Skip to main content

اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْۗ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّاٰثَارًا فِى الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْۗ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ

أَوَلَمْ
کیا بھلا نہیں
يَسِيرُوا۟
وہ چلے پھرے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
فَيَنظُرُوا۟
تو وہ دیکھتے
كَيْفَ
کس طرح
كَانَ
ہوا
عَٰقِبَةُ
انجام
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کا جو
كَانُوا۟
تھے
مِن
سے
قَبْلِهِمْۚ
ان سے قبل۔ ان سے پہلے
كَانُوا۟
تھے وہ
هُمْ
وہی
أَشَدَّ
زیادہ شدید
مِنْهُمْ
ان سے
قُوَّةً
قوت میں
وَءَاثَارًا
اور آثار میں۔ نشانیوں میں
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
فَأَخَذَهُمُ
پس پکڑ لیا ان کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
بِذُنُوبِهِمْ
ان کے گناہوں کی وجہ سے
وَمَا
اور نہ
كَانَ
تھا
لَهُم
ان کے لیے
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ (سے)
مِن
کوئی
وَاقٍ
بچانے والا

اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ قوّت میں (بھی) اِن سے بہت زیادہ تھے اور اُن آثار و نشانات میں (بھی) جو زمین میں (چھوڑ گئے) تھے۔ پھر اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں پکڑ لیا، اور ان کے لئے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہ تھا،

تفسير

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّأْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُۗ اِنَّهٗ قَوِىٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ

ذَٰلِكَ
یہ
بِأَنَّهُمْ
بوجہ اس کے کہ بیشک وہ
كَانَت
تھے
تَّأْتِيهِمْ
آتے ان کے پاس
رُسُلُهُم
ان کے رسول
بِٱلْبَيِّنَٰتِ
ساتھ روشن دلائل کے
فَكَفَرُوا۟
تو انہوں نے کفر کیا
فَأَخَذَهُمُ
پھر پکڑ لیا ان کو
ٱللَّهُۚ
اللہ نے
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
قَوِىٌّ
قوت والا ہے
شَدِيدُ
سخت
ٱلْعِقَابِ
سزا دینے والا ہے

یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے پھر انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں (عذاب میں) پکڑ لیا، بے شک وہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے،

تفسير

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
مُوسَىٰ
موسیٰ کو
بِـَٔايَٰتِنَا
اپنی نشانیوں کے ساتھ
وَسُلْطَٰنٍ
اور دلیل کے ساتھ
مُّبِينٍ
روشن

اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا،

تفسير

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ

إِلَىٰ
طرف
فِرْعَوْنَ
فرعون کی
وَهَٰمَٰنَ
اور ہامان کی طرف
وَقَٰرُونَ
اور قارون کی طرف
فَقَالُوا۟
تو انہوں نے کہا
سَٰحِرٌ
جادوگر ہے
كَذَّابٌ
بہت جھوٹا

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادوگر ہے، بڑا جھوٹا ہے،

تفسير

فَلَمَّا جَاۤءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اقْتُلُوْۤا اَبْنَاۤءَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَاسْتَحْيُوْا نِسَاۤءَهُمْۗ وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ

فَلَمَّا
تو جب
جَآءَهُم
وہ لایا ان کے پاس
بِٱلْحَقِّ
حق کو
مِنْ
سے
عِندِنَا
ہمارے پاس (سے)
قَالُوا۟
انہوں نے کہا
ٱقْتُلُوٓا۟
قتل کرو
أَبْنَآءَ
بیٹوں کو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کے
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
مَعَهُۥ
اس کے ساتھ
وَٱسْتَحْيُوا۟
اور زندہ چھوڑ دو
نِسَآءَهُمْۚ
ان کی لڑکیوں کو
وَمَا
اور نہیں
كَيْدُ
چال
ٱلْكَٰفِرِينَ
کافروں کی
إِلَّا
مگر
فِى
میں
ضَلَٰلٍ
گمراہی (میں)

پھر جب وہ ہماری بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ان لوگوں کے لڑکوں کو قتل کر دو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو، اور کافروں کی پر فریب چالیں صرف ہلاکت ہی تھیں،

تفسير

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِىْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَلْيَدْعُ رَبَّهٗۚ اِنِّىْۤ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِى الْاَرْضِ الْفَسَادَ

وَقَالَ
اور کہا
فِرْعَوْنُ
فرعون نے
ذَرُونِىٓ
چھوڑو مجھ کو
أَقْتُلْ
میں قتل کروں
مُوسَىٰ
موسیٰ کو
وَلْيَدْعُ
اور چاہیے کہ وہ پکارے
رَبَّهُۥٓۖ
اپنے رب کو
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَخَافُ
میں ڈرتا ہوں
أَن
کہ
يُبَدِّلَ
وہ بدل دے گا
دِينَكُمْ
تمہارے دین کو۔ طریقے کو
أَوْ
یا
أَن
یہ کہ
يُظْهِرَ
وہ برپا کردے گا
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
ٱلْفَسَادَ
فساد کو

اور فرعون بولا: مجھے چھوڑ دو میں موسٰی کو قتل کر دوں اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو بلا لے۔ مجھے خوف ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا ملک (مصر) میں فساد پھیلا دے گا،

تفسير

وَقَالَ مُوْسٰۤى اِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّىْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ

وَقَالَ
اور کہا
مُوسَىٰٓ
موسیٰ نے
إِنِّى
بیشک میں
عُذْتُ
میں پناہ چاہتا ہوں
بِرَبِّى
اپنے رب کی
وَرَبِّكُم
اور تمہارے رب کی
مِّن
سے
كُلِّ
ہر
مُتَكَبِّرٍ
تکبر کرنے والے (سے)
لَّا
نہیں
يُؤْمِنُ
جو ایمان رکھتا
بِيَوْمِ
دن پر
ٱلْحِسَابِ
حساب کے (دن پر)

اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں، ہر متکبر شخص سے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا،

تفسير

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ۖ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّىَ اللّٰهُ وَقَدْ جَاۤءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ ۗ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ ۗ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِىْ يَعِدُكُمْ ۚ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِىْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ

وَقَالَ
اور کہا
رَجُلٌ
اس شخص نے
مُّؤْمِنٌ
مومن
مِّنْ
سے
ءَالِ
آل
فِرْعَوْنَ
فرعون میں (سے)
يَكْتُمُ
جو چھپائے ہوئے تھا
إِيمَٰنَهُۥٓ
اپنا ایمان
أَتَقْتُلُونَ
کیا تم قتل کردو گے
رَجُلًا
ایک شخص کو
أَن
کہ
يَقُولَ
وہ کہتا ہے
رَبِّىَ
میرا رب
ٱللَّهُ
اللہ ہے
وَقَدْ
حالانکہ تحقیق
جَآءَكُم
وہ لایا تمہارے پاس
بِٱلْبَيِّنَٰتِ
روشن دلائل
مِن
سے
رَّبِّكُمْۖ
تمہارے رب کی طرف (سے)
وَإِن
اور اگر
يَكُ
ہے وہ
كَٰذِبًا
جھوٹا
فَعَلَيْهِ
تو اس پر ہے
كَذِبُهُۥۖ
جھوٹ اس کا
وَإِن
اور اگر
يَكُ
ہے وہ
صَادِقًا
سچا
يُصِبْكُم
پہنچے گا تم کو
بَعْضُ
بعض
ٱلَّذِى
وہ چیز
يَعِدُكُمْۖ
وہ وعدہ کرتا ہے تم سے
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
لَا
نہیں
يَهْدِى
ہدایت دیتا
مَنْ
جو کوئی ہو
هُوَ
وہ
مُسْرِفٌ
حد سے گزرنے والا
كَذَّابٌ
جھوٹا۔ جھٹلانے والا

اور ملّتِ فرعون میں سے ایک مردِ مومن نے کہا جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا: کیا تم ایک شخص کو قتل کرتے ہو (صرف) اس لئے کہ وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے، اور اگر (بالفرض) وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا بوجھ اسی پر ہوگا اور اگر وہ سچا ہے تو جس قدر عذاب کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے تمہیں پہنچ کر رہے گا، بے شک اﷲ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا سراسر جھوٹا ہو،

تفسير

يٰقَوْمِ لَـكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰهِرِيْنَ فِى الْاَرْضِۖ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَأْسِ اللّٰهِ اِنْ جَاۤءَنَا ۗ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَمَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ

يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
لَكُمُ
تمہارے لیے ہے
ٱلْمُلْكُ
بادشاہت
ٱلْيَوْمَ
آج کے دن
ظَٰهِرِينَ
غالب آنے والے ہو
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین (میں)
فَمَن
کون
يَنصُرُنَا
مدد کرے گا ہماری۔ بچائے گا ہم کو
مِنۢ
سے
بَأْسِ
عذاب (سے)
ٱللَّهِ
اللہ کے
إِن
اگر
جَآءَنَاۚ
وہ آگیا ہمارے پاس
قَالَ
کہا
فِرْعَوْنُ
فرعون نے
مَآ
نہیں
أُرِيكُمْ
میں دکھاتا تم کو
إِلَّا
مگر
مَآ
جو
أَرَىٰ
میں دیکھتا ہوں
وَمَآ
اور نہیں
أَهْدِيكُمْ
میں دکھاتا تم کو
إِلَّا
مگر
سَبِيلَ
راستہ
ٱلرَّشَادِ
صلاح کا۔ بھلائی کا

اے میری قوم! آج کے دن تمہاری حکومت ہے (تم ہی) سرزمینِ (مصر) میں اقتدار پر ہو، پھر کون ہمیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتا ہے اگر وہ (عذاب) ہمارے پاس آجائے۔ فرعون نے کہا: میں تمہیں فقط وہی بات سمجھاتا ہوں جسے میں خود (صحیح) سمجھتا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کی راہ کے سوا (اور کوئی راستہ) نہیں دکھاتا،

تفسير

وَقَالَ الَّذِىْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِۙ

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِىٓ
اس شخص نے
ءَامَنَ
جو ایمان لایا تھا
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَخَافُ
ڈرتا ہوں
عَلَيْكُم
تم پر
مِّثْلَ
مانند
يَوْمِ
دن
ٱلْأَحْزَابِ
گروہوں کے۔ گزشتہ اقوام کے

اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! میں تم پر (بھی اگلی) قوموں کے روزِ بد کی طرح (عذاب) کا خوف رکھتا ہوں،

تفسير