اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْۗ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِى الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْۗ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ
اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ قوّت میں (بھی) اِن سے بہت زیادہ تھے اور اُن آثار و نشانات میں (بھی) جو زمین میں (چھوڑ گئے) تھے۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا، اور ان کے لئے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہ تھا،
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّأْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُۗ اِنَّهٗ قَوِىٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ
یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے پھر انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، بے شک وہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے،
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا،
اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ
فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادوگر ہے، بڑا جھوٹا ہے،
فَلَمَّا جَاۤءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اقْتُلُوْۤا اَبْنَاۤءَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَاسْتَحْيُوْا نِسَاۤءَهُمْۗ وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ
پھر جب وہ ہماری بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ان لوگوں کے لڑکوں کو قتل کر دو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو، اور کافروں کی پر فریب چالیں صرف ہلاکت ہی تھیں،
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِىْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَلْيَدْعُ رَبَّهٗۚ اِنِّىْۤ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِى الْاَرْضِ الْفَسَادَ
اور فرعون بولا: مجھے چھوڑ دو میں موسٰی کو قتل کر دوں اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو بلا لے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا ملک (مصر) میں فساد پھیلا دے گا،
وَقَالَ مُوْسٰۤى اِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّىْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں، ہر متکبر شخص سے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا،
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ۖ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّىَ اللّٰهُ وَقَدْ جَاۤءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ ۗ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ ۗ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِىْ يَعِدُكُمْ ۚ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِىْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ
اور ملّتِ فرعون میں سے ایک مردِ مومن نے کہا جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا: کیا تم ایک شخص کو قتل کرتے ہو (صرف) اس لئے کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے، اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا بوجھ اسی پر ہوگا اور اگر وہ سچا ہے تو جس قدر عذاب کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے تمہیں پہنچ کر رہے گا، بے شک اﷲ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا سراسر جھوٹا ہو،
يٰقَوْمِ لَـكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰهِرِيْنَ فِى الْاَرْضِۖ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَأْسِ اللّٰهِ اِنْ جَاۤءَنَا ۗ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ
اے میری قوم! آج کے دن تمہاری حکومت ہے (تم ہی) سرزمینِ (مصر) میں اقتدار پر ہو، پھر کون ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔ فرعون نے کہا: میں تمہیں فقط وہی بات سمجھاتا ہوں جسے میں خود (صحیح) سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کی راہ کے سوا (اور کوئی راستہ) نہیں دکھاتا،
وَقَالَ الَّذِىْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِۙ
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! میں تم پر (بھی اگلی) قوموں کے روزِ بد کی طرح (عذاب) کا خوف رکھتا ہوں،