Skip to main content

اِنَّا لَنَـنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ ۙ

إِنَّا
بیشک ہم
لَنَنصُرُ
البتہ ہم مدد کرتے ہیں
رُسُلَنَا
اپنے رسولوں کی
وَٱلَّذِينَ
اور ان لوگوں کی
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
فِى
میں
ٱلْحَيَوٰةِ
زندگی میں
ٱلدُّنْيَا
دنیا کی
وَيَوْمَ
اور جس دن
يَقُومُ
کھڑے ہوں گے
ٱلْأَشْهَٰدُ
گواہ

بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں (بھی) مدد کرتے ہیں اور اس دن (بھی کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے،

تفسير

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۤءُ الدَّارِ

يَوْمَ
جس دن
لَا
نہ
يَنفَعُ
نفع دے گی
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالموں کو
مَعْذِرَتُهُمْۖ
ان کی معذرت
وَلَهُمُ
اور ان کے لیے
ٱللَّعْنَةُ
لعنت ہے
وَلَهُمْ
اور ان کے لیے
سُوٓءُ
بدترین
ٱلدَّارِ
گھر ہے (برا ٹھکانہ ہے)

جس دن ظالموں کو اُن کی معذرت فائدہ نہیں دے گی اور اُن کے لئے پھٹکار ہوگی اور اُن کے لئے (جہنّم کا) بُرا گھر ہوگا،

تفسير

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَاَوْرَثْنَا بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ الْكِتٰبَۙ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
ءَاتَيْنَا
دی ہم نے
مُوسَى
موسیٰ کو
ٱلْهُدَىٰ
ہدایت
وَأَوْرَثْنَا
اور وارث بنایا ہم نے
بَنِىٓ
بنی
إِسْرَٰٓءِيلَ
اسرائیل کو
ٱلْكِتَٰبَ
کتاب کا

اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو (کتاب) ہدایت عطا کی اور ہم نے (اُن کے بعد) بنی اسرائیل کو (اُس) کتاب کا وارث بنایا،

تفسير

هُدًى وَّذِكْرٰى لِاُولِى الْاَ لْبَابِ

هُدًى
جو ہدایت
وَذِكْرَىٰ
اور نصیحت تھی
لِأُو۟لِى
والوں کے لیے
ٱلْأَلْبَٰبِ
عقل (والوں کے لیے)

جو ہدایت ہے اور عقل والوں کے لئے نصیحت ہے،

تفسير

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِىِّ وَالْاِبْكَارِ

فَٱصْبِرْ
پس صبر کیجیے
إِنَّ
بیشک
وَعْدَ
وعدہ
ٱللَّهِ
اللہ کا
حَقٌّ
سچا ہے
وَٱسْتَغْفِرْ
اور بخشش مانگیئے
لِذَنۢبِكَ
اپنے قصور کے لیے
وَسَبِّحْ
اور تسبیح کیجیے
بِحَمْدِ
حمد کے ساتھ
رَبِّكَ
اپنے رب کی
بِٱلْعَشِىِّ
شام کو۔ پچھلے پہر
وَٱلْإِبْكَٰرِ
اور صبح کو۔ پہلے پہر

پس آپ صبر کیجئے، بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے اور اپنی اُمت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے٭ اور صبح و شام اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیا کیجئے، ٭ لِذَنبِكَ میں ”امت“ مضاف ہے جو کہ محذوف ہے، لہٰذا اس بناء پر یہاں وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ امام نسفی، امام قرطبی اور علامہ شوکانی نے یہی معنی بیان کیا ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ کریں: ۱۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) أی لِذَنبِ أُمتِکَ یعنی اپنی امت کے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے۔ (نسفی، مدارک التنزیل و حقائق التاویل، ۴: ۳۵۹)۔ ۲۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: لِذَنبِ أُمتِکَ حذف المضاف و أقیم المضاف الیہ مقامہ۔ ”وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔“ (قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۵: ۳۲۴)۔ ۳۔ وَ قیل: لِذَنبِکَ لِذَنبِ أُمتِکَ فِی حَقِّکَ ”یہ بھی کہا گیا ہے کہ لِذَنبِکَ یعنی آپ اپنے حق میں امت سے سرزَد ہونے والی خطاؤں کی بخشش طلب کیجئے۔“ (ابن حیان اندلسی، البحر المحیط، ۷: ۴۷۱)۔ ۴۔ (وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ) قیل: المراد ذنب أمتک فھو علی حذف المضاف ” کہا گیا ہے کہ اس سے مراد امت کے گناہ ہیں اور یہ معنی مضاف کے محذوف ہونے کی بناء پر ہے۔“ ( علامہ شوکانی، فتح القدیر، ۴: ۴۹۷)

تفسير

اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٮهُمْۙ اِنْ فِىْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِۗ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِۗ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ

إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يُجَٰدِلُونَ
جو جھگڑتے ہیں
فِىٓ
میں
ءَايَٰتِ
آیات (میں)
ٱللَّهِ
اللہ کی
بِغَيْرِ
بغیر
سُلْطَٰنٍ
کسی دلیل کے
أَتَىٰهُمْۙ
آئی ان کے پاس
إِن
نہیں
فِى
میں
صُدُورِهِمْ
ان کے سینوں (میں)
إِلَّا
مگر
كِبْرٌ
تکبر۔ بڑائی
مَّا
نہیں
هُم
وہ
بِبَٰلِغِيهِۚ
پہنچنے والے اس کو
فَٱسْتَعِذْ
پس پناہ مانگیے۔ پناہ طلب کیجیے
بِٱللَّهِۖ
اللہ کی
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہی
ٱلسَّمِيعُ
سننے والا ہے
ٱلْبَصِيرُ
دیکھنے والا ہے

بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو اُن کے پاس آئی ہو، ان کے سینوں میں سوائے غرور کے اور کچھ نہیں ہے وہ اُس (حقیقی برتری) تک پہنچنے والے ہی نہیں۔ پس آپ (ان کے شر سے) اللہ کی پناہ مانگتے رہئے، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے،

تفسير

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ

لَخَلْقُ
یقینا پیدائش
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں کی
وَٱلْأَرْضِ
اور زمین کی
أَكْبَرُ
زیادہ بڑی ہے
مِنْ
سے
خَلْقِ
پیدائش (سے)
ٱلنَّاسِ
انسانوں کی
وَلَٰكِنَّ
اور لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
علم رکھتے

یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے کہیں بڑھ کر ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے،

تفسير

وَمَا يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۙ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِىْۤءُ ۗ قَلِيْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ

وَمَا
اور نہیں
يَسْتَوِى
برابر ہوسکتے
ٱلْأَعْمَىٰ
اندھا
وَٱلْبَصِيرُ
اور دیکھنے والا
وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے عمل کیے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے
وَلَا
اور نہ
ٱلْمُسِىٓءُۚ
بدکار۔ برے کام کرنے والے
قَلِيلًا
کتنا
مَّا
کم
تَتَذَكَّرُونَ
تم نصیحت پکڑتے ہو

اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے سو (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے (وہ) اور بدکار بھی (برابر) نہیں ہیں۔ تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو،

تفسير

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ

إِنَّ
بیشک
ٱلسَّاعَةَ
قیامت کی گھڑی
لَءَاتِيَةٌ
البتہ آنے والی ہے
لَّا
نہیں
رَيْبَ
کوئی شک
فِيهَا
اس میں
وَلَٰكِنَّ
لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يُؤْمِنُونَ
ایمان رکھتے

بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے،

تفسير

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِىْۤ اَسْتَجِبْ لَـكُمْۗ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِىْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِيْنَ

وَقَالَ
اور کہا
رَبُّكُمُ
تمہارے رب نے
ٱدْعُونِىٓ
پکارو مجھ کو
أَسْتَجِبْ
میں جواب دوں گا
لَكُمْۚ
تمہارے لیے
إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَسْتَكْبِرُونَ
جو تکبر کرتے ہیں
عَنْ
سے
عِبَادَتِى
میری عبادت (سے)
سَيَدْخُلُونَ
عنقریب وہ داخل ہوں گے
جَهَنَّمَ
جہنم میں
دَاخِرِينَ
ذلیل و خوار ہوکر

اور تمہارے رب نے فرمایا ہے: تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری بندگی سے سرکشی کرتے ہیں وہ عنقریب دوزخ میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے،

تفسير