وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِىْ وَتَذْكِيْرِىْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۤءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَىَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ
اور ان پر نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمائیے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم (اولادِ قابیل!) اگر تم پر میرا قیام اور میرا اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کرنا گراں گزر رہا ہے تو (جان لو کہ) میں نے تو صرف اللہ ہی پر توکل کرلیا ہے (اور تمہارا کوئی ڈر نہیں) سو تم اکٹھے ہوکر (میری مخالفت میں) اپنی تدبیر کو پختہ کرلو اور اپنے (گھڑے ہوئے) شریکوں کو بھی (ساتھ ملا لو اور اس قدر سوچ لو کہ) پھر تمہاری تدبیر (کا کوئی پہلو) تم پر مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ (جو جی میں آئے) کر گزرو اور (مجھے) کوئی مہلت نہ دو،
فَاِنْ تَوَلَّـيْتُمْ فَمَا سَاَلْـتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍۗاِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِۙ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ
سو اگر تم نے (میری نصیحت سے) منہ پھیر لیا ہے تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا، میرا اجر تو صرف اللہ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حکم کے سامنے) سرِ تسلیم خم کئے رکھوں،
فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِى الْـفُلْكِ وَجَعَلْنٰهُمْ خَلٰۤٮِٕفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ
پھر آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے انہیں اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے (عذابِ طوفان سے) نجات دی اور ہم نے انہیں (زمین میں) جانشین بنادیا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، سو آپ دیکھئے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ڈرائے گئے تھے،
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَاۤءُوْهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ ۗ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ
پھر ہم نے ان کے بعد (کتنے ہی) رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے پس وہ لوگ (بھی) ایسے نہ ہوئے کہ اس (بات) پر ایمان لے آتے جسے وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم سرکشی کرنے والوں کے دلوں پر مُہر لگا دیا کرتے ہیں،
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَهٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡٮِٕهٖ بِاٰيٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ
پھر ہم نے ان کے بعد موسٰی اور ہارون (علیھما السلام) کو فرعون اور اس کے سردارانِ قوم کی طرف نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے،
فَلَمَّا جَاۤءَهُمُ الْحَـقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (تو) کہنے لگے: بیشک یہ تو کھلا جادو ہے،
قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۤءَكُمْ ۗ اَسِحْرٌ هٰذَا ۗ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُوْنَ
موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا تم (ایسی بات) حق سے متعلق کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آچکا ہے، (عقل و شعور کی آنکھیں کھول کر دیکھو) کیا یہ جادو ہے؟ اور جادوگر (کبھی) فلاح نہیں پاسکیں گے،
قَالُـوْۤا اَجِئْتَـنَا لِتَلْفِتَـنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۤءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاۤءُ فِى الْاَرْضِۗ وَمَا نَحْنُ لَـكُمَا بِمُؤْمِنِيْنَ
وہ کہنے لگے: (اے موسٰی!) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم ہمیں اس (طریقہ) سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (گامزن) پایا اور زمین (یعنی سرزمینِ مصر) میں تم دونوں کی بڑائی (قائم) رہے؟ اور ہم لوگ تم دونوں کو ماننے والے نہیں ہیں،
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِىْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ
اور فرعون کہنے لگا: میرے پاس ہر ماہر جادوگر کو لے آؤ،
فَلَمَّا جَاۤءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ
پھر جب جادوگر آگئے تو موسٰی (علیہ السلام) نے ان سے کہا: تم (وہ چیزیں میدان میں) ڈال دو جو تم ڈالنا چاہتے ہو،