کیا یہ (شخص) تم سے یہ وعدہ کر رہا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور تم مٹی اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم (دوبارہ زندہ ہو کر) نکالے جاؤ گے،
English Sahih:
Does he promise you that when you have died and become dust and bones that you will be brought forth [once more]?
1 Abul A'ala Maududi
یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاؤ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اُس وقت تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے؟
2 Ahmed Raza Khan
کیا تمہیں یہ وعدہ دیتا ہے کہ تم جب مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے اس کے بعد پھر نکالے جاؤ گے،
3 Ahmed Ali
کیا تمہیں وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اورمٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے
4 Ahsanul Bayan
کیا یہ تمہیں اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر کر صرف خاک اور ہڈی رہ جاؤ گے تو تم پھر زندہ کیے جاؤ گے۔
5 Fateh Muhammad Jalandhry
کیا یہ تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی ہو جاؤ گے اور استخوان (کے سوا کچھ نہ رہے گا) تو تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے
6 Muhammad Junagarhi
کیا یہ تمہیں اس بات کا وعده کرتا ہے کہ جب تم مرکر صرف خاک اور ہڈی ره جاؤ گے تو تم پھر زنده کئے جاؤ گے
7 Muhammad Hussain Najafi
کیا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر جاؤگے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤگے تو پھر تم (قبروں سے) نکالے جاؤگے؟
8 Syed Zeeshan Haitemer Jawadi
کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور ہڈی ہوجاؤ گے تو پھر دوبارہ نکالے جاؤ گے
9 Tafsir Jalalayn
کیا یہ تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی ہوجاؤ گے اور اس تخوان (کے سوا کچھ نہ رہے گا) تو تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے
10 Tafsir as-Saadi
چونکہ انہوں نے رسول کی رسالت کا انکار کر کے اسے رد کردیا تھا، اس لیے انہوں نے زندگی بعد موت اور اعمال کی جزا و سزا کا بھی انکار کردیا، چنائچہ انہوں نے کہا: ﴿ أَيَعِدُكُمْ أَنَّكُمْ إِذَا مِتُّمْ وَكُنتُمْ تُرَابًا وَعِظَامًا أَنَّكُم مُّخْرَجُونَ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ﴾ یعنی تمہارے ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی اور ہڈیاں بن کر بکھر جانے کے بعد تمہارے دوبارہ زندہ کئے جانے کا جو وعدہ یہ رسول تمہارے ساتھ کرتا ہے وہ بہت بعید ہے۔ پس انہوں نے انتہائی کو تاہ بینی کا ثبوت دیا اور انہوں نے اپنی طاقت اور قدرت کے مطابق اسے ناممکن سمجھا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلند تر ہے۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کیا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کو عاجز اور بے بس ٹھہرایا اور خود اپنی پہلی پیدائش کو بھول گئے حالانکہ وہ ہستی جو ان کو عدم سے وجود میں لائی ہے، اس کے لیے ان کے مرنے اور بوسیدہ ہوجانے کے بعد، دوبارہ پیدا کرنا آسان تر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے دونوں بار پیدا کرنا نہایت آسان ہے۔ پس وہ اپنی پہلی تخلیق کا اور محسوس چیزوں کا انکار کیوں نہیں کرتے، نیز وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم ہمیشہ سے موجود ہیں تاکہ ان کے لیے انکار قیامت آسان ہوتا اور ان کے پاس خالق عظیم کے وجود کے اثبات کے خلاف حجت ہوتی۔ یہاں ایک اور دلیل بھی ہے۔۔۔۔ وہ ہستی جو زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرتی ہے وہی ہستی مردوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے گی بلاشبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور دلیل بھی ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے زندگی بعد الموت کے منکرین کو جواب دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿ بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ذَٰلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ﴾ (ق: 50؍2، 3) ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس، انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا، تو کافروں نے کہا۔ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے کیا جب ہم مر کر مًٹی ہوجائیں گے۔ ( تو پھر زندہ ہوں گے؟) یہ زندگی تو بہت ہی بعید بات ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ﴾ (ق 50؍4) ” ان کے اجساد کو زمین کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہمیں اس کا علم ہے اور ہمارے پاس محفوظ رکھنے والی ایک کتاب موجود ہے۔ “
11 Mufti Taqi Usmani
bhala batao yeh shaks tumhen darata hai kay jab tum mar-jao gay , aur mitti aur haddiyon mein tabdeel hojao gay , to tumhen dobara zameen say nikala jaye ga-?