Skip to main content

اٰۤلْــٰٔنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ

ءَآلْـَٰٔنَ
کیا اب
وَقَدْ
حالانکہ
عَصَيْتَ
تحقیق تو نے نافرمانی کی
قَبْلُ
اس سے پہلے
وَكُنتَ
اور تھا تو
مِنَ
میں سے
ٱلْمُفْسِدِينَ
فساد کرنے والوں

(جواب دیا گیا کہ) اب (ایمان لاتا ہے)؟ حالانکہ تو پہلے (مسلسل) نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد بپا کرنے والوں میں سے تھا،

تفسير

فَالْيَوْمَ نُـنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً ۗ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ

فَٱلْيَوْمَ
تو آج
نُنَجِّيكَ
ہم بچا لیں گے تجھ کو
بِبَدَنِكَ
تیرے بدن کے ساتھ
لِتَكُونَ
تاکہ تو ہوجائے
لِمَنْ
واسطے ان کے جو
خَلْفَكَ
تیرے پیچھے ہیں
ءَايَةًۚ
ایک نشانی
وَإِنَّ
اور بیشک
كَثِيرًا
بہت سے
مِّنَ
میں سے
ٱلنَّاسِ
لوگوں
عَنْ
سے
ءَايَٰتِنَا
ہماری آیات
لَغَٰفِلُونَ
البتہ غافل ہیں

(اے فرعون!) سو آج ہم تیرے (بے جان) جسم کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے (عبرت کا) نشان ہوسکے اور بیشک اکثر لوگ ہماری نشانیوں (کو سمجھنے) سے غافل ہیں،

تفسير

وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَاۤءَهُمُ الْعِلْمُۗ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِىْ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
بَوَّأْنَا
ٹھکانہ دیا ہم نے
بَنِىٓ
بنی
إِسْرَٰٓءِيلَ
اسرائیل کو
مُبَوَّأَ
ٹھکانہ
صِدْقٍ
سچا۔ عمدہ
وَرَزَقْنَٰهُم
اور رزق دیا ہم نے ان کو
مِّنَ
میں سے
ٱلطَّيِّبَٰتِ
پاکیزہ چیزوں
فَمَا
تو نہیں
ٱخْتَلَفُوا۟
انہوں نے اختلاف کیا
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
جَآءَهُمُ
آگیا ان کے پاس
ٱلْعِلْمُۚ
علم
إِنَّ
بیشک
رَبَّكَ
تیرا رب
يَقْضِى
فیصلہ کرے گا
بَيْنَهُمْ
ان کے درمیان
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
فِيمَا
اس میں جو
كَانُوا۟
تھے وہ
فِيهِ
اس میں
يَخْتَلِفُونَ
اختلاف کرتے

اور فی الواقع ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کے لئے عمدہ جگہ بخشی اور ہم نے انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا تو انہوں نے کوئی اختلاف نہ کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم و دانش آپہنچی۔ بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے،

تفسير

فَاِنْ كُنْتَ فِىْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ فَسْــَٔلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَۚ لَقَدْ جَاۤءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَۙ

فَإِن
پھر اگر
كُنتَ
ہے تو
فِى
میں
شَكٍّ
کسی شک
مِّمَّآ
اس چیز کے بارے میں جو
أَنزَلْنَآ
نازل کی ہم نے
إِلَيْكَ
تیری طرف
فَسْـَٔلِ
تو پوچھ لو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں سے
يَقْرَءُونَ
جو پڑھتے ہیں
ٱلْكِتَٰبَ
کتاب
مِن
سے
قَبْلِكَۚ
تجھ سے پہلے
لَقَدْ
البتہ تحقیق
جَآءَكَ
آگیا تیرے پاس
ٱلْحَقُّ
حق
مِن
طرف سے
رَّبِّكَ
تیرے رب کی
فَلَا
پس
تَكُونَنَّ
ہرگز نہ تم ہونا
مِنَ
میں سے
ٱلْمُمْتَرِينَ
شک میں پڑنے والوں

(اے سننے والے!) اگر تو اس (کتاب) کے بارے میں ذرا بھی شک میں مبتلا ہے جو ہم نے (اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے) تیری طرف اتاری ہے تو (اس کی حقانیت کی نسبت) ان لوگوں سے دریافت کرلے جو تجھ سے پہلے (اللہ کی) کتاب پڑھ رہے ہیں۔ بیشک تیری طرف تیرے رب کی جانب سے حق آگیا ہے، سو تُو شک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا،

تفسير

وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ

وَلَا
اور ہرگز نہ
تَكُونَنَّ
تم ہونا
مِنَ
میں سے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں
كَذَّبُوا۟
جنہوں نے جھٹلایا
بِـَٔايَٰتِ
آیات کو
ٱللَّهِ
اللہ کی
فَتَكُونَ
تو تم ہوجاؤ گے
مِنَ
میں سے
ٱلْخَٰسِرِينَ
خسارہ پانے والوں

اور نہ ہرگز ان لوگوں میں سے ہوجانا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے رہے ورنہ تُو خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائے گا،

تفسير

اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَۙ

إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
حَقَّتْ
سچ ہوگئی
عَلَيْهِمْ
ان پر
كَلِمَتُ
بات
رَبِّكَ
تیرے رب کی
لَا
نہیں لائیں گے
يُؤْمِنُونَ
وہ ایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) بیشک جن لوگوں پر آپ کے رب کا فرمان صادق آچکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے،

تفسير

وَلَوْ جَاۤءَتْهُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَ لِيْمَ

وَلَوْ
اور اگرچہ
جَآءَتْهُمْ
آئے ان کے پاس
كُلُّ
ہر
ءَايَةٍ
نشانی
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَرَوُا۟
وہ دیکھ لیں
ٱلْعَذَابَ
عذاب
ٱلْأَلِيمَ
دردناک

اگرچہ ان کے پاس سب نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب (بھی) دیکھ لیں،

تفسير

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِيْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ ۗ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْىِ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ

فَلَوْلَا
پھر کیوں نہ
كَانَتْ
ہوئی
قَرْيَةٌ
کوئی بستی
ءَامَنَتْ
جو ایمان لاتی
فَنَفَعَهَآ
تو نفع دیتا اس کو
إِيمَٰنُهَآ
اس کا ایمان
إِلَّا
سوائے
قَوْمَ
قوم
يُونُسَ
یونس کے
لَمَّآ
جب
ءَامَنُوا۟
وہ ایمان لائے
كَشَفْنَا
ٹال دیا ہم نے۔ ہٹا دیا ہم نے
عَنْهُمْ
ان سے
عَذَابَ
عذاب
ٱلْخِزْىِ
رسوائی کا
فِى
میں
ٱلْحَيَوٰةِ
زندگی
ٱلدُّنْيَا
دنیا کی
وَمَتَّعْنَٰهُمْ
اور فائدہ دیا ہم نے ان کو
إِلَىٰ
تک
حِينٍ
ایک وقت

پھر قومِ یونس (کی بستی) کے سوا کوئی اور ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو اور اسے اس کے ایمان لانے نے فائدہ دیا ہو۔ جب (قومِ یونس کے لوگ نزولِ عذاب سے قبل صرف اس کی نشانی دیکھ کر) ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیوی زندگی میں (ہی) رسوائی کا عذاب دور کردیا اور ہم نے انہیں ایک مدت تک منافع سے بہرہ مند رکھا،

تفسير

وَلَوْ شَاۤءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِى الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا ۗ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ

وَلَوْ
اور اگر
شَآءَ
چاہتا
رَبُّكَ
رب تیرا
لَءَامَنَ
البتہ ایمان لے آتے
مَن
جو کوئی بھی
فِى
میں ہیں
ٱلْأَرْضِ
زمین
كُلُّهُمْ
سبھی وہ تمام ان کے
جَمِيعًاۚ
سب کے سب
أَفَأَنتَ
کیا بھلا تم
تُكْرِهُ
مجبور کرو گے
ٱلنَّاسَ
لوگوں کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَكُونُوا۟
وہ ہوجائیں
مُؤْمِنِينَ
ایمان لانے والے

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو ضرور سب کے سب لوگ جو زمین میں آباد ہیں ایمان لے آتے، (جب رب نے انہیں جبراً مومن نہیں بنایا) تو کیا آپ لوگوں پر جبر کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہوجائیں،

تفسير

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِۗ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ

وَمَا
اور نہیں
كَانَ
ہے
لِنَفْسٍ
کسی انسان کے لیے
أَن
کہ
تُؤْمِنَ
وہ ایمان لاسکے
إِلَّا
مگر
بِإِذْنِ
اذن کے ساتھ
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
وَيَجْعَلُ
اور وہ ڈال دیتا ہے
ٱلرِّجْسَ
گندگی کو
عَلَى
پر
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں
لَا
جو نہیں لیتے
يَعْقِلُونَ
عقل سے کام

اور کسی شخص کو (اَز خود یہ) قدرت نہیں کہ وہ بغیر اِذنِ الٰہی کے ایمان لے آئے۔ وہ (یعنی اللہ تعالی) کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو (حق کو سمجھنے کے لئے) عقل سے کام نہیں لیتے،

تفسير