وَمَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰۤٮِٕكَةًۖ وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۙ لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَيَزْدَادَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِيْمَانًا وَّلَا يَرْتَابَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَۙ وَلِيَقُوْلَ الَّذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْكٰفِرُوْنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا ۗ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَاۤءُ وَيَهْدِىْ مَنْ يَّشَاۤءُ ۗ وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ ۗ وَمَا هِىَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ
اور ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے ہی مقرر کئے ہیں اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کے لئے محض آزمائش کے طور پر مقرر کی ہے تاکہ اہلِ کتاب یقین کر لیں (کہ قرآن اور نبوتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حق ہے کیونکہ ان کی کتب میں بھی یہی تعداد بیان کی گئی تھی) اور اہلِ ایمان کا ایمان (اس تصدیق سے) مزید بڑھ جائے، اور اہلِ کتاب اور مومنین (اس کی حقانیت میں) شک نہ کر سکیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے اور کفار یہ کہیں کہ اس (تعداد کی) مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ اسی طرح اللہ (ایک ہی بات سے) جسے چاہتا ہے گمراہ ٹھہراتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے، اور آپ کے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ (دوزخ کا بیان) اِنسان کی نصیحت کے لئے ہی ہے،
كَلَّا وَالْقَمَرِۙ
ہاں، چاند کی قَسم (جس کا گھٹنا، بڑھنا اور غائب ہو جانا گواہی ہے)،
وَالَّيْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ
اور رات کی قَسم جب وہ پیٹھ پھیر کر رخصت ہونے لگے،
وَالصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ
اور صبح کی قَسم جب وہ روشن ہو جائے،
اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ
بے شک یہ (دوزخ) بہت بڑی آفتوں میں سے ایک ہے،
لِمَنْ شَاۤءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَخَّرَۗ
(یعنی) اس شخص کے لئے جو تم میں سے (نیکی میں) آگے بڑھنا چاہے یا جو (بدی میں پھنس کر) پیچھے رہ جائے،
كُلُّ نَفْسٍ ۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ ۙ
ہر شخص اُن (اَعمال) کے بدلے جو اُس نے کما رکھے ہیں گروی ہے،
اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِ ۛ
سوائے دائیں جانب والوں کے،
فِىْ جَنّٰتٍ ۛ يَتَسَاۤءَلُوْنَۙ
(وہ) باغات میں ہوں گے، اور آپس میں پوچھتے ہوں گے،