Skip to main content
ARBNDEENIDTRUR

وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ

وَ
اور
اتَّقُوْا
اس دن سے
يَوْمًا
تم لوٹائے جاؤ گے
تُرْجَعُوْنَ
اس میں
فِيْهِ
اللہ کی طرف
اِلَى اللّٰهِ ۼ
پھر
ثُمَّ
پورا پورا دیا جائے گا
تُوَفّٰى
ہر
كُلُّ
شخص کو
نَفْسٍ
جو
مَّا
اس نے کمائی کی
كَسَبَتْ
اور
وَ
وہ
ھُمْ
ظلم نہ کیے جائیں گے
لَا يُظْلَمُوْنَ
ظلم نہ کیے جائیں گے

اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا

تفسير

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ ۗ وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ ۖ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْيَكْتُبْ ۚ وَلْيُمْلِلِ الَّذِىْ عَلَيْهِ الْحَـقُّ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـــًٔا ۗ فَاِنْ كَانَ الَّذِىْ عَلَيْهِ الْحَـقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ بِالْعَدْلِ ۗ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاۤءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰٮهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰٮهُمَا الْاُخْرٰى ۗ وَ لَا يَأْبَ الشُّهَدَاۤءُ اِذَا مَا دُعُوْا ۗ وَلَا تَسْـــَٔمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ ۗ ذٰ لِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰۤى اَ لَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْرُوْنَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَ لَّا تَكْتُبُوْهَاۗ وَاَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَايَعْتُمْ ۖ وَلَا يُضَاۤرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ ۗ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌ ۢ بِكُمْ ۗ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ ۗ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ ۗ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ

يٰٓاَيُّهَا
اے
الَّذِيْنَ
لوگو
اٰمَنُوْٓا
جو ایمان لائے ہو
اِذَا
جب
تَدَايَنْتُمْ
تم باہم لین دین کرو
بِدَيْنٍ
قرض کا
اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى
تک وقت مقررہ۔ طے شدہ (مقررہ وقت تک)
فَاكْتُبُوْهُ ۭ
تو لکھا کرو اس کو۔ تو لکھ لیا کرو اس کو
وَ
اور
لْيَكْتُبْ
چاہیے کہ لکھے
بَّيْنَكُمْ
تمہارے درمیان
كَاتِبٌۢ
لکھنے والا
وَ
نہ
لَا
انکار کرے
يَاْبَ
لکھنے والا
كَاتِبٌ
کہ
اَنْ
وہ لکھے
يَّكْتُبَ
جیسا کہ
كَمَا
سکھا دیا اس کو
عَلَّمَهُ
اللہ نے
اللّٰهُ
پس چاہیے کہ وہ لکھے
فَلْيَكْتُبْ ۚ
اور
وَ
چاہیے کہ املاء کرے
لْيُمْلِلِ
وہ شخص
الَّذِيْ
جس پر
عَلَيْهِ
حق ہے (مقروض ہے)
الْحَقُّ
اور
وَ
چاہیے کہ
لْيَتَّقِ
اللہ سے
اللّٰهَ
جو رب ہے اس کا
رَبَّهٗ
اور
وَ
نہ
لَا
کمی کرے
يَبْخَسْ
اس سے
مِنْهُ
کسی چیز کی
شَـيْــــًٔـا ۭ
پھر اگر
فَاِنْ
ہو
كَانَ
وہ شخص (یعنی مقروض)
الَّذِيْ
اوپر اس کے
عَلَيْهِ
حق ہے
الْحَقُّ
بےوقوف۔ کم عقل
سَفِيْهًا
یا
اَوْ
کمزور
ضَعِيْفًا
یا
اَوْ
نہیں
لَا
وہ استطاعت رکھتا
يَسْتَطِيْعُ
کہ
اَنْ
املاء کرے
يُّمِلَّ
وہ
ھُوَ
پس چاہیے کہ املاء کرے
فَلْيُمْلِلْ
سرپرست اس کا
وَلِيُّهٗ
عدل کے ساتھ
بِالْعَدْلِ ۭ
اور
وَ
گواہ بنالیا کرو
اسْتَشْهِدُوْا
دو گواہ
شَهِيْدَيْنِ
سے
مِنْ
اپنے مردو (میں سے)
رِّجَالِكُمْ ۚ
پھر اگر
فَاِنْ
نہ
لَّمْ
وہ دو ہوں
يَكُوْنَا
دو مرد
رَجُلَيْنِ
تو ایک مرد
فَرَجُلٌ
اور
وَّ
دو عورتیں
امْرَاَتٰنِ
اس میں سے جو
مِمَّنْ
تم پسند کرتے ہو
تَرْضَوْنَ
گواہوں میں سے
مِنَ الشُّهَدَاۗءِ
اس لیے کہ۔ مبادا کہ
اَنْ
بھول جائے گی
تَضِلَّ
ان دونوں میں سے ایک
اِحْدٰىھُمَا
تو یاد دہانی کرادے
فَتُذَكِّرَ
ان دونوں میں سے ایک
اِحْدٰىهُمَا
دوسری کو
الْاُخْرٰى ۭ
اور
وَ
نہ
لَا
انکار کریں
يَاْبَ
گواہ
الشُّهَدَاۗءُ
جب بھی۔ جہاں بھی
اِذَا مَا
وہ بلائے جائیں
دُعُوْا ۭ
اور
وَ
نہ
لَا
تم سستی کرو
تَسْــَٔـــمُوْٓا
کہ
اَنْ
تم لکھ لو اس کو
تَكْتُبُوْهُ
چھوٹا ہو
صَغِيْرًا
یا
اَوْ
بڑا ہو
كَبِيْرًا
طرف اس کے مقرر وقت کے
اِلٰٓى اَجَلِهٖ ۭ
یہ بات
ذٰلِكُمْ
زیادہ انصاف والی ہے
اَقْسَطُ
اللہ کے نزدیک
عِنْدَ اللّٰهِ
اور
وَ
زیادہ درست رکھنے والی ہے
اَقْوَمُ
گواہی کے لیے
لِلشَّهَادَةِ
اور
وَ
زیادہ قریب ہے
اَلَّا
تم شک میں مبتلا ہوجاؤ
تَرْتَابُوْٓا
مگر
اِلَّآ
کہ
اَنْ
ہو
تَكُـوْنَ
تجارت۔ سودا
تِجَارَةً
حاضر۔ دست بدست
حَاضِرَةً
تم لین دین کرتے ہو اس کا
تُدِيْرُوْنَهَا
آپس میں
بَيْنَكُمْ
تو نہیں ہے
فَلَيْسَ
تم پر
عَلَيْكُمْ
کوئی گناہ
جُنَاحٌ
کہ نہ
اَلَّا
تم لکھو اس کو
تَكْتُبُوْھَا ۭ
اور
وَ
گواہ بنالو
اَشْهِدُوْٓا
جب
اِذَا
باہم خریدوفروخت کرو تم
تَبَايَعْتُمْ ۠
اور
وَ
نہ
لَا
ضرر پہنچایاجائے
يُضَاۗرَّ
کاتب کو۔ لکھنے والے کو
كَاتِبٌ
اور
وَّ
نہ
لَا
گواہ کو
شَهِيْدٌ ڛ
اور
وَ
اگر
اِنْ
تم کرو گے
تَفْعَلُوْا
تو بیشک وہ
فَاِنَّهٗ
گناہ ہوگا
فُسُوْقٌۢ
تمہارے لیے
بِكُمْ ۭ
اور
وَ
ڈرو تم
اتَّقُوا
اللہ سے
اللّٰهَ ۭ
اور
وَ
سکھاتا ہے تم کو
يُعَلِّمُكُمُ
اللہ
اللّٰهُ ۭ
اور
وَ
اللہ
اللّٰهُ
ساتھ ہر
بِكُلِّ
چیز کے
شَيْءٍ
جاننے والا ہے
عَلِيْمٌ
جاننے والا ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب کسی مقرر مدت کے لیے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو، تو اسے لکھ لیا کرو فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے (یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ، اپنے رب سے ڈرنا چاہیے کہ جو معاملہ طے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو، املا نہ کرا سکتا ہو، تواس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے پھر اپنے مردوں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اسے یاد دلا دے یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، میعاد کی تعین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تساہل نہ کرو اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر انصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے، اور تمہارے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے ایسا کرو گے، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے اللہ کے غضب سے بچو وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے

تفسير

وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ ۗ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِى اؤْتُمِنَ اَمَانَـتَهٗ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗۗ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۗ وَمَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗۗ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ

وَ
اور
اِنْ
ہو تم
كُنْتُمْ
سفر پر
عَلٰي سَفَرٍ
اور
وَّ
نہ
لَمْ
تم پاؤ
تَجِدُوْا
لکھنے والا
كَاتِبًا
تو رھن رکھا ہے
فَرِھٰنٌ
قبضہ کی ہوئی کا
مَّقْبُوْضَةٌ ۭ
پھر اگر
فَاِنْ
اعتبار کرے
اَمِنَ
تم میں سے بعض
بَعْضُكُمْ
بعض کا
بَعْضًا
پس چاہیے کہ ادا کرے
فَلْيُؤَدِّ
وہ شخص جو
الَّذِي
امین بنایا گیا
اؤْتُمِنَ
اس کی امانت کو
اَمَانَتَهٗ
اور
وَ
چاہے کہ وہ ڈرے
لْيَتَّقِ
اللہ سے
اللّٰهَ
جو رب ہے اس کا
رَبَّهٗ ۭ
اور
وَ
نہ
لَا
تم چھپاؤ
تَكْتُمُوا
گواہی کو
الشَّهَادَةَ ۭ
اور
وَ
اور جو کوئی
مَنْ
چھپائے گا اس کو
يَّكْتُمْهَا
تو بیشک وہ
فَاِنَّهٗٓ
گناہ گار ہے
اٰثِمٌ
دل اس کا
قَلْبُهٗ ۭ
اور
وَ
اللہ
اللّٰهُ
ساتھ اس کے جو
بِمَا
تم عمل کرتے ہو
تَعْمَلُوْنَ
جاننے والا ہے
عَلِيْمٌ
جاننے والا ہے

اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز لکھنے کے لیے کوئی کاتب نہ ملے، تو رہن بالقبض پر معاملہ کرو اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کر کے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے، اسے چاہیے کہ امانت ادا کرے اور اللہ، اپنے رب سے ڈرے اور شہادت ہرگز نہ چھپاؤ جو شہادت چھپاتا ہے، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے

تفسير

لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِۗ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِىْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُۗ فَيَـغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۤءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۤءُ ۗ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ

لِلّٰهِ
اللہ کے لیے ہے
مَا
جو
فِي السَّمٰوٰتِ
آسمانوں میں ہے
وَ
اور
مَا
زمین میں ہے
فِي الْاَرْضِ ۭ
اور
وَ
اگر
اِنْ
تم ظاہر کرو
تُبْدُوْا
جو
مَا
تمہارے نفسوں میں ہے
فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ
یا
اَوْ
تم چھپاؤ گے اس کو
تُخْفُوْهُ
حساب لے گا تمہارا
يُحَاسِبْكُمْ
ساتھ اس کے
بِهِ
اللہ
اللّٰهُ ۭ
پھر وہ بخش دے گا
فَيَغْفِرُ
جس کو وہ چاہے گا
لِمَنْ يَّشَاۗءُ
اور
وَ
وہ عذاب دے گا
يُعَذِّبُ
جس کو وہ چاہے گا
مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ
اور
وَ
اللہ
اللّٰهُ
اوپر
عَلٰي
ہر
كُلِّ
چیز کے
شَيْءٍ
قدرت رکھنے والا ہے
قَدِيْرٌ
قدرت رکھنے والا ہے

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اللہ کا ہے تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا پھر اسے اختیار ہے، جسے چاہے، معاف کر دے اور جسے چاہے، سزا دے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

تفسير

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۗ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۤٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۗ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۗ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ

اٰمَنَ
ایمان لائے
الرَّسُوْلُ
رسول
بِمَآ
ساتھ اس کے جو
اُنْزِلَ
نازل کیا گیا
اِلَيْهِ
طرف اس کے
مِنْ رَّبِّهٖ
اس کے رب کی طرف سے
وَ
اور
كُلٌّ
ایمان لائے
اٰمَنَ
اللہ پر
بِاللّٰهِ
اور
وَ
اس کے فرشتوں پر
مَلٰۗىِٕكَتِهٖ
اور
وَ
اس کی کتابوں پر
كُتُبِهٖ
اور
وَ
اس کے رسولوں پر
لَا
ہم فرق کرتے
نُفَرِّقُ
درمیان کسی ایک کے
بَيْنَ اَحَدٍ
اس کے رسولوں میں سے
مِّنْ رُّسُلِهٖ ۣ
اور
وَ
انہوں نے کہا
قَالُوْا
سنا ہم نے
سَمِعْنَا
اور
وَ
اور اطاعت کی ہم نے
اَطَعْنَا
(چاہتے ہیں ہم ) تیر بخشش
ڭ غُفْرَانَكَ
اے ہمارے رب
رَبَّنَا
اور
وَ
طرف تیرے ہی
اِلَيْكَ
لوٹنا ہے۔ پلٹنا ہے
الْمَصِيْرُ
لوٹنا ہے۔ پلٹنا ہے

رسول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اِس رسول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اوراس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ; "ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی مالک! ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے"

تفسير

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۗ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِيْنَاۤ اَوْ اَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ وَاعْفُ عَنَّا ۗ وَاغْفِرْ لَنَا ۗ وَارْحَمْنَا ۗ اَنْتَ مَوْلٰٮنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ

لَا
نہیں
يُكَلِّفُ
تکلیف دیتا ہے
اللّٰهُ
اللہ
نَفْسًا
کسی کو
اِلَّا
مگر
وُسْعَهَا ۭ
اس کی وسعت کے مطابق
لَهَا
اس کے لیے ہے
مَا
جو
كَسَبَتْ
اس نے کمائی کی
وَ
اور
عَلَيْهَا
جو
مَا
اس نے کمایا
اكْتَسَبَتْ ۭ
اے ہمارے رب
رَبَّنَا
نہ
لَا
مواخذہ کرنا ہمارا۔ نہ پکڑنا ہم کو
تُؤَاخِذْنَآ
اگر
اِنْ
ہم بھول جائیں
نَّسِيْنَآ
یا
اَوْ
خطا کریں ہم
اَخْطَاْنَا ۚ
اے ہمارے رب
رَبَّنَا
اور
وَ
نہ
لَا
تو ڈال۔ بوجھل کر
تَحْمِلْ
ہم پر
عَلَيْنَآ
کوئی بوجھ
اِصْرًا
جیسا کہ
كَمَا
ڈالا تو نے اس کو۔ بوجھل کیا
حَمَلْتَهٗ
ان لوگوں پر
عَلَي الَّذِيْنَ
جو ہم سے پہلے تھے
مِنْ قَبْلِنَا ۚ
اے ہمارے رب
رَبَّنَا
اور
وَ
نہ
لَا
تو اٹھوا ہم سے
تُحَمِّلْنَا
اس کو جو
مَا
نہیں
لَا
طاقت
طَاقَةَ
ہمارے لیے
لَنَا
اس کی
بِهٖ ۚ
اور درگزر فرما
وَاعْفُ
ہم سے
عَنَّا ۪
اور
وَ
بخش دے
اغْفِرْ
ہمارے لیے
لَنَا ۪
اور
وَ
رحم فرما ہم پر
اَنْتَ
ہما مولا ہے
مَوْلٰىنَا
پس مدد فرما ہماری
فَانْــصُرْنَا
اوپر کافر قوم کے
عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ
اوپر کافر قوم کے

اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے (ایمان لانے والو! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے پروردگار! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ، ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے در گزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر

تفسير