Skip to main content
وَيُرِيكُمْ
اور وہ دکھاتا ہے تم کو
ءَايَٰتِهِۦ
اپنی نشانیاں
فَأَىَّ
پس کون سی
ءَايَٰتِ
نشانیوں کا
ٱللَّهِ
اللہ کی
تُنكِرُونَ
تم انکار کرو گے

اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے، آخر تم اُس کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے

تفسير
أَفَلَمْ
کیا بھلا نہیں
يَسِيرُوا۟
وہ چلے پھرے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
فَيَنظُرُوا۟
تو وہ دیکھتے
كَيْفَ
کس طرح
كَانَ
ہوا
عَٰقِبَةُ
انجام
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کا جو
مِن
سے
قَبْلِهِمْۚ
ان سے پہلے تھے
كَانُوٓا۟
تھے وہ
أَكْثَرَ
کثرت سے
مِنْهُمْ
ان سے
وَأَشَدَّ
اور زیادہ شدید
قُوَّةً
قوت میں
وَءَاثَارًا
اور آثار کے اعتبار سے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
فَمَآ
پس نہ
أَغْنَىٰ
کام آیا
عَنْهُم
ان کو
مَّا
جو کچھ
كَانُوا۟
تھے وہ
يَكْسِبُونَ
وہ کمائی کرتے

پھر کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کو اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے تعداد میں زیادہ تھے، اِن سے بڑھ کر طاقتور تھے، اور زمین میں اِن سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے ہیں جو کچھ کمائی اُنہوں نے کی تھی، آخر وہ اُن کے کس کام آئی؟

تفسير
فَلَمَّا
تو جب
جَآءَتْهُمْ
آئے ان کے پاس
رُسُلُهُم
ان کے رسول
بِٱلْبَيِّنَٰتِ
ساتھ روشن دلائل کے
فَرِحُوا۟
تو وہ خوش ہوئے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
عِندَهُم
ان کے پاس تھا
مِّنَ
سے
ٱلْعِلْمِ
علم میں (سے)
وَحَاقَ
اور گھیر لیا
بِهِم
ان کو
مَّا
جو
كَانُوا۟
تھے وہ
بِهِۦ
اس کا
يَسْتَهْزِءُونَ
وہ مذاق اڑاتے

جب ان کے رسول ان کے پاس بینات لے کر آئے تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا، اور پھر اُسی چیز کے پھیر میں آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

تفسير
فَلَمَّا
پھر جب
رَأَوْا۟
انہوں نے دیکھا
بَأْسَنَا
ہمارا عذاب
قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
ءَامَنَّا
ہم ایمان لائے
بِٱللَّهِ
اللہ پر
وَحْدَهُۥ
اکیلے اس پر
وَكَفَرْنَا
اور کفر کیا ہم نے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
كُنَّا
تھے ہم
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مُشْرِكِينَ
شرک کرنے والے

جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہُ لا شریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں اُن سب معبودوں کا جنہیں ہم شریک ٹھیراتے تھے

تفسير
فَلَمْ
پس نہ دیا
يَكُ
تھا
يَنفَعُهُمْ
ان کو نفع
إِيمَٰنُهُمْ
ان کے ایمان نے
لَمَّا
جب
رَأَوْا۟
انہوں نے دیکھا
بَأْسَنَاۖ
عذاب ہمارا
سُنَّتَ
سنت
ٱللَّهِ
اللہ کی۔ (طریقہ) اللہ کا
ٱلَّتِى
وہ جو
قَدْ
تحقیق
خَلَتْ
گزر چکا
فِى
میں
عِبَادِهِۦۖ
اس کے بندوں میں
وَخَسِرَ
اور نقصان اٹھایا
هُنَالِكَ
اس جگہ
ٱلْكَٰفِرُونَ
کافروں نے

مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑ گئے

تفسير