الفرقان آية ۳۵
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِيْرًا ۚ
طاہر القادری:
اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور ہم نے ان کے ساتھ (ان کی معاونت کے لئے) ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو وزیر بنایا،
English Sahih:
And We had certainly given Moses the Scripture and appointed with him his brother Aaron as an assistant.
1 Abul A'ala Maududi
ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا
2 Ahmed Raza Khan
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی اور اس کے بھائی ہارون کو وزیر کیا،
3 Ahmed Ali
اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر بنایا
4 Ahsanul Bayan
اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے ہمراہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دیا۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا
6 Muhammad Junagarhi
اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے ہمراه ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنادیا
7 Muhammad Hussain Najafi
بےشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر مقرر کیا۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنادیا
9 Tafsir Jalalayn
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا
آیت نمبر 35 تا 44
ترجمہ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات عطا کی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر (یعنی) معین بنادیا اور ہم نے دونوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری دلیلوں کو جھٹلایا ہے یعنی قبطیوں کی طرف جو کہ فرعون اور اس کی قوم ہے چناچہ (یہ دونوں) پیغام لیکر ان کے پاس گئے مگر ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تہس نہس کردیا (یعنی) پوری طرح ہلاک کردیا اور قوم نوح کا تذکرہ کیجئے جبکہ انہوں نے (تمام) رسولوں کی تکذیب کی نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے، نوح (علیہ السلام) کے ان کے درمیان زمانہ دراز تک قیام کرنے کی وجہ سے، گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کئی رسول تھے (یعنی بمنزلہ کئی رسولوں کے تھے) یا اس لئے (رُسُلْ جمع کا صیغہ استعمال کیا) کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کی تکذیب گویا کہ باقی رسولوں کی تکذیب ہے اس لئے کہ توحید کے لانے میں سب مشترک ہیں تو ہم نے ان کو غرق کردیا اور بعد کے لوگوں کے لئے نشانِ عبرت بنادیا اور ہم نے آخرت میں ظالموں کافروں کے لئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے یعنی تکلیف دہ، اس عذاب کے علاوہ جو دنیا میں ان پر نازل ہوگا اور ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا اور اصحاب الرس کا تذکرہ کیجئے،۔ رَسْ ایک کنوئیں کا نام ہے اور ان کے نبی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ شعیب تھے اور کہا گیا ہے کہ ان کے علاوہ تھے، کنوئیں کے اطراف میں بودو باش رکھتے تھے وہ کنواں ان کے اور ان کے مکانوں کے ساتھ دھنس گیا اور ان کے بیچ بیچ میں بہت سی قوموں کا یعنی عاد اور اصحاب الرس کے درمیان اور ہم نے ہر ایک کے لئے عمدہ عمدہ مضامین بیان کئے ان پر حجت قائم کرنے کے لئے ہم نے ان کو تنبیہ کے بعد ہی ہلاک کیا، پھر ہم نے ہر ایک کو پوری طرح ہلاک کردیا، ان کے اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اور وہ یعنی کفار مکہ اس بستی کے پاس سے گزرتے ہیں جس پر بدترین بارش برسائی گئی السَوْء سَاءَ کا مصدر ہے یعنی پتھروں کی بارش برسائی گئی اور وہ بستی قوم لوط کی بستیوں میں سب سے بڑی بستی (سدوم) تھی چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں کو ان کی بدفعلی کی وجہ سے ہلاک کردیا تو کیا یہ لوگ اپنے شام کے سفر میں اس (بستی) کو نہیں دیکھتے کہ عبرت حاصل کریں اور استفہام تقریری ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا اندیشہ ہی نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ ایمان نہیں لاتے اور جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کا تمسخر کرنے لگتے ہیں یعنی آپ کا مذاق بناتے ہیں، کہتے ہیں کہ کیا یہی ہیں وہ صاحب جن کا اللہ نے بزعم خویش رسول بنا کر بھیجا ہے (مرتبۂ ) رسالت سے آپ کو کمتر سمجھتے ہوئے انْ ثقیلہ سے مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے ای اَنَّہٗ اس شخص نے تو ہم کو ہمارے معبودوں سے پھیر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے تو یقیناً ہم ان سے پھرجاتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جلدی ہی ان کو معلوم ہوجائے گا جب وہ عذاب کو آخرت میں کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ کون شخص گمراہ تھے ؟ یعنی غلط راستہ پر تھا وہ یا مومنین ؟ کیا آپ نے اس شخص (کی حالت) دیکھی کہ جس نے خواہشات نفسانی یعنی پسند کی چیزوں کو اپنا معبود بنا لیا ؟ مفعول ثانی کو اہم ہونے کی وجہ سے مقدم کردیا گیا ہے اور مَنْ اِتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہٗ جملہ ہو کر رأیْتُ کا مفعول اول ہے اور اَفَاَنْتَ تکونُ علیہِ وکیلاً مفعول ثانی ہے، کیا آپ ایسے شخص کے ضامن ہوسکتے ہیں ؟ یعنی کیا آپ ایسے ہوا پرست کی اتباع ہوا سے حفاظت کی ذمہ داری لے سکتے ہیں ؟ نہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سمجھنے کے لئے سنتے ہیں یا جو آپ ان سے کہتے ہیں اسے سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ ہے راہ میں یعنی جانوروں سے بھی ان کا برا حال ہے اس لئے کہ جو شخص ان (جانوروں) کی نگہداشت کرتا ہے اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور یہ اپنے مولائے محسن کی اطاعت نہیں کرتے۔
تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد
وَلَقَدْ آتینا ای وباللہِ لَقَدْ آتینا وَزِیْرًا وِزٌرً صفت مشبہ، مددگار، ناصر، معین، قولہ : ای القبط القبط، القوم سے بدل ہونے کی وجہ سے مجرور ہے، فرعون و قومہٖ قبط کا بیان ہے۔ قولہ : فدمَّرْناھم کا عطف فَذَھَبَا الیھم محذوف پر ہے، جیسا کہ مفسر علام نے ارشاد فرمایا ہے، شارح (رح) نے قوم نوح کو اذکر فعل محذوف کا مفعول قرار دیا ہے، اور لمّا کو شرطیہ مان کر اغرقنٰھم کو جواب شرط قرار دیا ہے، اور اگر لمّا کو ظرفیہ مانا جائے تو یہ ما اضمر علی شریطۃ التفسیر کے قبیل سے بھی ہوسکتا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی اغرقنا قوم نوح لمّا کذبوا الرُّسلَ اغرقنٰھم اگر لمّا کو شرطیہ مانیں تو ما اضمر کے قبیل سے نہیں ہوگا اسلئے کہ جواب لمّا کسی کے لئے مفسر نہیں ہوا کرتا۔ (جمل)
قولہ : لطول لبثہٖ فیھم یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ کَذَّبُوْا الرُّسُلَ میں رُسُلُ کو جمع کیوں لائے ہیں حالانکہ نوح (علیہ السلام) تو ایک (واحد) ہے، شارح نے اس کے دو جواب دئیے ہیں اول یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا زمانہ اس قدر طویل ہے کہ اتنی مدت میں کئی نبی اور رسول آتے تو گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) زمانہ کے اعتبار سے کئی نبیوں کے قائم مقام ہیں، اور دوسرا جواب یہ دیا کہ تمام انبیاء توحید کے مسئلہ میں متفق ہیں اور توحید تمام انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے، لہٰذا ایک کی تکذیب وہ سب کی تکذیب ہے۔ قولہ : جَعْلنٰھم ای اغراقھم اَو قصَّتھم۔ قولہ : للظّٰلمِین وُضِعَ الظاھر موضع المضمر، تسجیلاً علیھم بوصف الظلم ورنہ تو عبارت یوں ہوتی وَاعْتَدْنَا لَھُم۔ قولہ : وکُلاًّ یہ عامل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے اور ما اضمر کے قبیل سے ہے اور ضربنا کے ہم معنی فعل کُلاًّ سے پہلے محذوف ہے، مثلاً اَنذرنا کُلاًّ ضربنَا لَہٗ الَامٌثالَ اَمثالَ ان قصص عجیبہ اور عمدہ مضامین کو کہتے ہیں جو غرابت میں امثال کے مانند ہوں۔
قولہ : مَرّوا شارح کا مقصد اس اضافہ سے ایک اعتراض کو دفع کرنا ہے، اعتراض یہ ہے کہ اَتَوْا متعدی بنفسہٖ ہوتا ہے یا پھر اس کا صلہ الیٰ آتا ہے اور یہاں اس کا صلہ علیٰ استعمال ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب یہ ہے کہ اَتَوٌا مَرُّوا کے معنی پر مشتمل ہے لہٰذا اس کا صلہ علیٰ لانا درست ہے، کما اشار الیہ الشارح۔ قولہ : مَطرَ السَّوء اُمْطِرت کا مفعول مطلق ہے معنی میں الامطار کے ہے، اصل عبارت یہ ہے اُمْطِرَتِ القومُ مَطَرَ السوءِ والسّوْء بمعنی حجارۃ ہے ای رُمِیَتْ بالحجارۃِ ۔ قولہ : مَھْزوًّا بہٖ یہ اشارہ ہے کہ ھُزُوًّا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ قولہ : لصَرَفنا عَنْھَا یہ لَوْلاَ کا جواب ہے جو محذوف ہے۔ قولہ : مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ، مَن استفہامیہ مبتداء اَضَلُّ اس کی خبر اور سَبِیْلاً اس کی تمییز، یہ سب جملہ ہو کر قائم مقام یعلمون کے دو مفعولوں کے ہے یعلمون کو عمل سے معلق کردیا گیا ہے تاکہ من استفہامیہ کی صدارت باطل نہ ہوجائے، قولہ : أرَأیتَ اخْبِرْنِیْ مَنْ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہ اہمیت کے پیش نظر مفعول ثانی کو مقدم کردیا گیا ہے، اصل عبارت یہ ہے مَنْ اِتَّخَذَ ھَوَاہُ اِلٰھًا کما تقول علمتُ منطقاً زیدًا اصل میں تھا علمت زیدًا منطلقاً ۔
تفسیر و تشریح
قولہ : الذین۔۔۔ بایتنا اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ کہ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے، یہاں تکذیب آیات سے کیا مراد ہے ؟ ظاہر ہے کہ آیات تورات تو مراد ہو نہیں سکتی، اس لئے کہ تورات کا نزول غرق فرعون کے بعد ہوا ہے، لہٰذا آیات سے مراد یا تو توحید کے دلائل عقلیہ ہیں جو پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں، جو ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق سمجھ میں آسکتے ہیں، ان میں غور نہ کرنے کو تکذیب آیات فرمایا، یا تکذیب سے مراد کتب سابقہ اور انبیاء سابقین کی تکذیب مراد ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول وقوم نوحٍ لَمّا کَذَّبُوْا الرُّسُلَ یہاں رُسُل سے مراد ایک توجیہ کے اعتبار سے انبیاء سابقین مراد ہیں جو کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے گذر چکے تھے جیسے کہ حضرت شیث (علیہ السلام) اور حضرت ادریس ( علیہ السلام) ، اسی طرح یہاں بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے انبیاء کی تکذیب مراد ہے، اور تکذیب سے مراد ان پر ایمان نہ لانا ہے۔
قومَ نوح۔۔۔۔ الرسل قوم نوح کا بہت رسولوں کو جھٹلانے سے مراد یہ ہے کہ قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے اصول دین مثلاً توحید، بعث بعد الموت و جزاء و سزاء کی تکذیب کی اور اصول دین چونکہ تمام انبیاء کے مشترک ہیں اس لئے ایک نبی کی تکذیب تمام انبیاء کی تکذیب ہے۔
اصحٰب الرس، رسّ کچے کنوئیں کو کہتے ہیں جس کی مَن پختہ نہ بنی ہو، اصحٰبُ الرس کے حالات کی تفصیل نہ تو قرآن میں مذکور ہے اور نہ صحیح احادیث میں ان کا تذکرہ ہے، اسرائیلی روایات اس میں مختلف ہیں، راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قوم ثمود کے کچھ باقی ماندہ لوگ تھے جو کسی کنوئیں کے اطراف آباد تھے اور بت پرستی کیا کرتے تھے، ان کی طرف، جس نبی کو مبعوث کیا گیا تھا ان کا نام بعض حضرات نے شعیب اور بعض نے حنظلہ بن صفوان بتایا ہے، ان کے نبی نے ان کو بہت اچھی طرح قسم قسم کی مثالیں دے کر سمجھایا مگر کسی نے نہ مانا اس کے برخلاف نبی کی ایذاء رسانی پر کمر بستہ ہوگئے جب یہ لوگ کسی طرح اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا تختہ الٹ دیا اور یہ سب کے سب مع مال و دولت اور مویشیوں کے زمین میں دھنسا دئیے گئے۔
یہ اہل مکہ ملک شام آتے جاتے قوم نوح عاد وثمود کی بستیوں کے کھنڈرات و خرابات پر ہو کر گذرتے ہیں مگر ان قوموں کے حالات سے عبرت حاصل نہیں کرتے، عبرت کہاں سے حاصل ہو ؟ جبکہ عبرت کی نظر سے ان خرابات کو دیکھتے ہی نہیں ہیں اور عبرت و نصیحت کی نظر سے تو وہ شخص دیکھتا ہے جس کو مرنے کے بعد آخرت کی زندگی کا تصور ہو، جس کے نزدیک مرنے کے بعد زندہ ہونے کا تصور ہی نہ ہو اس کو عبرت کیسے حاصل ہوسکتی ہے، عبرت حاصل کرنا تو دور کی بات ہے ان کا مشغلہ یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں، چناچہ یہ لوگ آپ کو دیکھ کر استہزاء کرتے ہوئے کہتے ہیں کیا یہی وہ بزرگ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ بھلا یہ حیثیت اور منصب رسالت ؟ کیا ساری خدائی میں یہی رسول بننے کے لئے رہ گئے تھے، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ان کی تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے، قوت فصاحت اور زور تقریر سے رنگ تو ایسا جمایا تھا کہ قریب تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ان کی تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے، قوت فصاحت اور زور تقریر سے رنگ تو ایسا جمایا تھا کہ قریب تھا کہ اس کی باتیں ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیتیں وہ تو ہم پکے ایسے تھے کہ برابر جمے رہے اور ان کی کسی بات کا اثر قبول نہ کیا ورنہ یہ ہم سب کو بھی گمراہ کرکے چھوڑتے۔ (العیاذ باللہ)
عذاب الٰہی کو جب یہ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے تب ان کو معلوم ہوگا حقیقت میں کون گمراہ تھا ؟ آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ ہدایت پر لے آنے کی کیا ذمہ داری لے سکتے ہیں جن کا معبود ہی محض خواہش ہو جدھر خواہش لے گئی ادھع منہ اٹھا کر چل دئیے جو بات خواہش کے موافق ہوئی قبول کرلی اور جو مخالف ہوئی رد کردی آج ایک پتھر اچھا معلوم ہوا سے چوجنے لگے، کل دوسرا اس سے خوبصورت مل گیا پہلے کو پھینک دیا اور دوسرے کے آگے سرجھکانے لگے۔
اَمْ تحسبُ آپ انہیں کیسی ہی نصیحتیں سنائیے یہ تو جانور ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں انہیں سننے اور سمجھنے سے کیا واسطہ، بلکہ چوپائے تو بہرحال اپنی نگہداشت کرنے والے مالک کے سامنے گردن جھکا دیتے ہیں اور اپنے محسن کو پہچانتے ہیں اس کی آواز پر دھیان دیتے ہیں، لیکن ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ نہ اپنے خالق ومالک کا حق پہچانا اور نہ اس کے احسانات کو سمجھا، اگر ذرا عقل و فہم سے کام لیتے تو اس کارکانۂ قدرت میں بیشمار نشانیاں تھیں جو نہایت واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی توحید اور تنزیہ اور اصول دین کی صداقت و حقانیت کی طرف رہبری کر رہی ہیں جن میں سے بعض نشانیوں کا ذکر آئندہ آیات میں کیا گیا ہے۔
10 Tafsir as-Saadi
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہاں ان واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کو دیگر آیات میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے، تاکہ مخاطبین کو انبیاء و رسل کی تکذیب پر جمے رہنے سے ڈرائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہوجائے جو ان سے پہلی قوموں پر نازل ہوا تھا، جو ان کے قریب ہی آباد تھیں وہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں اور ان کے واقعات بہت مشہور ہیں۔ بعض قوموں کے آثار کا وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں مثلاً حجر کے علاقے میں صالح علیہ السلام کی قوم اور وہ بستی جس پر کھنگر کے پتھروں کی بدترین بارش برسائی گئی تھی۔ ان کا اپنے سفروں کے دوران میں دن رات ان بستیوں پر گزر ہوتا ہے۔ وہ قومیں ان سے کوئی زیادہ بری نہیں تھیں اور نہ ان کے رسول ان لوگوں کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر تھے۔ ﴿ أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُولَـٰئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ ﴾ (القمر : 54؍43) ” کیا تمہارے کفر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے پہلی کتابوں میں براءت نامہ تحریر کردیا گیا ہے۔ “
جس چیز نے ان کو ایمان لانے سے روک رکھا ہے، حالانکہ وہ نشانیوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کی امید رکھتے ہیں نہ اس کی سزا سے ڈرتے ہیں۔ اسی لئے وہ اپنے عناد پر جمے ہوئے ہیں ورنہ ان کے پاس ایسی ایسی نشانیاں آئی ہیں جنہوں نے کوئی شک و شبہ اور کوئی اشکال وریب باقی نہیں رہنے دیا۔
11 Mufti Taqi Usmani
beyshak hum ney musa ko kitab di thi , aur unn kay sath unn kay bhai Haroon ko madadgaar kay tor per muqarrar kiya tha .
12 Tafsir Ibn Kathir
انبیاء سے دشمنی کا خمیازہ
اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور آپ کے مخالفین کو اپنے عذابوں سے ڈرا رہا ہے کہ تم سے پہلے کے جن لوگوں نے میرے نبیوں کی نہ مانی، ان سے دشمنی کی ان کی مخالفت کی میں نے انہیں تہس نہس کردیا۔ فرعونیوں کا حال تم سن چکے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا لیکن انہوں نے نہ مانا جس کے باعث اللہ کا عذاب آگیا اور سب ہلاک کردیئے گئے۔ قوم نوح کو دیکھو انہوں نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور چونکہ ایک رسول کا جھٹلانا تمام نبیوں کو جھٹلانا ہے اس واسطے یہاں رسل جمع کر کے کہا گیا۔ اور یہ اس لیے بھی کہ اگر بالفرض ان کی طرف تمام رسول بھی بھیجے جاتے تو بھی یہ سب کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو نوح (علیہ السلام) نبی کے ساتھ کیا۔ یہ مطلب نہیں کہ انکی طرف بہت سے رسول بھیجے گئے تھے بلکہ ان کے پاس تو صرف حضرت نوح (علیہ السلام) ہی آئے تھے جو ساڑھے نو سو سال تک ان میں رہے ہر طرح انہیں سمجھایا بجھایا لیکن سوائے معدودے چند کے کوئی ایمان نہ لایا۔ اس لئے اللہ نے سب کو غرق کردیا۔ سوائے ان کے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں تھے ایک بنی آدم روئے زمین پر نہ بچا۔ لوگوں کے لئے انکی ہلاکت باعث عبرت بنادی گئی۔ جیسے فرمان ہے کہ پانی کی ظغیانی کے وقت ہم نے تمہیں کشی میں سوار کرلیا تاکہ تم اسے اپنے لئے باعث عبرت بناؤ اور کشتی کو ہم نے تمہارے لیے اس طوفان سے نجات پانے اور لمبے لمبے سفر طے کرنے کا ذریعہ بنادیا تاکہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد رکھو کہ اس نے عالمگیر طوفان سے تمہیں بچالیا اور ایماندار اور ایمان داروں کی اولاد میں رکھا۔ عادیوں اور ثمودیوں کا قصہ تو بارہا بیان ہوچکا ہے جیسے کہ سورة اعراف وغیرہ میں اصحاب الرس کی بابت ابن عباس (رض) ما کا قول ہے کہ یہ ثمودیوں کی ایک بستی والے تھے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں یہ خلیج والے تھے جن کا ذکر سورة یاسین میں ہے۔ ابن عباس (رض) سے یہ بھی مروی ہے کہ آذر بائی جان کے ایک کنویں کے پاس ان کی بستی تھی۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ ان کو کنویں والے اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں ڈال دیا تھا۔ ابن اسحاق (رح) محمد بن کعب (رح) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک سیاہ فام غلام سب سے اول جنت میں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کی طرف اپنا نبی بھیجا تھا لیکن ان بستی والوں میں سے بجز اس کے کوئی بھی ایمان نہ لایا بلکہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ایک غیر آباد کنویں میں ویران میدان میں ڈالدیا اور اس کے منہ پر ایک بڑی بھاری چٹان رکھ دی کہ یہ وہیں مرجائیں۔ یہ غلام جنگل میں جاتا لکڑیاں کاٹ کر لاتا انہیں بازار میں فروخت کرتا اور روٹی وغیرہ خرید کر کنویں پر آتا اس پتھر کو سرکا دیتا۔ یہ ایک رسی میں لٹکا کر روٹی اور پانی اس پیغمبر (علیہ السلام) کے پاس پہنچا دیتا جسے وہ کھاپی لیتے۔ مدتوں تک یونہی ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ یہ گیا لکڑیاں کاٹیں، چنیں، جمع کیں، گھٹری باندھی، اتنے میں نیند کا غلبہ ہوا، سوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نیند ڈال دی۔ سات سال تک وہ سوتا رہا۔ سات سال کے بعد آنکھ کھلی، انگڑائی لی اور کروٹ بدل کر پھر سو رہا۔ سات سال کے بعد پھر آنکھ کھلی تو اس نے لکڑیوں کی گھٹڑی اٹھائی اور شہر کی طرف چلا۔ اسے یہی خیال تھا کہ ذرا سی دیر کے لئے سوگیا تھا۔ شہر میں آکر لکڑیاں فروخت کیں۔ حسب عادت کھانا خریدا اور وہیں پہنچا۔ دیکھتا ہے کہ کنواں تو وہاں ہے ہی نہیں بہت ڈھونڈا لیکن نہ ملا۔ درحقیقت اس عرصہ میں یہ ہوا تھا کہ قوم کے دل ایمان کی طرف راغب ہوئے، انہوں نے جاکر اپنے نبی کو کنویں سے نکالا۔ سب کے سب ایمان لائے پھر نبی فوت ہوگئے۔ نبی (علیہ السلام) بھی اپنی زندگی میں اس غلام کو تلاش کرتے رہے لیکن اس کا پتہ نہ چلا۔ پھر اس شخص کو نبی کے انتقال کے بعد اس کی نیند سے جگایا گیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں پس یہ حبشی غلام ہے جو سب سے پہلے جنت میں جائے گا۔ یہ روایت مرسل ہے اور اس میں غرابت ونکارت ہے اور شاید ادراج بھی ہے واللہ اعلم۔ اس روایت کو ان اصحاب رس پر چسپاں بھی نہیں کرسکتے اس لئے کہ یہاں مذکور ہے کہ انہین ہلاک کیا گیا۔ ہاں یہ ایک توجیہہ ہوسکتی ہے کہ یہ لوگ تو ہلاک کردئیے گئے پھر ان کی نسلیں ٹھیک ہوگئیں اور انہیں ایمان کی توفیق ملی۔ امام ابن جریر رحمۃ اللہ کا فرمان ہے کہ اصحاب رس وہی ہے جن کا ذکر سورة بروج میں ہے جنہوں نے خندقیں کھدائی تھیں۔ واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ اور بھی ان کے درمیان بہت سی امتیں آئیں جو ہلاک کردی گئیں۔ ہم نے ان سب کے سامنے اپنا کلام بیان کردیا تھا۔ دلیلیں پیش کردی تھیں۔ معجزے دکھائے تھے، عذر ختم کردئے تھے پھر سب کو غارت اور برباد کردیا۔ جیسے فرمان ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد کی بھی بہت سی بستیاں ہم نے غارت کردیں۔ قرن کہتے ہیں امت کو۔ جیسے فرمان ہے کہ ان کے بعد ہم نے بہت سی قرن یعنی امتیں پیدا کیں۔ قرن کی مدت بعض کے نزدیک ایک سو بیس سال ہے کوئی کہتا ہے سو سال کوئی کہتا ہے اسی سال کوئی کہتا ہے چالیس سال اور بھی بہت سے قول ہیں۔ زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ ایک زمانہ والے ایک قرن ہیں جب وہ سب مرجائیں تو دوسرا قرن شروع ہوتا ہے۔ جیسے بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سب سے بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ سدوم نامی بستی کے پاس سے تو یہ عرب برابر گزرتے رہتے ہیں۔ یہیں لوطی آباد تھے۔ جن پر زمین الٹ دی گئی اور آسمان سے پھتر برسائے گئے اور برا مینہ ان پر برسا جو سنگلاخ پتھروں کا تھا۔ یہ دن رات وہاں سے آمدو رفت رکھتے پھر بھی عقلمندی کا کام نہیں لیتے۔ یہ بستیاں تو تمہاری گزرگاہیں ہیں ان کے واقعات مشہور ہیں کیا تم انہیں نہیں دیکھتے ؟ یقینا دیکھتے ہو لیکن عبرت کی آنکھیں ہی نہیں کہ سمجھ سکو اور غور کرو کہ اپنی بدکاریوں کی وجہ سے وہ اللہ کے عذابوں کے شکار ہوگئے۔ بس انہیں اڑادیا گیا بےنشان کردئے گئے۔ بری طرح دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ اسے سوچے تو وہ جو قیامت کا قائل ہو۔ لیکن انہیں کیا عبرت حاصل ہوگی جو قیامت ہی کے منکر ہیں۔ دوبارہ زندگی کو ہی محال جانتے ہیں۔