjha tha kay Rasool ( SallAllaho-alehi-wa-aalihi-wasallam ) aur doosray musalman kabhi apney ghar walon kay paas loat ker nahi ayen gay , aur yehi baat tumharay dilon ko achi maloom hoti thi , aur tum ney buray buray gumaan kiye thay , aur tum aesay log ban gaye thay jinhen barbad hona tha .