Skip to main content

وَلَاۤ اَقُوْلُ لَـكُمْ عِنْدِىْ خَزَاۤٮِٕنُ اللّٰهِ وَلَاۤ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَاۤ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ وَّلَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِىْۤ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا ۗ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِىْۤ اَنْفُسِهِمْ ۚ اِنِّىْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ

وَلَآ
اور نہ
أَقُولُ
میں کہتا
لَكُمْ
تم کو
عِندِى
میرے پاس
خَزَآئِنُ
خزانے ہیں
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَلَآ
اور نہ
أَعْلَمُ
میں جانتا ہوں
ٱلْغَيْبَ
غیب کو
وَلَآ
اور نہ
أَقُولُ
میں کہتاہوں
إِنِّى
کہ میں
مَلَكٌ
ایک فرشتہ ہوں
وَلَآ
اور نہ میں
أَقُولُ
کہتا ہوں
لِلَّذِينَ
ان لوگوں کو
تَزْدَرِىٓ
جنہیں حقیر سمجھتی ہیں
أَعْيُنُكُمْ
تمہاری نگاہیں
لَن
ہرگز نہ
يُؤْتِيَهُمُ
دے گا ان کو
ٱللَّهُ
اللہ
خَيْرًاۖ
کوئی بھلائی
ٱللَّهُ
اللہ
أَعْلَمُ
خوب جانتا ہے
بِمَا
اس کو
فِىٓ
میں
أَنفُسِهِمْۖ
جو ان کے نفسوں میں ہے
إِنِّىٓ
بیشک میں
إِذًا
تب
لَّمِنَ
البتہ
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالموں میں سے ہوں گا

اور میں تم سے (یہ) نہیں کہتا کہ میرے پاس اﷲ کے خزانے ہیں (یعنی میں بے حد دولت مند ہوں) اور نہ (یہ کہ) میں (اﷲ کے بتائے بغیر) خود غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں (انسان نہیں) فرشتہ ہوں (میری دعوت کرشماتی دعوؤں پر مبنی نہیں ہے) اور نہ ان لوگوں کی نسبت جنہیں تمہاری نگاہیں حقیر جان رہی ہیں یہ کہتا ہوں کہ اﷲ انہیں ہرگز کوئی بھلائی نہ دے گا (یہ اﷲ کا امر اور ہر شخص کا نصیب ہے)، اﷲ بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر ایسا کہوں تو) بیشک میں اسی وقت ظالموں میں سے ہو جاؤں گا،

تفسير

قَالُوْا يٰـنُوْحُ قَدْ جَادَلْتَـنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَالَـنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ‏

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
يَٰنُوحُ
اے نوح
قَدْ
تحقیق
جَٰدَلْتَنَا
تو نے جھگڑا کیا ہم سے
فَأَكْثَرْتَ
پھر کثرت سے کیا تم نے
جِدَٰلَنَا
جھگڑاہم سے
فَأْتِنَا
پس لے آ ہمارے پاس
بِمَا
ساتھ اس کے
تَعِدُنَآ
جو تو دھمکی دیتا ہے ہم کو
إِن
اگر
كُنتَ
تو ہے
مِنَ
سے
ٱلصَّٰدِقِينَ
سچوں میں سے

وہ کہنے لگے: اے نوح! بیشک تم ہم سے جھگڑ چکے سو تم نے ہم سے بہت جھگڑا کر لیا، بس اب ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آؤ جس کا تم ہم سے وعدہ کرتے ہو اگر تم (واقعی) سچے ہو،

تفسير

قَالَ اِنَّمَا يَأْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۤءَ وَمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ

قَالَ
کہا
إِنَّمَا
بیشک
يَأْتِيكُم
لائے گا تمہارے پاس
بِهِ
اس کو
ٱللَّهُ
اللہ
إِن
اگر
شَآءَ
وہ چاہے
وَمَآ
اور نہیں
أَنتُم
تم
بِمُعْجِزِينَ
عاجز کرنے والے

(نوح علیہ السلام نے) کہا: وہ (عذاب) تو بس اﷲ ہی تم پر لائے گا اگر اس نے چاہا اور تم (اسے) عاجز نہیں کرسکتے،

تفسير

وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِىْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْۗ هُوَ رَبُّكُمْۗ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَۗ

وَلَا
اور نہیں
يَنفَعُكُمْ
فائدہ دے سکتی تم کو
نُصْحِىٓ
میری خیر خواہی
إِنْ
اگر
أَرَدتُّ
میں چاہوں
أَنْ
کہ
أَنصَحَ
میں خیر خواہی کروں
لَكُمْ
تمہاری
إِن
اگر
كَانَ
ہے
ٱللَّهُ
اللہ
يُرِيدُ
ارادہ رکھتا
أَن
کہ
يُغْوِيَكُمْۚ
بھٹکا دے تم کو
هُوَ
وہ
رَبُّكُمْ
رب ہے تمہارا
وَإِلَيْهِ
اور اسی کی طرف
تُرْجَعُونَ
تم لوٹائے جاؤ گے

اور میری نصیحت (بھی) تمہیں نفع نہ دے گی خواہ میں تمہیں نصیحت کرنے کا ارادہ کروں اگر اﷲ نے تمہیں گمراہ کرنے کا ارادہ فرما لیا ہو، وہ تمہارا رب ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،

تفسير

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَـرٰٮهُ ۗ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَىَّ اِجْرَامِىْ وَ أَنَاۡ بَرِىْۤءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ

أَمْ
کیا
يَقُولُونَ
وہ کہتے ہیں
ٱفْتَرَىٰهُۖ
اس نے گھڑ لیا اس کو
قُلْ
کہہ دیجیے
إِنِ
اگر
ٱفْتَرَيْتُهُۥ
میں نے گھڑ رکھا ہے اس کو
فَعَلَىَّ
تو میرے ذمہ ہے
إِجْرَامِى
میرے گناہ۔ میرے جرم
وَأَنَا۠
اور میں
بَرِىٓءٌ
بری الذمہ ہوں
مِّمَّا
اس سے جو
تُجْرِمُونَ
تم جرم کرتے ہو

(اے حبیبِ مکرّم!) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے، فرما دیجئے: اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرے جرم (کا وبال) مجھ پر ہوگا اور میں اس سے بری ہوں جو جرم تم کر رہے ہو،

تفسير

وَاُوْحِىَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَٮِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ۖ

وَأُوحِىَ
اور وحی کی گئی
إِلَىٰ
طرف
نُوحٍ
نوح کے
أَنَّهُۥ
کہ بیشک وہ
لَن
ہرگز نہ
يُؤْمِنَ
ایمان لائے گا
مِن
سے
قَوْمِكَ
تیری قوم میں سے
إِلَّا
سوائے مگر
مَن
جو
قَدْ
تحقیق
ءَامَنَ
ایمان لا چکا
فَلَا
تو نہ
تَبْتَئِسْ
تو غم کر
بِمَا
بوجہ اس کے
كَانُوا۟
جووہ
يَفْعَلُونَ
کرتے ہیں

اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ (اب) ہرگز تمہاری قوم میں سے (مزید) کوئی ایمان نہیں لائے گا سوائے ان کے جو (اس وقت تک) ایمان لا چکے ہیں، سو آپ ان کے (تکذیب و استہزا کے) کاموں سے رنجیدہ نہ ہوں،

تفسير

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِىْ فِى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ

وَٱصْنَعِ
اور بنا لے
ٱلْفُلْكَ
ایک کشتی
بِأَعْيُنِنَا
ہماری نگاہوں کے سامنے
وَوَحْيِنَا
اور ہماری وحی کے مطابق
وَلَا
اور نہ
تُخَٰطِبْنِى
تو مخاطب ہونا مجھ سے
فِى
میں
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کے بارے میں
ظَلَمُوٓا۟ۚ
جنہوں نے ظلم کیا
إِنَّهُم
بیشک وہ
مُّغْرَقُونَ
غرق کیے جائیں گے

اور تم ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی بناؤ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے (کوئی) بات نہ کرنا، وہ ضرور غرق کئے جائیں گے،

تفسير

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَۗ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُۗ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَۗ

وَيَصْنَعُ
وہ بنا رہا تھا
ٱلْفُلْكَ
کشتی
وَكُلَّمَا
اور جب کبھی
مَرَّ
گزرتے
عَلَيْهِ
اس پر
مَلَأٌ
سردار
مِّن
سے
قَوْمِهِۦ
اس کی قوم میں سے
سَخِرُوا۟
وہ تمسخر کرتے
مِنْهُۚ
اس سے
قَالَ
وہ کہتا
إِن
اگر
تَسْخَرُوا۟
تم مذاق اڑاتے ہو
مِنَّا
ہمارا
فَإِنَّا
تو ہم
نَسْخَرُ
بھی مذاق اڑائیں گے
مِنكُمْ
تمہارا
كَمَا
جیسے
تَسْخَرُونَ
تم مذاق کررہے ہو

اور نوح (علیہ السلام) کشتی بناتے رہے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار اُن کے پاس سے گزرتے ان کا مذاق اڑاتے۔ نوح (علیہ السلام انہیں جوابًا) کہتے: اگر (آج) تم ہم سے تمسخر کرتے ہو تو (کل) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے جیسے تم تمسخر کر رہے ہو،

تفسير

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ مَنْ يَّأْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ

فَسَوْفَ
پس عنقریب
تَعْلَمُونَ
تم جان لوگے
مَن
کون ہے
يَأْتِيهِ
آئے گا اس کے پاس
عَذَابٌ
عذاب
يُخْزِيهِ
رسوا کردے گا اس کو
وَيَحِلُّ
اور اترے گا
عَلَيْهِ
اس پر
عَذَابٌ
عذاب
مُّقِيمٌ
دائمی

سو تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر (دنیا میں ہی) عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل و رسوا کر دے گا اور (پھر آخرت میں بھی کس پر) ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب اترتا ہے،

تفسير

حَتّٰۤى اِذَا جَاۤءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَۗ وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ

حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
جَآءَ
آگیا
أَمْرُنَا
حکم ہمارا
وَفَارَ
اور جوش مارا
ٱلتَّنُّورُ
تنور نے۔ سطح زمین نے
قُلْنَا
کہا ہم
ٱحْمِلْ
سوار کر
فِيهَا
اس میں
مِن
سے
كُلٍّ
ہر چیز سے
زَوْجَيْنِ
جوڑے
ٱثْنَيْنِ
دو ۔ نر اور مادہ
وَأَهْلَكَ
اور اپنے اہل و عیال کو
إِلَّا
سوائے
مَن
اس کے جس کے بارے میں
سَبَقَ
گزرچکی
عَلَيْهِ
اس پر
ٱلْقَوْلُ
بات
وَمَنْ
اور جو لوگ
ءَامَنَۚ
ایمان لائے
وَمَآ
اور نہ
ءَامَنَ
ایمان لائے
مَعَهُۥٓ
اس کے ساتھ
إِلَّا
مگر
قَلِيلٌ
بہت تھوڑے

یہاں تک کہ جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا اور تنور (پانی کے چشموں کی طرح) جوش سے ابلنے لگا (تو) ہم نے فرمایا: (اے نوح!) اس کشتی میں ہر جنس میں سے (نر اور مادہ) دو عدد پر مشتمل جوڑا سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی (لے لو) سوائے ان کے جن پر (ہلاکت کا) فرمان پہلے صادر ہو چکا ہے اور جو کوئی ایمان لے آیا ہے (اسے بھی ساتھ لے لو)، اور چند (لوگوں) کے سوا ان کے ساتھ کوئی ایمان نہیں لایا تھا،

تفسير