Skip to main content

اُولٰۤٮِٕكَ مَأْوٰٮهُمْ جَهَـنَّمُۖ وَلَا يَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِيْصًا

أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
مَأْوَىٰهُمْ
ٹھکانہ ان کا
جَهَنَّمُ
جہنم ہے
وَلَا
اور نہیں
يَجِدُونَ
وہ پائیں گے
عَنْهَا
اس سے
مَحِيصًا
جائے پناہ

یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ وہاں سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے،

تفسير

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ۗ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۗ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا

وَٱلَّذِينَ
اور وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور انہوں نے عمل کیے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
اچھے۔ نیک
سَنُدْخِلُهُمْ
عنقریب ہم داخل کریں گے ان کو
جَنَّٰتٍ
باغات ہیں
تَجْرِى
بہتی ہیں
مِن
سے
تَحْتِهَا
ان کے نیچے
ٱلْأَنْهَٰرُ
نہریں اس میں
خَٰلِدِينَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں
فِيهَآ
اس میں
أَبَدًاۖ
ہمیشہ ہمیشہ
وَعْدَ
وعدہ ہے
ٱللَّهِ
اللہ کا
حَقًّاۚ
سچا
وَمَنْ
اور کون
أَصْدَقُ
زیادہ سچا ہے
مِنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ
قِيلًا
بات میں

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم انہیں عنقریب بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے،

تفسير

لَـيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَاۤ اَمَانِىِّ اَهْلِ الْـكِتٰبِۗ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۤءًا يُّجْزَ بِهٖۙ وَ لَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا

لَّيْسَ
نہیں ہے
بِأَمَانِيِّكُمْ
ساتھ تمہاری آرزؤں کے
وَلَآ
اور نہ
أَمَانِىِّ
ساتھ آرزؤں کے
أَهْلِ
اہل
ٱلْكِتَٰبِۗ
کتاب کی
مَن
جو کوئی
يَعْمَلْ
عمل کرے گا
سُوٓءًا
برا
يُجْزَ
جزا دیا جائے گا
بِهِۦ
ساتھ اس کے
وَلَا
اور نہ
يَجِدْ
وہ پائے گا
لَهُۥ
اپنے لیے
مِن
کوئی
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَلِيًّا
کوئی دوست
وَلَا
اور نہ
نَصِيرًا
مددگار

(اللہ کا وعدۂ مغفرت) نہ تمہاری خواہشات پر موقوف ہے اور نہ اہلِ کتاب کی خواہشات پر، جو کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی پائے گا اور نہ مددگار،

تفسير

وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۤٮِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَـنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا

وَمَن
اور جو
يَعْمَلْ
عمل کرے گا
مِنَ
میں سے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن
نیک کاموں
ذَكَرٍ
مرد ہو
أَوْ
یا
أُنثَىٰ
عورت
وَهُوَ
اور وہ
مُؤْمِنٌ
مومن ہو
فَأُو۟لَٰٓئِكَ
تو یہی لوگ
يَدْخُلُونَ
وہ داخل ہوں گے
ٱلْجَنَّةَ
جنت میں
وَلَا
اور نہ
يُظْلَمُونَ
وہ ظلم کیے جائیں گے
نَقِيرًا
تل برابر

اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت درآنحالیکہ وہ مومن ہے پس وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اوران کی تِل برابر (بھی) حق تلفی نہیں کی جائے گے،

تفسير

وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِيْمَ خَلِيْلًا

وَمَنْ
اور کون
أَحْسَنُ
زیادہ اچھا ہے
دِينًا
دین میں
مِّمَّنْ
اس سے جو
أَسْلَمَ
سونپ دے۔ سپرکردے
وَجْهَهُۥ
چہرہ اپنا
لِلَّهِ
اللہ کے لیے
وَهُوَ
اور وہ
مُحْسِنٌ
نیکو کار ہے
وَٱتَّبَعَ
اور پیروی کرے
مِلَّةَ
طریقے کی
إِبْرَٰهِيمَ
ابراہیم کے
حَنِيفًاۗ
یکسو ہو کر
وَٱتَّخَذَ
اور بنالیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
إِبْرَٰهِيمَ
ابراہیم کو
خَلِيلًا
دوست

اور دینی اعتبار سے اُس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے جس نے اپنا رُوئے نیاز اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ صاحبِ احسان بھی ہوا، اور وہ دینِ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرتا رہا جو (اللہ کے لئے) یک سُو (اور) راست رَو تھے، اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا مخلص دوست بنا لیا تھا (سو وہ شخص بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے اللہ کا دوست ہو گیا)،

تفسير

وَلِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِۗ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ مُّحِيْـطًا

وَلِلَّهِ
اور اللہ ہی کے لیے ہے
مَا
جو کہ
فِى
میں ہے
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں
وَمَا
اور جو کچھ
فِى
میں ہے
ٱلْأَرْضِۚ
زمین
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
بِكُلِّ
ساتھ ہر
شَىْءٍ
چیز کے
مُّحِيطًا
احاطہ کرنے والا۔ گھیرنے اولا

اور (سب) اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ فرمائے ہوئے ہے،

تفسير

وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِى النِّسَاۤءِ ۗ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ فِى الْكِتٰبِ فِىْ يَتٰمَى النِّسَاۤءِ الّٰتِىْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَـنْكِحُوْهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ ۙ وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰى بِالْقِسْطِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِيْمًا

وَيَسْتَفْتُونَكَ
اور وہ فتوی مانگتے ہیں آپ سے
فِى
میں
ٱلنِّسَآءِۖ
عورتوں کے معاملے
قُلِ
کہہ دیجیے کہ
ٱللَّهُ
اللہ
يُفْتِيكُمْ
فتوی دیتا ہے تم کو
فِيهِنَّ
ان عورتوں کے معاملے (میں)
وَمَا
اور جو
يُتْلَىٰ
پڑ ھا جاتا ہے
عَلَيْكُمْ
تم پر
فِى
میں سے
ٱلْكِتَٰبِ
کتاب
فِى
کے بارے میں
يَتَٰمَى
یتیم
ٱلنِّسَآءِ
لڑکیوں
ٱلَّٰتِى
وہ جو
لَا
نہیں
تُؤْتُونَهُنَّ
تم دیتے ان کو
مَا
جو
كُتِبَ
لکھا گیا۔ مقرر کیا گیا
لَهُنَّ
ان کے لیے
وَتَرْغَبُونَ
اور تم رغبت رکھتے ہو
أَن
کہ
تَنكِحُوهُنَّ
تم نکاح کرلو ان سے
وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ
اور کمزور سمجھ جانے والے
مِنَ
میں سے
ٱلْوِلْدَٰنِ
بچوں اور جو بھی
وَأَن
اور یہ کہ
تَقُومُوا۟
تم قائم رہو
لِلْيَتَٰمَىٰ
یتیموں کے لیے
بِٱلْقِسْطِۚ
انصاف پر
وَمَا
اور جو بھی
تَفْعَلُوا۟
تم کرو گے
مِنْ
میں سے
خَيْرٍ
نیکی
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
كَانَ
ہے
بِهِۦ
اس کو
عَلِيمًا
جاننے والا

اور (اے پیغمبر!) لوگ آپ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہے اور جو حکم تم کو (پہلے سے) کتابِ مجید میں سنایا جا رہا ہے (وہ بھی) ان یتیم عورتوں ہی کے بارے میں ہے جنہیں تم وہ (حقوق) نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور چاہتے ہو کہ (ان کا مال قبضے میں لینے کی خاطر) ان کے ساتھ خود نکاح کر لو اور نیز بے بس بچوں کے بارے میں (بھی حکم) ہے کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر قائم رہا کرو، اور تم جو بھلائی بھی کروگے تو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے،

تفسير

وَاِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يُّصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۗ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ۗ وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا

وَإِنِ
اور اگر
ٱمْرَأَةٌ
کوئی عورت
خَافَتْ
ڈرتی ہو
مِنۢ
سے
بَعْلِهَا
اپنے شوہر
نُشُوزًا
سرکشی۔ بدسلوکی۔ زیادتی
أَوْ
یا
إِعْرَاضًا
بےرخی سے
فَلَا
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيْهِمَآ
ان دونوں پر
أَن
کہ
يُصْلِحَا
وہ دونوں اصلاح کرلیں
بَيْنَهُمَا
آپس میں
صُلْحًاۚ
صلح کرنا
وَٱلصُّلْحُ
اور صلح
خَيْرٌۗ
بہتر ہے
وَأُحْضِرَتِ
اور موجود رکھا گیا
ٱلْأَنفُسُ
نفسوں میں
ٱلشُّحَّۚ
بخل کو
وَإِن
اور اگر
تُحْسِنُوا۟
تم احسان کرو
وَتَتَّقُوا۟
اور فتوی اختیار کرو
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعْمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
خَبِيرًا
خبر رکھنے والا ہے

اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی جانب سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف رکھتی ہو تو دونوں (میاں بیوی) پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں کسی مناسب بات پر صلح کر لیں، اور صلح (حقیقت میں) اچھی چیز ہے اور طبیعتوں میں (تھوڑا بہت) بخل (ضرور) رکھ دیا گیا ہے، اور اگر تم احسان کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو بیشک اللہ ان کاموں سے جو تم کر رہے ہو (اچھی طرح) خبردار ہے،

تفسير

وَلَنْ تَسْتَطِيْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَيْنَ النِّسَاۤءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيْلُوْا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۗ وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا

وَلَن
اور ہرگز نہیں
تَسْتَطِيعُوٓا۟
تم استطاعت رکھ سکتے
أَن
یہ کہ
تَعْدِلُوا۟
تم عدل کرو
بَيْنَ
درمیان
ٱلنِّسَآءِ
عورتوں کے
وَلَوْ
اور اگر
حَرَصْتُمْۖ
تم حرص کرو
فَلَا
تو نہ
تَمِيلُوا۟
تم مائل ہوجاؤ
كُلَّ
پوری طرح
ٱلْمَيْلِ
مائل ہوجانا
فَتَذَرُوهَا
کہ تم چھوڑ دو اس کو
كَٱلْمُعَلَّقَةِۚ
معلق کی طرح ۔ مانند لٹکتی ہوئی
وَإِن
اور اگر
تُصْلِحُوا۟
تم اصلاح کرو
وَتَتَّقُوا۟
اور تم تقوی کرو
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالی
كَانَ
ہے
غَفُورًا
بخشنے والا
رَّحِيمًا
مہربان

اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ (ایک سے زائد) بیویوں کے درمیان (پورا پورا) عدل کر سکو اگرچہ تم کتنا بھی چاہو۔ پس (ایک کی طرف) پورے میلان طبع کے ساتھ (یوں) نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو (درمیان میں) لٹکتی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور (حق تلفی و زیادتی سے) بچتے رہو تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

تفسير

وَاِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا

وَإِن
اور اگر وہ
يَتَفَرَّقَا
دونوں الگ ہوجائیں
يُغْنِ
غنی کردے گا
ٱللَّهُ
اللہ
كُلًّا
ہر ایک کو
مِّن
سے
سَعَتِهِۦۚ
اپنی وسعت
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ تعالیٰ
وَٰسِعًا
وسعت والا
حَكِيمًا
حکمت والا

اور اگر دونوں (میاں بیوی) جدا ہو جائیں تواللہ ہر ایک کو اپنی کشائش سے (ایک دوسرے سے) بے نیاز کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت والا بڑی حکمت والا ہے،

تفسير