آل عمران آية ۲۱
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّۙ وَّيَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَأْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَ لِيْمٍ
طاہر القادری:
یقینا جو لوگ اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور انبیاءکو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے بھی انہیں قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں سو آپ انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں،
English Sahih:
Those who disbelieve in the signs of Allah and kill the prophets without right and kill those who order justice from among the people – give them tidings of a painful punishment.
1 Abul A'ala Maududi
جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو
2 Ahmed Raza Khan
وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو درناک عذاب کی،
3 Ahmed Ali
بے شک جولوگ الله کے حکموں کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں سو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیے
4 Ahsanul Bayan
جو لوگ اللہ تعالٰی کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اور ناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں (١) تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔
٢١۔١ یعنی ان کی سرکشی و بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی انہوں نے ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان تک کو بھی قتل کر ڈالا جو عدل و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مومنین مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ نبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالٰی نے ان کی عظمت و فضیلت بھی واضح کر دی۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو
6 Muhammad Junagarhi
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اورناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل وانصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں، تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبردے دیجئے
7 Muhammad Hussain Najafi
جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں انہیں دردناک عذاب کا مژدہ سناؤ۔
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
جو لوگ آیات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں اور ناحق انبیائ کو قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دینے والے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خبرصَنادیجئے
9 Tafsir Jalalayn
جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو
آیت نمبر ٢١ تا ٣٠
ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالتے ہیں اور ایک قراءت میں ” یُقَاتِلُوْنَ “ ہے اور ان لوگوں کو جو انصاف کا حکم دیتے ہیں مار ڈالتے ہیں، اور وہ یہود ہیں، روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے تینتالیس نبیوں کا قتل کیا ہے، ان کو ایک سو ستر بنی اسرائیل کے عابدوں نے منع کیا تو ان کو بھی اسی دن قتل کردیا، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیدیجئے (بجائے خبر کے) خوشخبری کا ذکر ان کے ساتھ مذاق کے طور پر ہے اور اِنَّ کی خبر ہے فاء داخل ہوئی ہے اس کے اسم موصول کے شرط کے ساتھ مشابہ ہونے کی وجہ سے، یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال دنیا و آخرت میں (یعنی) صدقہ اور صلہ رحمی کے طور ہر انہوں نے جو اعمال کئے وہ سب اکارت ہوگئے لہٰذا شرط نہ پائی جانے کی وجہ سے وہ کسی شمار میں نہیں اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا (یعنی) ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب تورات کا ایک حصہ دیا گیا تھا ان کو بلایا جاتا ہے (یُدْعَوْنَ ، اَلَّذِیْنَ ) سے حال ہے تاکہ وہ کتاب ان کے درمیان فیصلہ کرے پھر ان میں سے ایک فریق بےرخی کرتے ہوئے اس کا حکم قبول کرنے سے منہ پھیر لیتا ہے۔ (آئندہ آیت) یہود کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ ان میں سے دو شخصوں نے زنا کیا تو وہ اپنا مقدمہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے گئے تو آپ نے ان پر رجم کا فیصلہ فرمایا، تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا، تو تورات لائی گئی تو اس میں رجم کا حکم پایا گیا۔ چناچہ ان دونوں کو رجم کردیا گیا، تو یہود ناراض ہوگئے، یہ اعراض اور روگردانی اس وجہ سے تھی کہ ان کا کہنا تھا کہ ہم کو آگ چند دن چھوئے گی جو کہ چالیس دن ہیں اور یہ وہ مدت ہے کہ جس میں ان کے آباء نے گائے پرستی کی تھی، پھر ان سے زائل ہوجائے گی (یعنی نجات پاجائیں گے) اور ان کو ان کے دین کے بارے میں ان کے تراشے ہوئے قول ” لَنْ تمَسَّنَا النَّارُ “ نے دھوکے میں ڈال دیا تھا، فی دینھم کا تعلق ما کانوا یفترون سے ہے، تو ان کا کیا حال ہوگا ؟ جب ہم ان کو اس دن میں جمع کریں گے کہ جس کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے، وہ قیامت کا دن ہے۔ اور ہر شخص کو خواہ اہل کتاب سے ہو یا غیر اہل کتاب سے، ان کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزاء دی جائے گی اور لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے گا نیکیوں میں کمی کرکے اور برائیوں میں اضافہ کرکے۔ اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی امت سے ملک فارس اور روم کے فتح ہونے کی پیشین گوئی فرمائی تو منافقوں نے کہا یہ بات بہت بعید ہے آپ کہیے اے سارے جہانوں کے مالک اللّٰھم بمعنیٰ یا اللہ تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے ملک عطاء کرے اور جس سے چاہے چھین لے اور جس کو چاہے ملک دے کر عزت دے اور جس کو چاہے چھین کر ذلت دے تیرے ہی قبضہ قدرت میں خیر و شر ہے، بلا شبہ تو ہی ہر شیئ پر قادر ہے، رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ہر ایک میں سے جو مقدار کم ہوتی ہے وہ دوسرے میں زائد ہوجاتی ہے اور تو جاندار کو بےجان سے مثلاً انسان اور پرندے کو نطفہ اور انڈے سے اور بےجان کو مثلاً نطفہ اور انڈے کو جاندار سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے یعنی وسعت کے ساتھ رزق دیتا ہے، مومنوں کو چاہیے کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں کہ مومنین کو چھوڑ کر ان سے محبت کرنے لگیں۔ اور جو شخص ایسا کرے گا یعنی ان سے (دلی) دوستی کرے گا تو وہ اللہ کے دین کے بارے میں کسی شمار میں نہیں مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے اندیشہ (ضرر) رکھتے ہو تُقٰۃ، تقیۃ، کا مصدر ہے، یعنی اگر تم ان سے کسی قسم کے ضرر کا خوف رکھتے ہو تو تم کو ان سے زبانی دوستی کی اجازت ہے نہ کہ دلی دوستی کی، اور یہ حکم اسلام کے غلبہ سے قبل کا ہے، اور مذکورہ حکم اس کے لیے بھی ہے جو کسی ایسے شہر میں ہو کہ اسلام اس میں میں قوی نہیں ہے، اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے یہ کہ وہ تم سے ناراض ہوگا اگر تم ان سے (دلی) دوستی کرو گے اور اللہ کی طرف آنا ہے، تو وہ تم کو جزا دے گا، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ان کی دوستی جو تمہارے دلوں میں ہے خواہ اس کو چھپاؤ یا اس کو ظاہر کرو اللہ اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب کو) جانتا ہے، اور اللہ ہر شئ پر قادر ہے، اور ان ہی میں سے کافروں سے دوستی کرنے والے کو سزا دینا بھی ہے، جس دن ہر شخص اپنے نیک و بد اعمال کو موجود پائے گا (ما عملت مِن سوءٍ ) مبتداء خبر ہیں۔ وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس (قیامت کے) دن کے درمیان مسافت بعید ہوتی کہ وہ اس تک نہ پہنچ سکتا، اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے تاکید کے لیے مکرر لائے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفقت کرنے و الا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَفِیْ قِرَاء ۃِ یُقَاتِلُوْنَ ، بہتر ہوتا کہ مفسر علام اس اختلاف کو بعد والے یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ کے بعد، ذکر کرتے، اس لیے کہ مذکورہ اختلاف ثانی یَقْتُلُوْنَ میں ہے نہ کہ اول میں۔ (جمل)
قولہ : یُدْعَوْنَ ، حَالٌ، یُدْعَوْنَ ، اَلَّذِیْنَ سے حال ہے نہ کہ صفت اس لیے کہ جملہ، معرفہ کی صفت نہیں ہوسکتا۔
قولہ : ای الناس الناس کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : ھُمْ ، ضمیر نَفْسٌ، کی طرف راجع ہے جو کہ مونث سماعی ہے لہٰذا مرجع و ضمیر میں مطابقت نہیں ہے۔
جواب : ھم ضمیر الناس کی طرف راجع ہے جو کہ نفس سے مفہوم ہے۔
قولہ : یا اللہ، اَللّٰھُمَّ ، کی تفسیر یا اللہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ اللّٰھُمَّ میں الف لام، یا حرف ندا کے عوض میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ اللہ پر دونوں بیک وقت داخل نہیں ہوتے۔
قولہ : رزقًا واسعاً ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ کوئی بھی رزق غیر معلوم الحساب (بےشمار) نہیں ہے خاص طور ہر اس لیے کہ اللہ کے علم میں ہر چیز معلوم و محسوس ہے، تو اس کا جواب دیا ہے بغیر حساب سے مراد وسیع اور کثیر ہے۔
قولہ : یُوَالُوْنَھُمْ ، اس میں اشارہ کہ اَوْلِیاء، ولی بمعنی محبت سے ماخوذ ہے نہ کہ بمعنی استعانت سے۔
قولہ : تُقٰۃً (تُقَاۃ) یہ تَقْیۃٌ کا مصدر مفعول مطلق ہے بچنا حفاظت کرنا۔ تُقٰۃٌ اصل میں وُقْیَۃ واؤ کو تاء سے بدلا اور یاء کو الف سے اور تاء کو حذف واؤ پر دلالت کرنے کے لیے ضمہ دیدیا۔ (اعراب القرآن متصرفا)
قولہ : اَنْ یَغْضَبَ عَلَیْکُمْ ۔ اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ای غضب نفسہٖ یہ ان لوگوں پر رد ہے جنہوں نے تقٰۃ کو مفعول قرار دیا ہے، اس لیے کہ مفعول مجاز ہے اور مجاز بلا ضرورت جائز نہیں اور یہاں کوئی ضرورت نہیں۔
قولہ ؛ مبتداء خبرہ تَوَدُّ ، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وَمَا عَمِلَتْ کا عطف تجد کے معمول پر نہیں ہے بلکہ مبتداء ہے اور اس کی خبر یَوَدُّ ہے اس لیے کہ اس صورت میں تَوَدُّ عملت کی ضمیر سے حال ہوگا اور عدم معاونت کی وجہ سے حال واقع ہونا صحیح نہیں ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ، اس میں استعارہ تبعیہ ہے، اخبار بالعذاب کو بشارت سے تشبیہ دی ہے مشبہ بہ کو مشبہ کے لیے مستعار لیا ہے پھر بشارۃ سے بَشِّرْ مشتق کیا۔ تخرج الحیّ مِنَ المیت وتخرج المیتَ من الحیّ ۔ اس آیت میں استعارہ تصریحیہ ہے جب کہ حی ومیت سے مسلم و کافر مراد ہیں، مشبہ کو حذف کردیا اور مشبہ بہ کو باقی رکھا، اور اگر نطفہ اور بیضہ مراد ہوں تو کلام اپنی حقیقت پر ہوگا۔ اِلَّا اَنْ تتقُوا، اس میں التفات من الغیبۃ الی الخطاب ہے اگر سابقہ طریقہ پر کلام ہوتا تو اِلاّ أن یتَّقُوا ہوتا۔
تفسیر و تشریح
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِآیَاتِ اللہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْرِ حَقٍّ ۔ یعنی ان کی سرکشی اور بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان کو بھی قتل کر ڈالا جو حق و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مونین و مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
فَبِشِّرْھُمْ بِّعَذَابٍ اَلِیْمٍ ، یہ طنزیہ انداز بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اپنے جن کرتوتوں پر وہ آج بہت خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھے کام کر رہے ہیں انہیں بتادو کہ تمہارے ان اعمال کا انجام یہ ہے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتَابِ (الآیۃ) ان اہل کتاب سے مراد مدینہ کے وہ یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اور وہ اسلام اور مسلمانوں اور نبی کے خلاف مکرو سازش میں مصروف رہے حتی کہ ان کے دو قبیلے جلاوطن اور ایک قبیلہ قتل کردیا گیا۔
10 Tafsir as-Saadi
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی خبر دی ہے، عظیم ترین جرائم کے مرتکب ہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی ان آیات کا انکار کیا جائے جو اس حق کا قطعی ثبوت پیش کرتی ہیں، جس کا انکار کرنے والا انتہائی درجے کے کفر و عناد میں مبتلا ہے۔ وہ اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے ہیں جن کا حق اللہ کے حق کے بعد سب سے بڑا ہے، جن کی اطاعت کرنا، ان پر ایمان لانا، ان کا احترام کرنا اور ان کی مدد کرنا، اللہ نے فرض قرار دیا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے بالکل برعکس عمل کیا۔ وہ انصاف کا حکم دینے والوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔ انصاف سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے جو احسان اور خیر خواہی ہے ان لوگوں کی، جنہیں اچھی بات بتائی جاتی ہے یا بری بات سے منع کیا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے اس احسان اور خیر خواہی کا انتہائی برا جواب دیا کہ اپنے محسنوں کو شہید کردیا۔ ان شنیع جرائم کی وجہ سے وہ انتہائی سخت عذاب کے مستحق ہوگئے۔ یعنی ایسا شدید اور درد ناک عذاب جس کو پوری طرح بیان کرنا، اور اس کی شدت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے۔ جس کی تکلیف بدنوں، دلوں اور روحوں کے لئے ہے۔ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی نیکیاں ضائع ہوگئیں۔ انہیں کوئی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، بلکہ اللہ کی دی ہوئی سزا میں کوئی ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ ہر خیر سے مایوس ہیں۔ انہیں ہر شر اور مصیبت حاصل ہوگی۔ یہ حالت یہود کی، اور ان جیسے دوسرے لوگوں کی ہے۔ اللہ ان کا برا کرے۔ یہ اللہ پر، نبیوں پر اور نیک لوگوں پر کتنے جری ہیں !
11 Mufti Taqi Usmani
jo log Allah ki aayaton ko jhutlatay hain aur nabiyon ko nahaq qatal kertay hain , aur insaf ki talqeen kernay walay logon ko bhi qatal kertay hain , unn ko dardnak azab ki khushkhabri " suna do .
12 Tafsir Ibn Kathir
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل
یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کردیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا ہو تکبر و غرور ہے، پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے ابو عبیدہ بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے، ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کردیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لئے تیار ہیں، اسی لئے فرمایا کہ انہیں دردناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو ، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہوگا۔