وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ ۖ فَاَىَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ
اور وہ تمہیں اپنی (بہت سے) نشانیاں دکھاتا ہے، سو تم اﷲ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے،
اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْۗ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِى الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ
سو کیا انہوں نے زمین میں سیر و سیاحت نہیں کی کہ وہ دیکھتے کہ اُن لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو اُن سے پہلے گزر گئے، وہ اِن لوگوں سے (تعداد میں بھی) بہت زیادہ تھے اور طاقت میں (بھی) سخت تر تھے اور نشانات کے لحاظ سے (بھی) جو (وہ) زمین میں چھوڑ گئے ہیں (کہیں بڑھ کر تھے) مگر جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے اُن کے کسی کام نہ آیا،
فَلَمَّا جَاۤءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ
پھر جب اُن کے پیغمبر اُن کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تو اُن کے پاس جو (دنیاوی) علم و فن تھا وہ اس پر اِتراتے رہے اور (اسی حال میں) انہیں اُس (عذاب) نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے،
فَلَمَّا رَاَوْا بَأْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے: ہم اﷲ پر ایمان لائے جو یکتا ہے اور ہم نے اُن (سب) کا انکار کر دیا جنہیں ہم اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے،
فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَأْسَنَا ۗ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِىْ قَدْ خَلَتْ فِىْ عِبَادِهٖۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ
پھر اُن کا ایمان لانا اُن کے کچھ کام نہ آیا جبکہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تھا، اﷲ کا (یہی) دستور ہے جو اُس کے بندوں میں گزرتا چلا آرہا ہے اور اس مقام پر کافروں نے (ہمیشہ) سخت نقصان اٹھایا،