Skip to main content

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَاۤءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَۙ

وَلَوْ
اور اگر
فَتَحْنَا
کھول دیں ہم
عَلَيْهِم
ان پر
بَابًا
ایک دروازہ
مِّنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
فَظَلُّوا۟
تو وہ لگتے۔ شروع ہوتے
فِيهِ
اس میں
يَعْرُجُونَ
چڑھنے لگتے۔ چڑھ جاتے

تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین:

اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے

ابوالاعلی مودودی Abul A'ala Maududi

اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے

احمد رضا خان Ahmed Raza Khan

اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں کہ دن کو اس میں چڑھتے،

احمد علی Ahmed Ali

اور اگر ہم ان پر آسمان سے دروازہ کھول دیں پھراس میں سے چڑھ جائیں

أحسن البيان Ahsanul Bayan

اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازہ کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں۔

جالندہری Fateh Muhammad Jalandhry

اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں

محمد جوناگڑھی Muhammad Junagarhi

اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں

محمد حسین نجفی Muhammad Hussain Najafi

اور اگر ہم ان پر آسمان کا ایک دروازہ کھول دیں جس سے وہ دن دہاڑے چڑھنے لگیں۔

علامہ جوادی Syed Zeeshan Haitemer Jawadi

ہم اگر آسمان میں ان کے لئے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ لوگ دن دھاڑے اسی دروازے سے چڑھ جائیں

طاہر القادری Tahir ul Qadri

اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ (بھی) کھول دیں (اور ان کے لئے یہ بھی ممکن بنا دیں کہ) وہ سارا دن اس میں (سے) اوپر چڑھتے رہیں،

تفسير ابن كثير Ibn Kathir

ان کی سرکشی، ضد، ہٹ، خود بینی اور باطل پرستی کی تو یہ کیفیت ہے کہ بالفرض اگر ان کے لئے آسمان کا دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں وہاں چڑھا دیا جائے تو بھی یہ حق کو حق کہہ کر نہ دیں گے بلکہ اس وقت بھی ہانک لگائیں گے کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے، آنکھیں بہکا دی گئی ہیں، جادو کردیا گیا ہے، نگاہ چھین لی گئی ہے، دھوکہ ہو رہا ہے، بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔