٢٠٩۔١ یعنی ارسال رسل اور انزار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو ہلاک کر دیتے تو یہ ظلم ہوتا، تاہم ہم نے ایسا ظلم نہیں کیا بلکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہم نے پہلے ہر بستی میں رسول بھیجے، جنہوں نے اہل بستی کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور اس کے بعد جب انہوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو ہم نے انہیں ہلاک کیا۔ یہی مضمون بنی اسرائیل۔ ١٥ اور قصص۔٥٩ وغیرہ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں
6 Muhammad Junagarhi
نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں
7 Muhammad Hussain Najafi
نصیحت اور یاد دہانی کیلئے! اور ہم کبھی ظالم نہیں تھے۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
یہ ایک یاد دہانی تھی اور ہم ہرگز ظلم کرنے والے نہیں ہیں
9 Tafsir Jalalayn
تاکہ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں
10 Tafsir as-Saadi
اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انہیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں، انہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں، انہیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں، وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں۔ ﴿ ذِكْرَىٰ ﴾ ” نصیحت“ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لئے یا ددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴾ ” اور ہم ظلم کرنے والے نہیں۔“ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کردیں، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انہیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا ﴾ ( بنی اسرائیل : 17؍15) ” اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لئے ایک رسول نہ بھیج دیں۔“ ﴿ رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ﴾ (النساء: 4؍165) ’’تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔ “
11 Mufti Taqi Usmani
takay woh naseehat keren , aur hum aesay to nahi hain kay zulm keren .