Skip to main content

مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْۗ وَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ

مِثْلَ
مانند
دَأْبِ
حالت
قَوْمِ
قوم
نُوحٍ
نوح کے
وَعَادٍ
اور عاد کے
وَثَمُودَ
اور ثمود کے
وَٱلَّذِينَ
اور ان لوگوں کے
مِنۢ
جو
بَعْدِهِمْۚ
ان کے بعد تھے
وَمَا
اور نہیں ہے
ٱللَّهُ
اللہ
يُرِيدُ
ارادہ رکھتا
ظُلْمًا
ظلم کا
لِّلْعِبَادِ
بندوں کے لیے

قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے بعد ہوئے (ان) کے دستورِ سزا کی طرح، اور اللہ بندوں پر ہرگز زیادتی نہیں چاہتا،

تفسير

وَيٰقَوْمِ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِۙ

وَيَٰقَوْمِ
اور اے میری قوم
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَخَافُ
ڈرتا ہوں
عَلَيْكُمْ
تم پر
يَوْمَ
دن سے
ٱلتَّنَادِ
پکارنے کے

اور اے قوم! میں تم پر چیخ و پکار کے دن (یعنی قیامت) سے خوف زدہ ہوں،

تفسير

يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍۚ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ

يَوْمَ
جس دن
تُوَلُّونَ
تم پھر جاؤ گے
مُدْبِرِينَ
پیٹھ پھیرتے ہوئے
مَا
نہیں
لَكُم
تمہارے لیے
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ (سے)
مِنْ
کوئی
عَاصِمٍۗ
بچانے والا
وَمَن
اور جس کو
يُضْلِلِ
بھٹکا دے
ٱللَّهُ
اللہ
فَمَا
تو نہیں
لَهُۥ
اس کے لیے
مِنْ
کوئی
هَادٍ
ہادی

جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تمہیں اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے کوئی ہادی و رہنما نہیں ہوتا،

تفسير

وَلَقَدْ جَاۤءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْـتُمْ فِىْ شَكٍّ مِّمَّا جَاۤءَكُمْ بِهٖ ۗ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا ۗ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ ۙ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
جَآءَكُمْ
آئے تمہارے پاس
يُوسُفُ
یوسف
مِن
سے
قَبْلُ
اس سے پہلے
بِٱلْبَيِّنَٰتِ
روشن دلائل کے ساتھ
فَمَا
تو مسلسل
زِلْتُمْ
رہے تم
فِى
میں
شَكٍّ
شک
مِّمَّا
اس چیز کے بارے میں جو
جَآءَكُم
وہ لایا تمہارے پاس
بِهِۦۖ
اس کو
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
هَلَكَ
وہ فوت ہوگئے
قُلْتُمْ
کہا تم نے
لَن
ہرگز نہیں
يَبْعَثَ
بھیجے گا
ٱللَّهُ
اللہ
مِنۢ
کے
بَعْدِهِۦ
اس کے بعد
رَسُولًاۚ
کوئی رسول
كَذَٰلِكَ
اسی طرح
يُضِلُّ
بھٹکاتا ہے
ٱللَّهُ
اللہ
مَنْ
جو کوئی کہ ہو
هُوَ
وہ
مُسْرِفٌ
حد سے بڑھنے والا
مُّرْتَابٌ
شک میں پڑنے والا

اور (اے اہلِ مصر!) بے شک تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) واضح نشانیوں کے ساتھ آچکے اور تم ہمیشہ ان (نشانیوں) کے بارے میں شک میں (پڑے) رہے جو وہ تمہارے پاس لائے تھے، یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم کہنے لگے کہ اب اللہ ان کے بعد ہرگز کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ ٹھہرا دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا شک کرنے والا ہو،

تفسير

لَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٮهُمْ ۗ كَبُـرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۗ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ

ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُجَٰدِلُونَ
جو جھگڑتے ہیں
فِىٓ
میں
ءَايَٰتِ
آیات (میں)
ٱللَّهِ
اللہ کی
بِغَيْرِ
بغیر
سُلْطَٰنٍ
کسی دلیل کے
أَتَىٰهُمْۖ
آئی ہو ان کے پاس
كَبُرَ
بڑا ہے
مَقْتًا
ناراضگی میں
عِندَ
نزدیک
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَعِندَ
اور نزدیک
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کے
ءَامَنُوا۟ۚ
جو ایمان لائے
كَذَٰلِكَ
اسی طرح
يَطْبَعُ
مہر لگا دیتا ہے
ٱللَّهُ
اللہ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
قَلْبِ
دل
مُتَكَبِّرٍ
تکبر کرنے والے کے
جَبَّارٍ
جبار کے

جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، (یہ جھگڑا کرنا) اللہ کے نزدیک اور ایمان والوں کے نزدیک سخت بیزاری (کی بات) ہے، اسی طرح اللہ ہر ایک مغرور (اور) سر کش کے دل پر مُہر لگا دیتا ہے،

تفسير

وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِىْ صَرْحًا لَّعَلِّىْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ

وَقَالَ
اور کہا
فِرْعَوْنُ
فرعون نے
يَٰهَٰمَٰنُ
اے ہامان
ٱبْنِ
بنا
لِى
میرے لیے
صَرْحًا
ایک محل
لَّعَلِّىٓ
تاکہ میں
أَبْلُغُ
میں پہنچ سکوں
ٱلْأَسْبَٰبَ
راستوں میں

اور فرعون نے کہا: اے ہامان! تو میرے لئے ایک اونچا محل بنا دے تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) راستوں پر جا پہنچوں،

تفسير

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ۗ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْۤءُ عَمَلِهٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ ۗ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِىْ تَبَابٍ

أَسْبَٰبَ
راستوں پر
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمان کے
فَأَطَّلِعَ
پھر میں جھانک کر دیکھوں
إِلَىٰٓ
طرف
إِلَٰهِ
الہ کے
مُوسَىٰ
موسیٰ کے
وَإِنِّى
اور بیشک میں
لَأَظُنُّهُۥ
البتہ گمان کرتا ہوں اس کو
كَٰذِبًاۚ
جھوٹا
وَكَذَٰلِكَ
اور اسی طرح
زُيِّنَ
خوبصورت بنایا گیا
لِفِرْعَوْنَ
فرعون کے لیے
سُوٓءُ
برا
عَمَلِهِۦ
اس کا عمل
وَصُدَّ
اور وہ روک دیا گیا
عَنِ
سے
ٱلسَّبِيلِۚ
راستے (سے)
وَمَا
اور نہیں
كَيْدُ
چال
فِرْعَوْنَ
فرعون کی
إِلَّا
مگر
فِى
میں
تَبَابٍ
ہلاکت

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر، پھر میں موسٰی کے خدا کو جھانک کر دیکھ سکوں اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لئے اس کی بد عملی خوش نما کر دی گئی اور وہ (اللہ کی) راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی پُرفریب تدبیر محض ہلاکت ہی میں تھی،

تفسير

وَقَالَ الَّذِىْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِۚ

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِىٓ
اس شخص نے
ءَامَنَ
جو ایمان لایا
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
ٱتَّبِعُونِ
پیروی کرو میری
أَهْدِكُمْ
میں رہنمائی کروں گا تمہاری
سَبِيلَ
راستے کی طرف
ٱلرَّشَادِ
درست

اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! تم میری پیروی کرو میں تمہیں خیر و ہدایت کی راہ پر لگا دوں گا،

تفسير

يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌۖ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَرَارِ

يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
إِنَّمَا
بیشک
هَٰذِهِ
یہ
ٱلْحَيَوٰةُ
زندگی
ٱلدُّنْيَا
دنیا کی
مَتَٰعٌ
چند روزہ فائدے کی ہے۔ تھوڑے سے فائدے کی چیز ہے
وَإِنَّ
اور بیشک
ٱلْءَاخِرَةَ
آخرت
هِىَ
وہ
دَارُ
گھر ہے
ٱلْقَرَارِ
قرار کا

اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی بس (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے،

تفسير

مَنْ عَمِلَ سَيِّـئَـةً فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۤٮِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَـنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ

مَنْ
جو
عَمِلَ
عمل کرے
سَيِّئَةً
برے
فَلَا
تو نہ
يُجْزَىٰٓ
بدلہ دیا جائے گا
إِلَّا
مگر
مِثْلَهَاۖ
اسی کی مانند
وَمَنْ
اور جو
عَمِلَ
عمل کرے
صَٰلِحًا
اچھے
مِّن
سے
ذَكَرٍ
خواہ کوئی مرد ہو
أَوْ
یا
أُنثَىٰ
عورت
وَهُوَ
اور وہ
مُؤْمِنٌ
مومن ہو
فَأُو۟لَٰٓئِكَ
تو یہی لوگ
يَدْخُلُونَ
داخل ہوں گے
ٱلْجَنَّةَ
جنت میں
يُرْزَقُونَ
رزق دیئے جائیں گے
فِيهَا
اس میں
بِغَيْرِ
بغیر
حِسَابٍ
حساب کے۔ بےحساب

جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا،

تفسير