اِنِّىْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَاۤٮِٕزُوْنَ
بیشک آج میں نے انہیں ان کے صبر کا جو وہ کرتے رہے (یہ) صلہ عطا فرمایا ہے کہ وہ کامیاب ہو گئے ہیں،
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِى الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ
ارشاد ہو گا کہ تم زمین میں برسوں کے شمار سے کتنی مدت ٹھہرے رہے (ہو)،
قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْــَٔـلِ الْعَاۤدِّيْنَ
وہ کہیں گے: ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے (ہوں گے) آپ اعداد و شمار کرنے والوں سے پوچھ لیں،
قٰلَ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
ارشاد ہوگا: تم (وہاں) نہیں ٹھہرے مگر بہت ہی تھوڑا عرصہ، کاش! تم (یہ بات وہیں) جانتے ہوتے،
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (و بے مقصد) پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟،
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَـقُّ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْـكَرِيْمِ
پس اللہ جو بادشاہِ حقیقی ہے بلند و برتر ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بزرگی اور عزت والے عرش (اقتدار) کا (وہی) مالک ہے،
وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖۗ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْـكٰفِرُوْنَ
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش کرتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے سو اس کا حساب اس کے رب ہی کے پاس ہے۔ بیشک کافر لوگ فلاح نہیں پائیں گے،
وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ
اور آپ عرض کیجئے: اے میرے رب! تو بخش دے اور رحم فرما اور تو (ہی) سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے،