اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖۗ اٰۤلْــٴٰـنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ
کیا جس وقت وہ (عذاب) واقع ہوجائے گا تو تم اس پر ایمان لے آؤ گے، (اس وقت تم سے کہا جائے گا:) اب (ایمان لا رہے ہو؟ اس وقت کوئی فائدہ نہیں) حالانکہ تم (استہزاءً) اسی (عذاب) میں جلدی چاہتے تھے،
ثُمَّ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُـلْدِۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ
پھر (ان) ظالموں سے کہا جائے گا: تم دائمی عذاب کا مزہ چکھو، تمہیں (کچھ بھی اور) بدلہ نہیں دیا جائے گا، مگر انہی اعمال کا جو تم کماتے رہے تھے،
وَيَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ۗ قُلْ اِىْ وَرَبِّىْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ۗ وَمَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ
اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا (دائمی عذاب کی) وہ بات (واقعی) سچ ہے؟ فرما دیجئے: ہاں میرے رب کی قسم یقیناً وہ بالکل حق ہے۔ اور تم (اپنے انکار سے اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے،
وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِى الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖۗ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَۚ وَقُضِىَ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ
اگر ہر ظالم شخص کی ملکیت میں وہ (ساری دولت) ہو جو زمین میں ہے تو وہ یقیناً اسے (اپنی جان چھڑانے کے لئے) عذاب کے بدلہ میں دے ڈالے، اور (ایسے لوگ) جب عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی ندامت چھپائے پھریں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا،
اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِۗ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ
جان لو! جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے۔ خبردار ہو جاؤ! بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،
هُوَ يُحْىٖ وَيُمِيْتُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ
وہی جِلاتا اور مارتا ہے اور تم اسی کی طرف پلٹائے جاؤ گے،
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاۤءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَاۤءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِۙ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّـلْمُؤْمِنِيْنَ
اے لوگو! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور ان (بیماریوں) کی شفاء آگئی ہے جو سینوں میں (پوشیدہ) ہیں اور ہدایت اور اہلِ ایمان کے لئے رحمت (بھی)،
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَـفْرَحُوْا ۗ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ
فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے) پس مسلمانوں کو چاہئے کہ اس پر خوشیاں منائیں، یہ اس (سارے مال و دولت) سے کہیں بہتر ہے جسے وہ جمع کرتے ہیں،
قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَـكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا ۗ قُلْ اٰۤللّٰهُ اَذِنَ لَـكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ
فرما دیجئے: ذرا بتاؤ تو سہی اللہ نے جو (پاکیزہ) رزق تمہارے لئے اتارا سو تم نے اس میں سے بعض (چیزوں) کو حرام اور (بعض کو) حلال قرار دے دیا۔ فرما دیں: کیا اللہ نے تمہیں (اس کی) اجازت دی تھی یا تم اللہ پر بہتان باندھ رہے ہو،
وَمَا ظَنُّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِۗ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُوْنَ
اور ایسے لوگوں کا روزِ قیامت کے بارے میں کیا خیال ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں، بیشک اللہ لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر (لوگ) شکر گزار نہیں ہیں،