Skip to main content

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِىْ صُدُوْرِكُمْۚ فَسَيَـقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۗ قُلِ الَّذِىْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ۗ قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا

أَوْ
یا
خَلْقًا
مخلوق
مِّمَّا
اس میں سے جو
يَكْبُرُ
بڑی ہوتی ہے
فِى
میں
صُدُورِكُمْۚ
تمہارے سینوں
فَسَيَقُولُونَ
پس عنقریب وہ کہیں گے
مَن
کون
يُعِيدُنَاۖ
لوٹائے گا ہم کو
قُلِ
کہہ دیجئے کہ وہ ہستی
ٱلَّذِى
جس نے
فَطَرَكُمْ
پیدا کیا تم کو
أَوَّلَ
پہلی
مَرَّةٍۚ
بار
فَسَيُنْغِضُونَ
پس عنقریب سر ہلائیں گے
إِلَيْكَ
تیری طرف
رُءُوسَهُمْ
اپنے سروں کو
وَيَقُولُونَ
اور وہ کہیں گے
مَتَىٰ
کب ہے
هُوَۖ
وہ
قُلْ
کہہ دیجئے
عَسَىٰٓ
امید ہے
أَن
کہ
يَكُونَ
وہ ہو
قَرِيبًا
قریب ہی

یا کوئی ایسی مخلوق جو تمہارے خیال میں (ان چیزوں سے بھی) زیادہ سخت ہو (کہ اس میں زندگی پانے کی بالکل صلاحیت ہی نہ ہو)، پھر وہ (اس حال میں) کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا؟ فرما دیجئے: وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا تھا، پھر وہ (تعجب اور تمسخر کے طور پر) آپ کے سامنے اپنے سر ہلا دیں گے اور کہیں گے: یہ کب ہوگا؟ فرما دیجئے: امید ہے جلد ہی ہو جائے گا،

تفسير

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا

يَوْمَ
جس دن وہ
يَدْعُوكُمْ
پکارے گا تم کو
فَتَسْتَجِيبُونَ
پس تم جواب دوگے
بِحَمْدِهِۦ
ساتھ اس کی حمد سے
وَتَظُنُّونَ
اور تم سمجھ جاؤ گے
إِن
کہ نہیں
لَّبِثْتُمْ
ٹھہرے تم
إِلَّا
مگر
قَلِيلًا
بہت تھوڑا

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرتے ہوگے کہ تم (دنیا میں) بہت تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو،

تفسير

وَقُلْ لِّعِبَادِىْ يَقُوْلُوا الَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُۗ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْۗ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا

وَقُل
اور کہہ دیجئے
لِّعِبَادِى
میرے بندوں کو
يَقُولُوا۟
وہ کہیں
ٱلَّتِى
وہ بات
هِىَ
جو
أَحْسَنُۚ
زیادہ اچھی ہو
إِنَّ
کیونکہ
ٱلشَّيْطَٰنَ
شیطان
يَنزَغُ
فساد ڈلواتا ہے
بَيْنَهُمْۚ
ان کے درمیان
إِنَّ
بیشک
ٱلشَّيْطَٰنَ
شیطان
كَانَ
ہے
لِلْإِنسَٰنِ
انسان کے لئے
عَدُوًّا
دشمن
مُّبِينًا
کھلا

اور آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد بپا کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے،

تفسير

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْۗ اِنْ يَّشَأْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۗ وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا

رَّبُّكُمْ
تمہارا رب
أَعْلَمُ
خوب جانتا ہے
بِكُمْۖ
تم کو
إِن
اگر
يَشَأْ
وہ چاہے
يَرْحَمْكُمْ
رحم کرے تم پر
أَوْ
یا
إِن
اگر
يَشَأْ
چاہے
يُعَذِّبْكُمْۚ
عذاب دے تم کو
وَمَآ
اور نہیں
أَرْسَلْنَٰكَ
بھیجا ہم نے آپ کو
عَلَيْهِمْ
ان پر
وَكِيلًا
کار ساز

تمہارا رب تمہارے حال سے بہتر واقف ہے، اگر چاہے تم پر رحم فرما دے یا اگر چاہے تم پر عذاب کرے، اور ہم نے آپ کو ان پر (ان کے امور کا) ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا،

تفسير

وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا

وَرَبُّكَ
اور تیرا رب
أَعْلَمُ
خوب جانتا ہے
بِمَن
اس کو جو
فِى
میں ہے
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں
وَٱلْأَرْضِۗ
اور زمین میں
وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
فَضَّلْنَا
فضیلت دی ہم نے
بَعْضَ
بعض
ٱلنَّبِيِّۦنَ
نبیوں کو
عَلَىٰ
پر
بَعْضٍۖ
بعض
وَءَاتَيْنَا
اور دی ہم نے
دَاوُۥدَ
داؤد کو
زَبُورًا
زبور

اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی،

تفسير

قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا

قُلِ
کہہ دیجئے
ٱدْعُوا۟
کہ پکارو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
زَعَمْتُم
تم گمان رکھتے ہو
مِّن
سے
دُونِهِۦ
اس کے سوا تو
فَلَا
نہیں
يَمْلِكُونَ
وہ مالک ہوسکتے
كَشْفَ
ہٹانے کے
ٱلضُّرِّ
تکلیف
عَنكُمْ
تم سے
وَلَا
اور نہ
تَحْوِيلًا
بدلنے کے

فرما دیجئے: تم ان سب کو بلا لو جنہیں تم اﷲ کے سوا (معبود) گمان کرتے ہو وہ تم سے تکلیف دور کرنے پر قادر نہیں ہیں اور نہ (اسے دوسروں کی طرف) پھیر دینے کا (اختیار رکھتے ہیں)،

تفسير

اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗۗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا

أُو۟لَٰٓئِكَ
یہ
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
يَدْعُونَ
جن کو وہ پکارتے ہیں
يَبْتَغُونَ
وہ (خود) تلاش کرتے ہیں
إِلَىٰ
طرف
رَبِّهِمُ
اپنے رب کی
ٱلْوَسِيلَةَ
کوئی ذریعہ
أَيُّهُمْ
کون سا ان میں سے
أَقْرَبُ
قریب تر
وَيَرْجُونَ
اور وہ امید رکھتے ہیں
رَحْمَتَهُۥ
اس کی رحمت کی
وَيَخَافُونَ
اورر وہ ڈرتے ہیں
عَذَابَهُۥٓۚ
اس کے عذاب سے
إِنَّ
بیشک
عَذَابَ
عذاب
رَبِّكَ
تیرے رب کا
كَانَ
ہے
مَحْذُورًا
ڈرنے کے لائق

یہ لوگ جن کی عبادت کرتے ہیں (یعنی ملائکہ، جنّات، عیسٰی اور عزیر علیہما السلام وغیرھم کے بت اور تصویریں بنا کر انہیں پوجتے ہیں) وہ (تو خود ہی) اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے (بارگاہِ الٰہی میں) زیادہ مقرّب کون ہے اور (وہ خود) اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور (وہ خود ہی) اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، (اب تم ہی بتاؤ کہ وہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو خود معبودِ برحق کے سامنے جھک رہے ہیں)، بیشک آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے،

تفسير

وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا ۗ كَانَ ذٰلِكَ فِى الْـكِتٰبِ مَسْطُوْرًا

وَإِن
اور نہیں
مِّن
سے
قَرْيَةٍ
کوئی بستی
إِلَّا
مگر
نَحْنُ
ہم
مُهْلِكُوهَا
ہلاک کرنے والے ہیں اس کو
قَبْلَ
پہلے
يَوْمِ
دن سے
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
أَوْ
یا
مُعَذِّبُوهَا
عذاب دینے والے ہیں اس کو
عَذَابًا
عذاب
شَدِيدًاۚ
سخت
كَانَ
ہے
ذَٰلِكَ
یہ
فِى
میں
ٱلْكِتَٰبِ
کتاب
مَسْطُورًا
لکھا ہوا

اور (کفر و سرکشی کرنے والوں کی) کوئی بستی ایسی نہیں مگر ہم اسے روزِ قیامت سے قبل ہی تباہ کر دیں گے یا اسے نہایت ہی سخت عذاب دیں گے، یہ (امر) کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھا ہوا ہے،

تفسير

وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَۗ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَاۗ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا

وَمَا
اور نہیں
مَنَعَنَآ
روکا ہم کو
أَن
کہ
نُّرْسِلَ
ہم بھیجیں
بِٱلْءَايَٰتِ
نشانیاں
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
كَذَّبَ
جھٹلایا
بِهَا
ان کو
ٱلْأَوَّلُونَۚ
پہلوں میں
وَءَاتَيْنَا
اور دی ہم نے
ثَمُودَ
ثمود کو
ٱلنَّاقَةَ
اونٹنی
مُبْصِرَةً
واضح/ روشن کرنے والی
فَظَلَمُوا۟
تو انہوں نے ظلم کیا
بِهَاۚ
اس کے ساتھ
وَمَا
اور نہیں
نُرْسِلُ
ہم بھیجتے
بِٱلْءَايَٰتِ
نشانیاں
إِلَّا
مگر
تَخْوِيفًا
ڈرانے کے لئے

اور ہم کو (اب بھی ان کے مطالبہ پر) نشانیاں بھیجنے سے (کسی چیز نے) منع نہیں کیا سوائے اس کے کہ ان ہی (نشانیوں) کو پہلے لوگوں نے جھٹلا دیا تھا (سو اس کے بعد وہ فوراً تباہ و برباد کر دیئے گئے اور کوئی مہلت باقی نہ رہی، اے حبیب! ہم آپ کی بِعثت کے بعد آپ کی قوم سے یہ معاملہ نہیں کرنا چاہتے)، اور ہم نے قومِ ثمود کو (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی (کی) کھلی نشانی دی تھی تو انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم نشانیاں نہیں بھیجا کرتے مگر (عذاب کی آمد سے قبل آخری بار) خوفزدہ کرنے کے لئے (پھر جب اس نشانی کا انکار ہو جاتا ہے تو اسی وقت تباہ کن عذاب بھیج دیا جاتا ہے)،

تفسير

وَاِذْ قُلْنَا لَـكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۗ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِىْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِى الْقُرْاٰنِ ۗ وَنُخَوِّفُهُمْۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا

وَإِذْ
اور جب
قُلْنَا
کہا ہم نے
لَكَ
تیرے لئے
إِنَّ
بیشک
رَبَّكَ
تیرے رب نے
أَحَاطَ
گھیر لیا ہے
بِٱلنَّاسِۚ
لوگوں کو
وَمَا
اور نہیں
جَعَلْنَا
بنایا ہم نے
ٱلرُّءْيَا
منظر کو
ٱلَّتِىٓ
وہ جو
أَرَيْنَٰكَ
دکھایا ہم نے تجھ کو
إِلَّا
مگر
فِتْنَةً
فتنہ
لِّلنَّاسِ
لوگوں کے لئے
وَٱلشَّجَرَةَ
اور وہ درخت
ٱلْمَلْعُونَةَ
جو لعنت کیا گیا
فِى
میں
ٱلْقُرْءَانِۚ
قرآن
وَنُخَوِّفُهُمْ
اور ہم ڈراتے ہیں ان کو
فَمَا
تو نہیں
يَزِيدُهُمْ
بڑھاتا/ زیادہ کرتا ان کو
إِلَّا
مگر
طُغْيَٰنًا
سرکشی
كَبِيرًا
بڑی (میں)

اور (یاد کیجئے) جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ بیشک آپ کے رب نے (سب) لوگوں کو (اپنے علم و قدرت کے) احاطہ میں لے رکھا ہے، اور ہم نے تو (شبِ معراج کے) اس نظّارہ کو جو ہم نے آپ کو دکھایا لوگوں کے لئے صرف ایک آزمائش بنایا ہے (ایمان والے مان گئے اور ظاہر بین الجھ گئے) اور اس درخت (شجرۃ الزقوم) کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ (ڈرانا بھی) ان میں کوئی اضافہ نہیں کرتا سوائے اور بڑی سرکشی کے،

تفسير