Skip to main content

قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّاذَا تَفْقِدُوْنَ

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
وَأَقْبَلُوا۟
اور وہ آئے / متوجہ ہوئے
عَلَيْهِم
ان پر
مَّاذَا
کیا کچھ
تَفْقِدُونَ
تم گم پاتے ہو

وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے،

تفسير

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَنْ جَاۤءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّاَنَاۡ بِهٖ زَعِيْمٌ

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
نَفْقِدُ
ہم گم پاتے ہیں
صُوَاعَ
پیمانہ
ٱلْمَلِكِ
بادشاہ کا
وَلِمَن
اور واسطے اس کے
جَآءَ
جولائے
بِهِۦ
اس کو
حِمْلُ
بوجھ ہے
بَعِيرٍ
ایک اونٹ کا
وَأَنَا۠
اور میں
بِهِۦ
ساتھ اس کے ذمہ دار ہوں
زَعِيمٌ
کفیل ہوں

وہ (درباری ملازم) بولے: ہمیں بادشاہ کا پیالہ نہیں مل رہا اور جو کوئی اسے (ڈھونڈ کر) لے آئے اس کے لئے ایک اونٹ کا غلہ (انعام) ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں،

تفسير

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَـقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِـنُفْسِدَ فِى الْاَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِيْنَ

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
تَٱللَّهِ
اللہ کی قسم
لَقَدْ
البتہ تحقیق
عَلِمْتُم
جان لیا تم نے
مَّا
نہیں
جِئْنَا
آئے تھے ہم
لِنُفْسِدَ
کہ ہم فساد کریں
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
وَمَا
اور نہیں ہیں
كُنَّا
ہم
سَٰرِقِينَ
چور

وہ کہنے لگے: اﷲ کی قسم! بیشک تم جان گئے ہو (گے) ہم اس لئے نہیں آئے تھے کہ (جرم کا ارتکاب کر کے) زمین میں فساد بپا کریں اور نہ ہی ہم چور ہیں،

تفسير

قَالُوْا فَمَا جَزَاۤؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
فَمَا
تو کیا
جَزَٰٓؤُهُۥٓ
بدلہ ہے اس کا / سزا ہے اس کی
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
كَٰذِبِينَ
جھوٹے

وہ (ملازم) بولے: (تم خود ہی بتاؤ) کہ اس (چور) کی کیا سزا ہوگی اگر تم جھوٹے نکلے،

تفسير

قَالُوْا جَزَاۤؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِىْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۤؤُهٗۗ كَذٰلِكَ نَجْزِى الظّٰلِمِيْنَ

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
جَزَٰٓؤُهُۥ
اس کی جزاء /اس کا بدلہ
مَن
وہ ہے
وُجِدَ
جو وہ پایا گیا ہے
فِى
میں
رَحْلِهِۦ
اس کے سامان
فَهُوَ
تو وہی
جَزَٰٓؤُهُۥۚ
بدلہ ہے اس کا
كَذَٰلِكَ
اس طرح
نَجْزِى
ہم بدلہ دیتے ہیں
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالموں کو

انہوں نے کہا: اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں سے وہ (پیالہ) برآمد ہو وہ خود ہی اس کا بدلہ ہے (یعنی اسی کو اس کے بدلہ میں رکھ لیا جائے)، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں،

تفسير

فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاۤءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَاۤءِ اَخِيْهِۗ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَۗ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ اَخَاهُ فِىْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَاۤءَ اللّٰهُۗ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۤءُۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِىْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ

فَبَدَأَ
تو وہ شروع ہوگیا
بِأَوْعِيَتِهِمْ
ان کے تھیلوں کے ساتھ
قَبْلَ
پہلے
وِعَآءِ
تھیلے کے
أَخِيهِ
اپنے بھائی کے
ثُمَّ
پھر
ٱسْتَخْرَجَهَا
نکال لیا اس کو
مِن
سے
وِعَآءِ
تھیلے
أَخِيهِۚ
اپنے بھائی کے
كَذَٰلِكَ
اسی طرح
كِدْنَا
تدبیر کی ہم
لِيُوسُفَۖ
یوسف کے لئے
مَا
نہ
كَانَ
تھا
لِيَأْخُذَ
کے لے لے
أَخَاهُ
اپنے بھائی کو
فِى
میں
دِينِ
دین
ٱلْمَلِكِ
بادشاہ کے
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يَشَآءَ
چاہتا ہے
ٱللَّهُۚ
اللہ
نَرْفَعُ
ہم بلند کرتے ہیں
دَرَجَٰتٍ
درجے
مَّن
جس کے
نَّشَآءُۗ
ہم چاہتے ہیں
وَفَوْقَ
اور اوپر
كُلِّ
ہر
ذِى
والے کے
عِلْمٍ
علم
عَلِيمٌ
ایک علم والا ہے

پس یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کی بوری سے پہلے ان کی بوریوں کی تلاشی شروع کی پھر (بالآخر) اس (پیالے) کو اپنے (سگے) بھائی (بنیامین) کی بوری سے نکال لیا۔ یوں ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو تدبیر بتائی۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہِ (مصر) کے قانون کی رو سے (اسیر بنا کر) نہیں رکھ سکتے تھے مگر یہ کہ (جیسے) اﷲ چاہے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں، اور ہر صاحبِ علم سے اوپر (بھی) ایک علم والا ہوتا ہے،

تفسير

قَالُوْۤا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ ۚ فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِىْ نَفْسِهٖ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ اَنْـتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ

قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
إِن
اگر
يَسْرِقْ
اس نے چوری کی ہے
فَقَدْ
تو تحقیق
سَرَقَ
چوری کی تھی
أَخٌ
بھائی نے
لَّهُۥ
اس کے
مِن
اس کے
قَبْلُۚ
قبل
فَأَسَرَّهَا
تو چھپالیا اس بات کو
يُوسُفُ
یوسف نے
فِى
میں
نَفْسِهِۦ
اپنے دل
وَلَمْ
اور نہیں
يُبْدِهَا
ظاہر کیا اس کو
لَهُمْۚ
ان کے لئیے
قَالَ
کہا
أَنتُمْ
تم
شَرٌّ
برے ہو
مَّكَانًاۖ
مقام میں
وَٱللَّهُ
اور اللہ
أَعْلَمُ
خوب جانتا ہے
بِمَا
ساتھ اس کے
تَصِفُونَ
جو کچھ تم بیان کر رہے ہو

انہوں نے کہا: اگر اس نے چوری کی ہے (تو کوئی تعجب نہیں) بیشک اس کا بھائی (یوسف) بھی اس سے پہلے چوری کر چکا ہے، سو یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے دل میں (چھپائی) رکھی اور اسے ان پر ظاہر نہ کیا، (دل میں ہی) کہا: تمہارا حال نہایت برا ہے، اور اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو،

تفسير

قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ

قَالُوا۟
انہوں نے کہا
يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلْعَزِيزُ
عزیز
إِنَّ
بیشک
لَهُۥٓ
اس کا
أَبًا
باپ
شَيْخًا
بوڑھا ہے
كَبِيرًا
بڑا
فَخُذْ
پس لے لے
أَحَدَنَا
ہم میں سے کسی ایک کو
مَكَانَهُۥٓۖ
اس کی جگہ
إِنَّا
بیشک ہم
نَرَىٰكَ
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
مِنَ
میں سے
ٱلْمُحْسِنِينَ
محسنین

وہ بولے: اے عزیزِ مصر! اس کے والد بڑے معمر بزرگ ہیں، آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیں، بیشک ہم آپ کو احسان کرنے والوں میں پاتے ہیں،

تفسير

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّأْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ

قَالَ
اس نے کہا
مَعَاذَ
پناہ
ٱللَّهِ
اللہ کی
أَن
کہ ہم
نَّأْخُذَ
لیں
إِلَّا
مگر
مَن
اسے
وَجَدْنَا
جس کو پایا ہم نے
مَتَٰعَنَا
اپنا سامان
عِندَهُۥٓ
اس کے پاس
إِنَّآ
بیشک ہم
إِذًا
تب البتہ
لَّظَٰلِمُونَ
ظالم ہوں گے

یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اﷲ کی پناہ کہ ہم نے جس کے پاس اپنا سامان پایا اس کے سوا کسی (اور) کو پکڑ لیں تب تو ہم ظالموں میں سے ہو جائیں گے،

تفسير

فَلَمَّا اسْتَاۡيْــَٔسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا ۗ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِىْ يُوْسُفَ ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَأْذَنَ لِىْۤ اَبِىْۤ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِىْ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ

فَلَمَّا
پھر جب
ٱسْتَيْـَٔسُوا۟
وہ مایوس ہوگئے
مِنْهُ
اس سے
خَلَصُوا۟
اکیلے بیٹھے
نَجِيًّاۖ
سرگوشیاں کرنے کو/ مشورہ کرنے کو
قَالَ
کہا
كَبِيرُهُمْ
ان کے بڑے نے
أَلَمْ
کیانہیں
تَعْلَمُوٓا۟
تم جانتے ہو
أَنَّ
کہ
أَبَاكُمْ
تمہارے والد نے
قَدْ
تحقیق
أَخَذَ
لیا
عَلَيْكُم
تم پر
مَّوْثِقًا
پکا وعدہ
مِّنَ
نام سے
ٱللَّهِ
اللہ کے
وَمِن
اور اس سے
قَبْلُ
پہلے
مَا
جو
فَرَّطتُمْ
کوتاہی کی تم نے
فِى
میں
يُوسُفَۖ
یوسف کے معاملے
فَلَنْ
تو ہرگز نہ
أَبْرَحَ
میں ٹلوں گا
ٱلْأَرْضَ
اس زمین سے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَأْذَنَ
اجازت دے
لِىٓ
مجھ کو
أَبِىٓ
میرا باپ
أَوْ
یا
يَحْكُمَ
فیصلہ کردے
ٱللَّهُ
اللہ
لِىۖ
میرے لئے
وَهُوَ
اور وہ
خَيْرُ
بہترین
ٱلْحَٰكِمِينَ
فیصلہ کرنے والا ہے

پھر جب وہ یوسف (علیہ السلام) سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں (باہم) سرگوشی کرنے لگے، ان کے بڑے (بھائی) نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اﷲ کی قسم اٹھوا کر پختہ وعدہ لیا تھا اور اس سے پہلے تم یوسف کے حق میں جو زیادتیاں کر چکے ہو (تمہیں وہ بھی معلوم ہیں)، سو میں اس سرزمین سے ہرگز نہیں جاؤں گا جب تک مجھے میرا باپ اجازت (نہ) دے یا میرے لئے اﷲ کوئی فیصلہ فرما دے، اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے،

تفسير