Skip to main content
bismillah
الٓرۚ
الۗرٰ
تِلْكَ
یہ
ءَايَٰتُ
آیات ہیں
ٱلْكِتَٰبِ
کتاب
ٱلْحَكِيمِ
حکیم کی (حکمت والی کتاب کی)

الف، لام، را (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں،

تفسير
أَكَانَ
کیا ہے
لِلنَّاسِ
لوگوں کے لیے
عَجَبًا
عجیب بات
أَنْ
کہ
أَوْحَيْنَآ
وحی کی ہم نے
إِلَىٰ
طرف
رَجُلٍ
ایک شخص کے
مِّنْهُمْ
ان میں سے
أَنْ
کہ
أَنذِرِ
خبردار کرو
ٱلنَّاسَ
لوگوں کو
وَبَشِّرِ
اور بشارت دو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ءَامَنُوٓا۟
جو ایمان لائے
أَنَّ
کہ
لَهُمْ
بیشک ان کے لیے
قَدَمَ
مرتبہ ہے
صِدْقٍ
سچائی کا
عِندَ
پاس
رَبِّهِمْۗ
ان کے رب کے
قَالَ
کہا
ٱلْكَٰفِرُونَ
کافروں نے
إِنَّ
بیشک
هَٰذَا
یہ
لَسَٰحِرٌ
البتہ جادوگر ہے
مُّبِينٌ
کھلا

کیا یہ بات لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک مردِ (کامل) کی طرف وحی بھیجی کہ آپ (بھولے بھٹکے ہوئے) لوگوں کو (عذابِ الٰہی کا) ڈر سنائیں اور ایمان والوں کو خوشخبری سنائیں کہ ان کے لئے ان کے رب کی بارگاہ میں بلند پایہ (یعنی اونچا مرتبہ) ہے، کافر کہنے لگے: بیشک یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے،

تفسير
إِنَّ
بیشک
رَبَّكُمُ
رب تمہارا
ٱللَّهُ
اللہ ہے
ٱلَّذِى
جس نے
خَلَقَ
پیدا کیا
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں کو
وَٱلْأَرْضَ
اور زمین کو
فِى
میں
سِتَّةِ
چھ
أَيَّامٍ
دنوں
ثُمَّ
پھر
ٱسْتَوَىٰ
وہ مستوی ہوا
عَلَى
پر
ٱلْعَرْشِۖ
عرش
يُدَبِّرُ
تدبیر کرتا ہے
ٱلْأَمْرَۖ
تمام معاملات کی
مَا
نہیں
مِن
کوئی
شَفِيعٍ
سفارشی
إِلَّا مِنۢ
مگر
بَعْدِ
بعد اس کے
إِذْنِهِۦۚ
اذن کے
ذَٰلِكُمُ
یہ ہے
ٱللَّهُ
اللہ
رَبُّكُمْ
رب تمہارا
فَٱعْبُدُوهُۚ
پس عبادت کرو اس کی
أَفَلَا
کیا بھلا نہیں
تَذَكَّرُونَ
تم نصیحت پکڑتے

یقیناً تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی بالائی و زیریں کائنات) کو چھ دنوں (یعنی چھ مدتوں یا مرحلوں) میں (تدریجاً) پیدا فرمایا پھر وہ عرش پر (اپنے اقتدار کے ساتھ) جلوہ افروز ہوا (یعنی تخلیقِ کائنات کے بعد اس کے تمام عوالم اور اَجرام میں اپنے قانون اور نظام کے اجراء کی صورت میں متمکن ہوا) وہی ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے (یعنی ہر چیز کو ایک نظام کے تحت چلاتا ہے۔ اس کے حضور) اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں، یہی (عظمت و قدرت والا) اللہ تمہارا رب ہے، سو تم اسی کی عبادت کرو، پس کیا تم (قبولِ نصیحت کے لئے) غور نہیں کرتے،

تفسير
إِلَيْهِ
اس کی طرف
مَرْجِعُكُمْ
لوٹنا ہے تمہارا
جَمِيعًاۖ
سب کا
وَعْدَ
وعدہ ہے
ٱللَّهِ
اللہ کا
حَقًّاۚ
سچا
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
يَبْدَؤُا۟
ابتدا کرتا ہے
ٱلْخَلْقَ
پیدائش کی
ثُمَّ
پھر
يُعِيدُهُۥ
دوبارہ لوٹائے گا اس کو
لِيَجْزِىَ
تاکہ بدلہ دے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے عمل کیے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے
بِٱلْقِسْطِۚ
ساتھ انصاف کے
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
لَهُمْ
ان کے لیے
شَرَابٌ
پینا ہے
مِّنْ
کا
حَمِيمٍ
کھولتے ہوئے پانی
وَعَذَابٌ
اور عذاب ہے
أَلِيمٌۢ
دردناک
بِمَا
بوجہ اس کے
كَانُوا۟
جو تھے وہ
يَكْفُرُونَ
کفر کرتے

(لوگو!) تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ بیشک وہی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اسے دہرائے گا تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے، اس کا بدلہ جو وہ کفر کیا کرتے تھے،

تفسير
هُوَ
وہ اللہ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
جَعَلَ
جس نے بنایا
ٱلشَّمْسَ
سورج کو
ضِيَآءً
روشن
وَٱلْقَمَرَ
اور چاند کو
نُورًا
چمکنے والا
وَقَدَّرَهُۥ
اور مقدر کیں اس کی
مَنَازِلَ
منزلیں
لِتَعْلَمُوا۟
تاکہ تم جان لو
عَدَدَ
گنتی
ٱلسِّنِينَ
سالوں کی
وَٱلْحِسَابَۚ
اور حساب
مَا
نہیں
خَلَقَ
پیدا کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
ذَٰلِكَ
اس کو
إِلَّا
مگر
بِٱلْحَقِّۚ
حق کے ساتھ
يُفَصِّلُ
کھول کھول کر بیان کرتا ہے
ٱلْءَايَٰتِ
آیات کو
لِقَوْمٍ
اس قوم کے لیے
يَعْلَمُونَ
جو علم رکھتی ہو

وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اس سے) روشن (کیا) اور اس کے لئے (کم و بیش دکھائی دینے کی) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (اوقات کا) حساب معلوم کر سکو، اور اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا فرمایا مگر درست تدبیر کے ساتھ، وہ (ان کائناتی حقیقتوں کے ذریعے اپنی خالقیت، وحدانیت اور قدرت کی) نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے واضح فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیں،

تفسير
إِنَّ
بیشک
فِى
میں
ٱخْتِلَٰفِ
اختلاف
ٱلَّيْلِ
رات
وَٱلنَّهَارِ
اور دن کے
وَمَا
اور جو
خَلَقَ
پیدا کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
فِى
میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں
وَٱلْأَرْضِ
اور زمین میں
لَءَايَٰتٍ
البتہ نشانیاں ہیں
لِّقَوْمٍ
ان لوگوں کے لیے
يَتَّقُونَ
جو بچنا چاہتے ہیں

بیشک رات اور دن کے بدلتے رہنے میں اور ان (جملہ) چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا فرمائی ہیں (اسی طرح) ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو تقوٰی رکھتے ہیں،

تفسير
إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
لَا
جو نہیں رکھتے
يَرْجُونَ
امید
لِقَآءَنَا
ہماری ملاقات کی
وَرَضُوا۟
اور وہ راضی ہوگئے
بِٱلْحَيَوٰةِ
زندگی پر
ٱلدُّنْيَا
دنیا کی
وَٱطْمَأَنُّوا۟
اور مطمئن ہوگئے
بِهَا
اس پر
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
هُمْ عَنْ
وہ
ءَايَٰتِنَا
ہماری آیات سے
غَٰفِلُونَ
غافل ہیں

بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیوی زندگی سے خوش ہیں اور اسی سے مطمئن ہوگئے ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں،

تفسير
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
مَأْوَىٰهُمُ
ٹھکانہ ان کا
ٱلنَّارُ
آگ ہے
بِمَا
بوجہ ان کے
كَانُوا۟
جو تھے وہ
يَكْسِبُونَ
کمائی کرتے

انہی لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کماتے رہے،

تفسير
إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ جو
ءَامَنُوا۟
ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے عمل کیے
يَهْدِيهِمْ
ان کی راہنمائی کرے گا
رَبُّهُم
ان کا رب
بِإِيمَٰنِهِمْۖ
بوجہ ان کے ایمان کے
تَجْرِى
بہتی ہیں
مِن
سے
تَحْتِهِمُ
ان کے نیچے
ٱلْأَنْهَٰرُ
نہریں
فِى
میں
جَنَّٰتِ
جنتوں
ٱلنَّعِيمِ
نعمتوں بھری

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے باعث (جنتوں تک) پہنچا دے گا، جہاں ان (کی رہائش گاہوں) کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی (یہ ٹھکانے) اُخروی نعمت کے باغات میں (ہوں گے)،

تفسير
دَعْوَىٰهُمْ
پکار ان کی
فِيهَا
اس میں
سُبْحَٰنَكَ
پاک ہے تو
ٱللَّهُمَّ
اے اللہ
وَتَحِيَّتُهُمْ
اور دعائے خیر ان کی
فِيهَا
اس میں ہوگی
سَلَٰمٌۚ
سلام
وَءَاخِرُ
اور آخری
دَعْوَىٰهُمْ
پکار ان کی
أَنِ
یہ کہ
ٱلْحَمْدُ
سب شکر
لِلَّهِ
اللہ کے لیے ہے
رَبِّ
جو رب ہے
ٱلْعَٰلَمِينَ
تمام جہانوں کا

(نعمتوں اور بہاروں کو دیکھ کر) ان (جنتوں) میں ان کی دعا (یہ) ہوگی: ”اے اللہ! تو پاک ہے“ اور اس میں ان کی آپس میں دعائے خیر (کا کلمہ) ”سلام“ ہوگا (یا اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی طرف سے ان کے لئے کلمۂ استقبال ”سلام“ ہوگا) اور ان کی دعا (ان کلمات پر) ختم ہوگی کہ ”تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے“،

تفسير
کے بارے میں معلومات :
یونس
القرآن الكريم:يونس
آية سجدہ (سجدة):-
سورۃ کا نام (latin):Yunus
سورہ نمبر:۱۰
کل آیات:۱۰۹
کل کلمات:۱۸۳۲
کل حروف:۹۹۹۰
کل رکوعات:۱۱
مقام نزول:مکہ مکرمہ
ترتیب نزولی:۵۱
آیت سے شروع:۱۳۶۴