اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا اور جو بہتان وہ باندھتے تھے وہ (سب) ان سے جاتے رہے،
لَا جَرَمَ اَ نَّهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ
یہ بالکل حق ہے کہ یقینًا وہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں،
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَـتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْۙ اُولٰۤٮِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَـنَّةِۗ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے رب کے حضور عاجزی کرتے رہے یہی لوگ اہلِ جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،
مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَـصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۗ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۗ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
(کافر و مسلم) دونوں فریقوں کی مثال اندھے اور بہرے اور (اس کے برعکس) دیکھنے والے اور سننے والے کی سی ہے۔ کیا دونوں کا حال برابر ہے؟ کیا تم پھر (بھی) نصیحت قبول نہیں کرتے،
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اِنِّىْ لَـكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌۙ
اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، (انہوں نے ان سے کہا:) میں تمہارے لئے کھلا ڈر سنانے والا (بن کر آیا) ہوں،
اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَۗ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ
کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں تم پر دردناک دن کے عذاب (کی آمد) کا خوف رکھتا ہوں،
فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰٮكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰٮكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُــنَا بَادِىَ الرَّأْىِۚ وَمَا نَرٰى لَـكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍۢ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ
سو ان کی قوم کے کفر کرنے والے سرداروں اور وڈیروں نے کہا: ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسا ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں،
قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّىْ وَاٰتٰٮنِىْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْۗ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْـتُمْ لَـهَا كٰرِهُوْنَ
(نوح علیہ السلام نے) کہا: اے میری قوم! بتاؤ تو سہی اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر بھی ہوں اور اس نے مجھے اپنے حضور سے (خاص) رحمت بھی بخشی ہو مگر وہ تمہارے اوپر (اندھوں کی طرح) پوشیدہ کر دی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر جبراً مسلّط کر سکتے ہیں درآنحالیکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو،
وَيٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـــَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۗاِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَاۡ بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۗ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَلٰـكِنِّىْۤ اَرٰٮكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ
اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان (غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا ہوں،
وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّـنْصُرُنِىْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدۡتُّهُمْۗ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا تم غور نہیں کرتے،