Skip to main content

اُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ

أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
خَسِرُوٓا۟
انہوں نے خسارے میں ڈالا
أَنفُسَهُمْ
اپنی جانوں کو
وَضَلَّ
اور گم ہوگئے
عَنْهُم
ان سے
مَّا
جو کچھ
كَانُوا۟
تھے وہ
يَفْتَرُونَ
گھڑا کرتے

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا اور جو بہتان وہ باندھتے تھے وہ (سب) ان سے جاتے رہے،

تفسير

لَا جَرَمَ اَ نَّهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ

لَا
نہیں
جَرَمَ
کوئی شک
أَنَّهُمْ
بیشک وہ
فِى
میں
ٱلْءَاخِرَةِ
آخرت (میں)
هُمُ
وہی ہیں
ٱلْأَخْسَرُونَ
جو سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں

یہ بالکل حق ہے کہ یقینًا وہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں،

تفسير

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَـتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْۙ اُولٰۤٮِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَـنَّةِۗ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ

إِنَّ
بیشک
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے عمل کیے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے
وَأَخْبَتُوٓا۟
اور عاجزی کی
إِلَىٰ
طرف
رَبِّهِمْ
اپنے رب کی (طرف)
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
أَصْحَٰبُ
ساتھی ہیں۔ والے ہیں
ٱلْجَنَّةِۖ
جنت کے
هُمْ
وہ
فِيهَا
اس میں
خَٰلِدُونَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے رب کے حضور عاجزی کرتے رہے یہی لوگ اہلِ جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،

تفسير

مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَـصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۗ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۗ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ

مَثَلُ
مثال
ٱلْفَرِيقَيْنِ
دوگروہوں کی
كَٱلْأَعْمَىٰ
مانند اندھے
وَٱلْأَصَمِّ
اور بہرے کے ہے
وَٱلْبَصِيرِ
اور دیکھنے والے
وَٱلسَّمِيعِۚ
اور سننے والے کے
هَلْ
کیا
يَسْتَوِيَانِ
یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں
مَثَلًاۚ
مثال میں
أَفَلَا
کیا بھلا نہیں
تَذَكَّرُونَ
تم نصیحت پکڑتے

(کافر و مسلم) دونوں فریقوں کی مثال اندھے اور بہرے اور (اس کے برعکس) دیکھنے والے اور سننے والے کی سی ہے۔ کیا دونوں کا حال برابر ہے؟ کیا تم پھر (بھی) نصیحت قبول نہیں کرتے،

تفسير

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اِنِّىْ لَـكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌۙ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
نُوحًا
نوح کو
إِلَىٰ
طرف
قَوْمِهِۦٓ
اس کی قوم کے
إِنِّى
بیشک میں
لَكُمْ
تمہارے لیے
نَذِيرٌ
ڈرانے والا ہوں
مُّبِينٌ
کھلم کھلا

اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، (انہوں نے ان سے کہا:) میں تمہارے لئے کھلا ڈر سنانے والا (بن کر آیا) ہوں،

تفسير

اَنْ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَۗ اِنِّىْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ

أَن
کہ
لَّا
نہ
تَعْبُدُوٓا۟
تم عبادت کرو
إِلَّا
مگر
ٱللَّهَۖ
اللہ کی
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَخَافُ
میں ڈرتا ہوں
عَلَيْكُمْ
تم پر
عَذَابَ
عذاب سے
يَوْمٍ
دن کے
أَلِيمٍ
دردناک

کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، میں تم پر دردناک دن کے عذاب (کی آمد) کا خوف رکھتا ہوں،

تفسير

فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰٮكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰٮكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُــنَا بَادِىَ الرَّأْىِۚ وَمَا نَرٰى لَـكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍۢ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ

فَقَالَ
تو کہا
ٱلْمَلَأُ
سرداروں نے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
مِن
سے
قَوْمِهِۦ
اس کی قوم میں
مَا
نہیں
نَرَىٰكَ
ہم دیکھتے تجھے
إِلَّا
مگر
بَشَرًا
ایک انسان
مِّثْلَنَا
اپنے جیسا
وَمَا
اور نہیں
نَرَىٰكَ
ہم دیکھتے آپ کو
ٱتَّبَعَكَ
کہ وہ پیروی کرتے ہیں تمہاری
إِلَّا
مگر
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
هُمْ
وہ
أَرَاذِلُنَا
حقیر ذلیل ہیں ہم میں
بَادِىَ
بظاہر
ٱلرَّأْىِ
دیکھنے میں
وَمَا
اور نہیں
نَرَىٰ
ہم دیکھتے
لَكُمْ
تمہارے لیے
عَلَيْنَا
اپنے اوپر
مِن
سے
فَضْلٍۭ
کوئی فضل۔ فضیلت
بَلْ
بلکہ
نَظُنُّكُمْ
ہم سمجھتے ہیں تم کو
كَٰذِبِينَ
جھوٹے

سو ان کی قوم کے کفر کرنے والے سرداروں اور وڈیروں نے کہا: ہمیں تو تم ہمارے اپنے ہی جیسا ایک بشر دکھائی دیتے ہو اور ہم نے کسی (معزز شخص) کو تمہاری پیروی کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ہمارے (معاشرے کے) سطحی رائے رکھنے والے پست و حقیر لوگوں کے (جو بے سوچے سمجھے تمہارے پیچھے لگ گئے ہیں)، اور ہم تمہارے اندر اپنے اوپر کوئی فضیلت و برتری (یعنی طاقت و اقتدار، مال و دولت یا تمہاری جماعت میں بڑے لوگوں کی شمولیت الغرض ایسا کوئی نمایاں پہلو) بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں،

تفسير

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّىْ وَاٰتٰٮنِىْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْۗ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْـتُمْ لَـهَا كٰرِهُوْنَ

قَالَ
اس نے کہا
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
أَرَءَيْتُمْ
کیا دیکھا تم نے
إِن
اگر
كُنتُ
میں ہوا
عَلَىٰ
پر
بَيِّنَةٍ
ایک دلیل (پر)
مِّن
سے
رَّبِّى
اپنے رب (کی طرف سے)
وَءَاتَىٰنِى
اور اس نے عطا کی مجھ کو
رَحْمَةً
رحمت
مِّنْ
سے
عِندِهِۦ
اپنی جانب (سے)
فَعُمِّيَتْ
تو وہ چھپائی گئی
عَلَيْكُمْ
تم پر
أَنُلْزِمُكُمُوهَا
کیا ہم لازم کردیں تم پر اس کو۔ کیا ہم تھوپ دیں اس کو تم پر
وَأَنتُمْ
اور جبکہ ہو تم
لَهَا
اس کو
كَٰرِهُونَ
ناپسند کرنے والے ہو

(نوح علیہ السلام نے) کہا: اے میری قوم! بتاؤ تو سہی اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر بھی ہوں اور اس نے مجھے اپنے حضور سے (خاص) رحمت بھی بخشی ہو مگر وہ تمہارے اوپر (اندھوں کی طرح) پوشیدہ کر دی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر جبراً مسلّط کر سکتے ہیں درآنحالیکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو،

تفسير

وَيٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـــَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۗاِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَاۡ بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۗ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَلٰـكِنِّىْۤ اَرٰٮكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ

وَيَٰقَوْمِ
اور اے میری قوم
لَآ
نہیں
أَسْـَٔلُكُمْ
میں سوال کرتا تم سے
عَلَيْهِ
اس پر
مَالًاۖ
کسی مال کا
إِنْ
نہیں
أَجْرِىَ
میرا اجر
إِلَّا
مگر
عَلَى
کے
ٱللَّهِۚ
اللہ کے ذمہ
وَمَآ
اور نہیں ہوں
أَنَا۠
میں
بِطَارِدِ
دور کرنے والا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو۔ پرے کرنے والا ان لوگوں کو
ءَامَنُوٓا۟ۚ
جو ایمان لائے
إِنَّهُم
بیشک وہ
مُّلَٰقُوا۟
ملاقات کرنے والے ہیں
رَبِّهِمْ
اپنے رب سے
وَلَٰكِنِّىٓ
لیکن میں
أَرَىٰكُمْ
دیکھتا ہوں تم کو
قَوْمًا
ایک قوم
تَجْهَلُونَ
تم جہالت برت رہے ہو

اور اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت و تبلیغ) پر کوئی مال و دولت (بھی) طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف اﷲ (کے ذمۂ کرم) پر ہے اور میں (تمہاری خاطر) ان (غریب اور پسماندہ) لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں (تم انہیں حقیر مت سمجھو یہی حقیقت میں معزز ہیں)۔ بیشک یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں اور میں تو درحقیقت تمہیں جاہل (و بے فہم) قوم دیکھ رہا ہوں،

تفسير

وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّـنْصُرُنِىْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدۡتُّهُمْۗ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ

وَيَٰقَوْمِ
اور اے میری قوم
مَن
کون
يَنصُرُنِى
مدد کرے گا میری
مِنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ سے
إِن
اگر
طَرَدتُّهُمْۚ
میں نے دور پھینک دیا ان کو
أَفَلَا
کیا بھلا نہیں
تَذَكَّرُونَ
تم نصیحت پکڑتے

اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا تم غور نہیں کرتے،

تفسير