Skip to main content

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۗ

فَرَّتْ
بھاگے ہوں
مِن
ڈر کر
قَسْوَرَةٍۭ
شیر سے

جو شیر سے بھاگ کھڑے ہوئے ہیں،

تفسير

بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِىٴٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ۙ

بَلْ
بلکہ
يُرِيدُ
چاہتا ہے
كُلُّ
ہر
ٱمْرِئٍ
شخص
مِّنْهُمْ
ان میں سے
أَن
کہ
يُؤْتَىٰ
وہ دیا جائے
صُحُفًا
صحیفے
مُّنَشَّرَةً
کھلے۔ نشر کیے ہوئے

بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اُسے (براہِ راست) کھلے ہوئے (آسمانی) صحیفے دے دئیے جائیں،

تفسير

كَلَّا ۗ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ ۗ

كَلَّاۖ
ہرگز نہیں
بَل
بلکہ
لَّا
نہیں
يَخَافُونَ
وہ خوف رکھتے
ٱلْءَاخِرَةَ
آخرت کا

ایسا ہرگز ممکن نہیں، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) وہ لوگ آخرت سے ڈرتے ہی نہیں،

تفسير

كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ ۚ

كَلَّآ
ہرگز نہیں
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
تَذْكِرَةٌ
ایک نصیحت ہے

کچھ شک نہیں کہ یہ (قرآن) نصیحت ہے،

تفسير

فَمَنْ شَاۤءَ ذَكَرَهٗ ۗ

فَمَن
پس جو کوئی
شَآءَ
چاہے
ذَكَرَهُۥ
نصیحت حاصل کرے اس سے۔ یاد کرلے اس کو

پس جو چاہے اِسے یاد رکھے،

تفسير

وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَاۤءَ اللّٰهُ ۗ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ

وَمَا
اور نہ وہ
يَذْكُرُونَ
نصیحت پکڑیں گے
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يَشَآءَ
چاہے
ٱللَّهُۚ
اللہ
هُوَ
وہ
أَهْلُ
حق دار ہے
ٱلتَّقْوَىٰ
اس بات کا کہ اس سے تقوی کیا جائے
وَأَهْلُ
اور اہل ہے
ٱلْمَغْفِرَةِ
بخشش دینے کا۔ معاف کردینے کا

اور یہ لوگ (اِسے) یاد نہیں رکھیں گے مگر جب اللہ چاہے گا، وُہی تقوٰی (و پرہیزگاری) کا مستحق ہے اور مغفرت کا مالک ہے،

تفسير