اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِىْ صُدُوْرِكُمْۚ فَسَيَـقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۗ قُلِ الَّذِىْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ۗ قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا
یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے خیال میں (ان چیزوں سے بھی) زیادہ سخت ہو (کہ اس میں زندگی پانے کی بالکل صلاحیت ہی نہ ہو)، پھر وہ (اس حال میں) کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ فرما دیجئے: وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا تھا، پھر وہ (تعجب اور تمسخر کے طور پر) آپ کے سامنے اپنے سر ہلا دیں گے اور کہیں گے: یہ کب ہوگا؟ فرما دیجئے: امید ہے جلد ہی ہو جائے گا،
يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا
جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرتے ہوگے کہ تم (دنیا میں) بہت تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو،
وَقُلْ لِّعِبَادِىْ يَقُوْلُوا الَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُۗ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْۗ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا
اور آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد بپا کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے،
رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْۗ اِنْ يَّشَأْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۗ وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا
تمہارا رب تمہارے حال سے بہتر واقف ہے، اگر چاہے تم پر رحم فرما دے یا اگر چاہے تم پر عذاب کرے، اور ہم نے آپ کو ان پر (ان کے امور کا) ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا،
وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا
اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی،
قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا
فرما دیجئے: تم ان سب کو بلا لو جنہیں تم اﷲ کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو وہ تم سے تکلیف دور کرنے پر قادر نہیں ہیں اور نہ (اسے دوسروں کی طرف) پھیر دینے کا (اختیار رکھتے ہیں)،
اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗۗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا
یہ لوگ جن کی عبادت کرتے ہیں (یعنی ملائکہ، جنّات، عیسٰی اور عزیر علیہما السلام وغیرھم کے بت اور تصویریں بنا کر انہیں پوجتے ہیں) وہ (تو خود ہی) اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے (بارگاہِ الٰہی میں) زیادہ مقرّب کون ہے اور (وہ خود) اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور (وہ خود ہی) اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، (اب تم ہی بتاؤ کہ وہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو خود معبودِ برحق کے سامنے جھک رہے ہیں)، بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے،
وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا ۗ كَانَ ذٰلِكَ فِى الْـكِتٰبِ مَسْطُوْرًا
اور (کفر و سرکشی کرنے والوں کی) کوئی بستی ایسی نہیں مگر ہم اسے روزِ قیامت سے قبل ہی تباہ کر دیں گے یا اسے نہایت ہی سخت عذاب دیں گے، یہ (امر) کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھا ہوا ہے،
وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَۗ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَاۗ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا
اور ہم کو (اب بھی ان کے مطالبہ پر) نشانیاں بھیجنے سے (کسی چیز نے) منع نہیں کیا سوائے اس کے کہ ان ہی (نشانیوں) کو پہلے لوگوں نے جھٹلا دیا تھا (سو اس کے بعد وہ فوراً تباہ و برباد کر دیئے گئے اور کوئی مہلت باقی نہ رہی، اے حبیب! ہم آپ کی بِعثت کے بعد آپ کی قوم سے یہ معاملہ نہیں کرنا چاہتے)، اور ہم نے قومِ ثمود کو (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی (کی) کھلی نشانی دی تھی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم نشانیاں نہیں بھیجا کرتے مگر (عذاب کی آمد سے قبل آخری بار) خوفزدہ کرنے کے لئے (پھر جب اس نشانی کا انکار ہو جاتا ہے تو اسی وقت تباہ کن عذاب بھیج دیا جاتا ہے)،
وَاِذْ قُلْنَا لَـكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۗ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِىْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِى الْقُرْاٰنِ ۗ وَنُخَوِّفُهُمْۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا
اور (یاد کیجئے) جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ بیشک آپ کے رب نے (سب) لوگوں کو (اپنے علم و قدرت کے) احاطہ میں لے رکھا ہے، اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کے لئے صرف ایک آزمائش بنایا ہے (ایمان والے مان گئے اور ظاہر بین الجھ گئے) اور اس درخت (شجرۃ الزقوم) کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ (ڈرانا بھی) ان میں کوئی اضافہ نہیں کرتا سوائے اور بڑی سرکشی کے،