Skip to main content

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِىْ وَتَذْكِيْرِىْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَاۤءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَىَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ

وَٱتْلُ
اور پڑھ سنایے
عَلَيْهِمْ
ان پر
نَبَأَ
خبر
نُوحٍ
نوح کی
إِذْ
جب
قَالَ
اس نے کہا
لِقَوْمِهِۦ
اپنی قوم سے
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
إِن
اگر
كَانَ
ہے
كَبُرَ
بھاری
عَلَيْكُم
تم پر
مَّقَامِى
میرا کھڑا کرنا
وَتَذْكِيرِى
اور میرا نصیحت کرنا
بِـَٔايَٰتِ
آیات کے ساتھ
ٱللَّهِ
اللہ کی
فَعَلَى
تو پر
ٱللَّهِ
اللہ پر
تَوَكَّلْتُ
میں نے بھروسہ کیا
فَأَجْمِعُوٓا۟
تو جمع کرلو
أَمْرَكُمْ
اپنا کام۔ اپنا فیصلہ
وَشُرَكَآءَكُمْ
اور اپنے شریکوں کو
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
يَكُنْ
ہو
أَمْرُكُمْ
فیصلہ تمہارا
عَلَيْكُمْ
تم پر
غُمَّةً
چھپا ہوا۔ مخفی
ثُمَّ
پھر
ٱقْضُوٓا۟
کر گزرو
إِلَىَّ
میری طرف
وَلَا
اور نہ
تُنظِرُونِ
تم مہلت دو مجھ کو

اور ان پر نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمائیے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم (اولادِ قابیل!) اگر تم پر میرا قیام اور میرا اللہ کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کرنا گراں گزر رہا ہے تو (جان لو کہ) میں نے تو صرف اللہ ہی پر توکل کرلیا ہے (اور تمہارا کوئی ڈر نہیں) سو تم اکٹھے ہوکر (میری مخالفت میں) اپنی تدبیر کو پختہ کرلو اور اپنے (گھڑے ہوئے) شریکوں کو بھی (ساتھ ملا لو اور اس قدر سوچ لو کہ) پھر تمہاری تدبیر (کا کوئی پہلو) تم پر مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ (جو جی میں آئے) کر گزرو اور (مجھے) کوئی مہلت نہ دو،

تفسير

فَاِنْ تَوَلَّـيْتُمْ فَمَا سَاَلْـتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍۗاِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِۙ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ

فَإِن
پھر اگر
تَوَلَّيْتُمْ
منہ پھیرا تم نے
فَمَا
تو نہیں
سَأَلْتُكُم
میں نے مانگا تم سے
مِّنْ
کوئی
أَجْرٍۖ
اجر
إِنْ
نہیں
أَجْرِىَ
اجر میرا
إِلَّا
مگر
عَلَى
اوپر
ٱللَّهِۖ
اللہ کے (ذمہ)
وَأُمِرْتُ
اور میں حکم دیا گیا ہوں
أَنْ
کہ
أَكُونَ
میں ہوجاؤں
مِنَ
میں سے
ٱلْمُسْلِمِينَ
مسلمانوں

سو اگر تم نے (میری نصیحت سے) منہ پھیر لیا ہے تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا، میرا اجر تو صرف اللہ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حکم کے سامنے) سرِ تسلیم خم کئے رکھوں،

تفسير

فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ فِى الْـفُلْكِ وَجَعَلْنٰهُمْ خَلٰۤٮِٕفَ وَاَغْرَقْنَا الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ

فَكَذَّبُوهُ
تو انہوں نے جھٹلا دیا اس کو
فَنَجَّيْنَٰهُ
تو نجات دی ہم نے اس کو
وَمَن
اور جو
مَّعَهُۥ
اس کے ساتھ تھے
فِى
میں
ٱلْفُلْكِ
کشتی
وَجَعَلْنَٰهُمْ
اور بنایا ہم نے ان کو
خَلَٰٓئِفَ
جانشین
وَأَغْرَقْنَا
اور غرق کردیا ہم نے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
كَذَّبُوا۟
جنہوں نے جھٹلایا
بِـَٔايَٰتِنَاۖ
ہماری آیات کو
فَٱنظُرْ
تو دیکھو
كَيْفَ
کس طرح
كَانَ
ہوا
عَٰقِبَةُ
انجام
ٱلْمُنذَرِينَ
ڈرائے جانے والوں کا

پھر آپ کی قوم نے آپ کو جھٹلایا پس ہم نے انہیں اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے (عذابِ طوفان سے) نجات دی اور ہم نے انہیں (زمین میں) جانشین بنادیا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا، سو آپ دیکھئے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ڈرائے گئے تھے،

تفسير

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَاۤءُوْهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ ۗ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ

ثُمَّ
پھر
بَعَثْنَا
بھیجا ہم نے
مِنۢ
اس کے
بَعْدِهِۦ
بعد
رُسُلًا
کئی رسولوں کو
إِلَىٰ
طرف
قَوْمِهِمْ
ان کی قوم کے
فَجَآءُوهُم
تو وہ آئے ان کے پاس
بِٱلْبَيِّنَٰتِ
ساتھ روشن دلائل کے
فَمَا
تو نہ
كَانُوا۟
تھے وہ
لِيُؤْمِنُوا۟
کہ وہ ایمان لاتے
بِمَا
بوجہ اس کے کہ
كَذَّبُوا۟
وہ جھٹلا چکے تھے
بِهِۦ
اس کو
مِن
اس سے
قَبْلُۚ
پہلے
كَذَٰلِكَ
اسی طرح
نَطْبَعُ
ہم مہر لگا دیتے ہیں
عَلَىٰ
پر
قُلُوبِ
دلوں
ٱلْمُعْتَدِينَ
حد سے بڑھنے والوں کے

پھر ہم نے ان کے بعد (کتنے ہی) رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے پس وہ لوگ (بھی) ایسے نہ ہوئے کہ اس (بات) پر ایمان لے آتے جسے وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم سرکشی کرنے والوں کے دلوں پر مُہر لگا دیا کرتے ہیں،

تفسير

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَهٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡٮِٕهٖ بِاٰيٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ

ثُمَّ
پھر
بَعَثْنَا
بھیجا ہم نے
مِنۢ
ان کے
بَعْدِهِم
بعد
مُّوسَىٰ
موسیٰ
وَهَٰرُونَ
اور ہارون کو
إِلَىٰ
کی طر ف
فِرْعَوْنَ
فرعون
وَمَلَإِي۟هِۦ
اور اس کے سرداروں کی طرف
بِـَٔايَٰتِنَا
اپنی آیات کے ساتھ
فَٱسْتَكْبَرُوا۟
تو انہوں نے تکبر کیا
وَكَانُوا۟
اور تھے وہ
قَوْمًا
لوگ
مُّجْرِمِينَ
مجرم

پھر ہم نے ان کے بعد موسٰی اور ہارون (علیھما السلام) کو فرعون اور اس کے سردارانِ قوم کی طرف نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے،

تفسير

فَلَمَّا جَاۤءَهُمُ الْحَـقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ

فَلَمَّا
تو جب
جَآءَهُمُ
آیا ان کے پاس
ٱلْحَقُّ
حق
مِنْ
سے
عِندِنَا
ہماری طرف
قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
إِنَّ
یقینا
هَٰذَا
یہ
لَسِحْرٌ
البتہ جادو ہے
مُّبِينٌ
کھلم کھلا

پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا (تو) کہنے لگے: بیشک یہ تو کھلا جادو ہے،

تفسير

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَاۤءَكُمْ ۗ اَسِحْرٌ هٰذَا ۗ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُوْنَ

قَالَ
کہا
مُوسَىٰٓ
موسیٰ نے
أَتَقُولُونَ
کیا تم کہتے ہو
لِلْحَقِّ
حق کو
لَمَّا
جب
جَآءَكُمْۖ
وہ آگیا تمہارے پاس
أَسِحْرٌ
کیا جادو ہے
هَٰذَا
یہ
وَلَا
حالانکہ نہیں
يُفْلِحُ
فلاح پاتے
ٱلسَّٰحِرُونَ
ساحر۔ جادوگر

موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: کیا تم (ایسی بات) حق سے متعلق کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آچکا ہے، (عقل و شعور کی آنکھیں کھول کر دیکھو) کیا یہ جادو ہے؟ اور جادوگر (کبھی) فلاح نہیں پاسکیں گے،

تفسير

قَالُـوْۤا اَجِئْتَـنَا لِتَلْفِتَـنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۤءَنَا وَتَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاۤءُ فِى الْاَرْضِۗ وَمَا نَحْنُ لَـكُمَا بِمُؤْمِنِيْنَ

قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
أَجِئْتَنَا
کیا تو آیا ہمارے پاس
لِتَلْفِتَنَا
تاکہ تو پھیر دے ہم کو
عَمَّا
اس سے جو
وَجَدْنَا
پایا ہم نے
عَلَيْهِ
اس پر
ءَابَآءَنَا
اپنے آباؤ اجداد کو
وَتَكُونَ
اور ہوجائے
لَكُمَا
تم دونوں کے لیے
ٱلْكِبْرِيَآءُ
بڑائی
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
وَمَا
اور نہیں ہیں
نَحْنُ
ہم
لَكُمَا
تم دونوں کے لیے
بِمُؤْمِنِينَ
ایمان لانے والے

وہ کہنے لگے: (اے موسٰی!) کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ تم ہمیں اس (طریقہ) سے پھیر دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو (گامزن) پایا اور زمین (یعنی سرزمینِ مصر) میں تم دونوں کی بڑائی (قائم) رہے؟ اور ہم لوگ تم دونوں کو ماننے والے نہیں ہیں،

تفسير

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِىْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ

وَقَالَ
اور کہا
فِرْعَوْنُ
فرعون نے
ٱئْتُونِى
لاؤ میرے پاس
بِكُلِّ
ہر
سَٰحِرٍ
جادوگر کو
عَلِيمٍ
جاننے والے

اور فرعون کہنے لگا: میرے پاس ہر ماہر جادوگر کو لے آؤ،

تفسير

فَلَمَّا جَاۤءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ

فَلَمَّا
تو جب
جَآءَ
آگئے
ٱلسَّحَرَةُ
جادوگر
قَالَ
کہا
لَهُم
ان سے
مُّوسَىٰٓ
موسیٰ نے
أَلْقُوا۟
ڈالو
مَآ
جو ہو
أَنتُم
تم
مُّلْقُونَ
ڈالنے والے ہو

پھر جب جادوگر آگئے تو موسٰی (علیہ السلام) نے ان سے کہا: تم (وہ چیزیں میدان میں) ڈال دو جو تم ڈالنا چاہتے ہو،

تفسير