Skip to main content

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْۖ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا

أَشْهَدتُّهُمْ
میں نے حاضر کیا تھا ان کو
خَلْقَ
پیدائش میں
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں کی
وَٱلْأَرْضِ
اور زمین کی
وَلَا
اور نہ
خَلْقَ
پیدائش میں
أَنفُسِهِمْ
ان کے نفسوں کی
وَمَا
اور نہیں
كُنتُ
ہوں میں
مُتَّخِذَ
بنانے والا
ٱلْمُضِلِّينَ
گمراہ کرنے والوں کو
عَضُدًا
مددگار

میں نے نہ (تو) انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر (معاونت یا گواہی کے لئے) بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق (کے وقت)، اور نہ (ہی) میں ایسا تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو (اپنا) دست و بازو بناتا،

تفسير

وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۤءِىَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا

وَيَوْمَ
اور جس دن
يَقُولُ
وہ کہے گا
نَادُوا۟
پکارو
شُرَكَآءِىَ
میرے شریکوں کو
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ جنہیں
زَعَمْتُمْ
گمان کرتے تھے تم
فَدَعَوْهُمْ
وہ پکاریں گے ان کو
فَلَمْ
پس نہ
يَسْتَجِيبُوا۟
وہ جواب دیں گے
لَهُمْ
ان کو
وَجَعَلْنَا
اور ہم بنادیں گے
بَيْنَهُم
ان کے درمیان
مَّوْبِقًا
ہلاکت کی جگہ

اور اُس دن (کو یاد کرو جب) اﷲ فرمائے گا: انہیں پکارو جنہیں تم میرا شریک گمان کرتے تھے، سو وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان (ایک وادئ جہنم کو) ہلاکت کی جگہ بنا دیں گے،

تفسير

وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا

وَرَءَا
اور دیکھیں گے
ٱلْمُجْرِمُونَ
مجرم
ٱلنَّارَ
آگ کو
فَظَنُّوٓا۟
تو وہ سمجھ لیں گے
أَنَّهُم
بیشک وہ
مُّوَاقِعُوهَا
گرنے والے ہیں اس میں
وَلَمْ
اور وہ نہ
يَجِدُوا۟
پائیں گے
عَنْهَا
اس سے
مَصْرِفًا
لوٹنے کی جگہ/ بچنے کا راستہ

اور مجرم لوگ آتشِ دوزخ کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ وہ یقیناً اسی میں گرنے والے ہیں اور وہ اس سے گریز کی کوئی جگہ نہ پاسکیں گے،

تفسير

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۗ وَكَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلًا

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
صَرَّفْنَا
پھیر پھیر کے بیان کیں ہم نے
فِى
میں
هَٰذَا
اس
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن
لِلنَّاسِ مِن
لوگوں کے لئے
كُلِّ
ہر طرح کی
مَثَلٍۚ
مثال میں سے
وَكَانَ
اور ہے
ٱلْإِنسَٰنُ
انسان
أَكْثَرَ
زیادہ
شَىْءٍ
ہر چیز سے
جَدَلًا
جھگڑنے والا

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال کو (انداز بدل بدل کر) بار بار بیان کیا ہے، اور انسان جھگڑنے میں ہر چیز سے بڑھ کر ہے،

تفسير

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَاۤءَهُمُ الْهُدٰى وَيَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ اَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا

وَمَا
اور نہیں
مَنَعَ
روکا
ٱلنَّاسَ
لوگوں کو
أَن
کہ
يُؤْمِنُوٓا۟
وہ ایمان لائیں
إِذْ
جب
جَآءَهُمُ
آئی ان کے پاس
ٱلْهُدَىٰ
ہدایت
وَيَسْتَغْفِرُوا۟
اور بخشش مانگیں
رَبَّهُمْ
اپنے رب سے
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
تَأْتِيَهُمْ
آجائے ان کے پاس
سُنَّةُ
طریقہ
ٱلْأَوَّلِينَ
پہلوں کا
أَوْ
یا
يَأْتِيَهُمُ
آئے ان کے پاس
ٱلْعَذَابُ
عذاب
قُبُلًا
سامنے سے

اور لوگوں کو جبکہ ان کے پاس ہدایت آچکی تھی کسی نے (اس بات سے) منع نہیں کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں اور اپنے رب سے مغفرت طلب کریں سوائے اس (انتظار) کے کہ انہیں اگلے لوگوں کا طریقہ (ہلاکت) پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آجائے،

تفسير

وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِـيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَـقَّ وَاتَّخَذُوْۤا اٰيٰتِىْ وَمَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا

وَمَا
اور نہیں
نُرْسِلُ
ہم بھیجتے
ٱلْمُرْسَلِينَ
رسولوں کو
إِلَّا
مگر
مُبَشِّرِينَ
خوش خبری دینے والے
وَمُنذِرِينَۚ
اور ڈرانے والے
وَيُجَٰدِلُ
اور جھگڑتے ہیں
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
بِٱلْبَٰطِلِ
ساتھ باطل کے
لِيُدْحِضُوا۟
تاکہ زائل کردیں/ پھسلا دیں
بِهِ
ساتھ اس کے
ٱلْحَقَّۖ
حق کو
وَٱتَّخَذُوٓا۟
اور انہوں نے بنالیا
ءَايَٰتِى
میری آیات کو
وَمَآ
اور جس سے
أُنذِرُوا۟
وہ ڈرائے گئے
هُزُوًا
مذاق

اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر (لوگوں کو) خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے (بنا کر)، اور کافر لوگ (ان رسولوں سے) بیہودہ باتوں کے سہارے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس (باطل) کے ذریعہ حق کو زائل کردیں اور وہ میری آیتوں کو اور اس (عذاب) کو جس سے وہ ڈرائے جاتے ہیں ہنسی مذاق بنا لیتے ہیں،

تفسير

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِىَ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ ۗ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِىْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ۗ وَاِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا

وَمَنْ
اور کون
أَظْلَمُ
بڑا ظالم ہے
مِمَّن
اس سے جو
ذُكِّرَ
نصیحت کیا گیا
بِـَٔايَٰتِ
آیات کے
رَبِّهِۦ
اپنے رب کی
فَأَعْرَضَ
ذریعے پھر اسنے اعراض برتا
عَنْهَا
اس سے
وَنَسِىَ
اور بھول گیا
مَا
جو
قَدَّمَتْ
آگے بھیجا
يَدَاهُۚ
اس کے دونوں ہاتھوں نے
إِنَّا
بیشک ہم نے
جَعَلْنَا
، بنائے ہم نے
عَلَىٰ
پر
قُلُوبِهِمْ
ان کے دلوں (پر)
أَكِنَّةً
غلاف
أَن
کہ
يَفْقَهُوهُ
سمجھ سکیں وہ اس کو
وَفِىٓ
اور ان کے
ءَاذَانِهِمْ
کانوں میں
وَقْرًاۖ
بوجھ کو
وَإِن
اور اگر
تَدْعُهُمْ
تم پکارو/ بلاؤ ان کو
إِلَى
طرف
ٱلْهُدَىٰ
ہدایت کی
فَلَن
تو ہرگزنہ
يَهْتَدُوٓا۟
ہدایت پائیں گے
إِذًا
تب
أَبَدًا
کبھی بھی

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی نشانیاں یاد دلائی گئیں تو اس نے ان سے رُوگردانی کی اور ان (بداَعمالیوں) کو بھول گیا جو اس کے ہاتھ آگے بھیج چکے تھے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس حق کو سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیا ہے (کہ وہ اس حق کو سن نہ سکیں)، اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ کبھی بھی قطعًا ہدایت نہیں پائیں گے،

تفسير

وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُوْ الرَّحْمَةِ ۗ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۗ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ يَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْٮِٕلًا

وَرَبُّكَ
اور رب تیرا
ٱلْغَفُورُ ذُو
بخشنے والا ہے
ٱلرَّحْمَةِۖ
صاحب رحمت ہے
لَوْ
اگر
يُؤَاخِذُهُم
وہ پکڑے ان کو
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَسَبُوا۟
انہوں نے کمائی کی
لَعَجَّلَ
البتہ جلدی دے گا
لَهُمُ
ان کو
ٱلْعَذَابَۚ
عذاب
بَل
بلکہ
لَّهُم
ان کے لئے
مَّوْعِدٌ
وعدے کا ایک وقت ہے
لَّن
ہرگز نہ
يَجِدُوا۟ مِن
پائیں گے
دُونِهِۦ
اس کے سوا
مَوْئِلًا
لوٹنے کی جگہ

اور آپ کا رب بڑا بخشنے والا صاحبِ رحمت ہے، اگر وہ ان کے کئے پر ان کا مؤاخذہ فرماتا تو ان پر یقیناً جلد عذاب بھیجتا، بلکہ ان کے لئے (تو) وقتِ وعدہ (مقرر) ہے (جب وہ وقت آئے گا تو) اس کے سوا ہرگز کوئی جائے پناہ نہیں پائیں گے،

تفسير

وَتِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا

وَتِلْكَ
اور یہ
ٱلْقُرَىٰٓ
بستیاں
أَهْلَكْنَٰهُمْ
ہلاک کیا ہم نے ان کو
لَمَّا
جب
ظَلَمُوا۟
انہوں نے ظلم کیا
وَجَعَلْنَا
اور بنایا ہم نے
لِمَهْلِكِهِم
ان کی ہلاکت کے لئے
مَّوْعِدًا
ایک مقررہ وقت

اور یہ بستیاں ہیں ہم نے جن کے رہنے والوں کو ہلاک کر ڈالا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا،

تفسير

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰٮهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ اَوْ اَمْضِىَ حُقُبًا

وَإِذْ
اور جب
قَالَ
کہا
مُوسَىٰ
موسیٰ (علیہ السلام) نے
لِفَتَىٰهُ
اپنے نوجوان کو/ غلام کو/ خادم کو
لَآ
نہ
أَبْرَحُ
میں پلٹوں گا/ نہ میں پھروں گا
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
أَبْلُغَ
میں پہنچ جاؤں
مَجْمَعَ
جمع ہونے کی جگہ
ٱلْبَحْرَيْنِ
دو دریاؤں کے
أَوْ
یا
أَمْضِىَ
میں چلتا رہوں گا
حُقُبًا
برسوں/ مدتوں

اور (وہ واقعہ بھی یاد کیجئے) جب موسٰی (علیہ السلام) نے اپنے (جواں سال ساتھی اور) خادم (یوشع بن نون علیہ السلام) سے کہا: میں (پیچھے) نہیں ہٹ سکتا یہاں تک کہ میں دو دریاؤں کے سنگم کی جگہ تک پہنچ جاؤں یا مدتوں چلتا رہوں،

تفسير