Skip to main content
يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلنَّاسُ
لوگو
ٱعْبُدُوا۟
عبادت کرو
رَبَّكُمُ
اپنے رب کی
ٱلَّذِى
جس نے
خَلَقَكُمْ
پیدا کیا تم کو
وَٱلَّذِينَ
اور ان لوگوں کو جو
مِن
سے
قَبْلِكُمْ
تم سے پہلے تھے
لَعَلَّكُمْ
تاکہ تم
تَتَّقُونَ
تم بچ سکو

لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اِسی صورت ہوسکتی ہے

تفسير
ٱلَّذِى
وہ (رب)
جَعَلَ
جس نے بنایا
لَكُمُ
تمہارے لئے
ٱلْأَرْضَ
زمین کو
فِرَٰشًا
فرش
وَٱلسَّمَآءَ
اور آسمان کو
بِنَآءً
چھت
وَأَنزَلَ
اور اتارا
مِنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
مَآءً
پانی
فَأَخْرَجَ
پھر نکالا
بِهِۦ
بسبب اس کے / ساتھ اس کے / اس کے ذریعے
مِنَ
سے
ٱلثَّمَرَٰتِ
پھلوں
رِزْقًا
رزق کو / بطور رزق کے
لَّكُمْۖ
تمہارے لئے
فَلَا
پس نہ
تَجْعَلُوا۟
تم بناؤ
لِلَّهِ
اللہ کے لئے
أَندَادًا
کوئی بھی شریک
وَأَنتُمْ
حالانکہ تم
تَعْلَمُونَ
تم جانتے ہو

وہی تو ہے جِس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھیراؤ

تفسير
وَإِن
اور اگر
كُنتُمْ
ہو تم
فِى
میں
رَيْبٍ
کسی شک
مِّمَّا
اس سے جو
نَزَّلْنَا
اتارا ہم نے
عَلَىٰ
اوپر
عَبْدِنَا
اپنے بندے کے
فَأْتُوا۟
پس لے آؤ
بِسُورَةٍ
کوئی سورت
مِّن
اس
مِّثْلِهِۦ
جیسی
وَٱدْعُوا۟
اوربلا لو
شُهَدَآءَكُم
اپنے گواہوں کو / موجود لوگوں کو / حاضرین کو
مِّن
سے
دُونِ
علاوہ / سوائے
ٱللَّهِ
اللہ کے
إِن
اگر
كُنتُمْ
ہو تم
صَٰدِقِينَ
سچے

اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتا ب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تواس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلا لو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لے لو، اگر تم سچے ہو

تفسير
فَإِن
پھر اگر
لَّمْ
نہ
تَفْعَلُوا۟
تم کرسکو
وَلَن
اور ہرگز نہیں
تَفْعَلُوا۟
تم کرسکو گے
فَٱتَّقُوا۟
پس بچو
ٱلنَّارَ
اس آگ سے
ٱلَّتِى
جو
وَقُودُهَا
ایندھن ہیں اس کا
ٱلنَّاسُ
لوگ/ انسان
وَٱلْحِجَارَةُۖ
اور پتھر
أُعِدَّتْ
تیار کی گئی ہے
لِلْكَٰفِرِينَ
کافروں کے لیے

تو یہ کام کر کے دکھاؤ، لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور یقیناً کبھی نہیں کرسکتے، تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر، جو مہیا کی گئی ہے منکرین حق کے لیے

تفسير
وَبَشِّرِ
اور خوش خبری دو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
وَعَمِلُوا۟
اور جنہوں نے عمل کئے
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
وہ جو اچھے ہیں / نیک ہیں
أَنَّ
بیشک
لَهُمْ
ان کے لئے
جَنَّٰتٍ
باغات ہیں
تَجْرِى
بہتی ہیں
مِن
سے
تَحْتِهَا
اس کے نیچے
ٱلْأَنْهَٰرُۖ
نہریں
كُلَّمَا
جب کبھی
رُزِقُوا۟
وہ رزق دیئے جائیں گے
مِنْهَا
ان (باغات) سے
مِن
کوئی
ثَمَرَةٍ
پھل
رِّزْقًاۙ
بطور رزق کے
قَالُوا۟
وہ کہیں گے
هَٰذَا
یہ
ٱلَّذِى
وہی ہے جو
رُزِقْنَا
ہم رزق دیئے گئے
مِن
سے
قَبْلُۖ
پہلے
وَأُتُوا۟
حالانکہ وہ دئیے جائیں گے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مُتَشَٰبِهًاۖ
ملتے جلتے
وَلَهُمْ
اور ان کے لئے
فِيهَآ
اس میں
أَزْوَٰجٌ
بیویاں ہیں
مُّطَهَّرَةٌۖ
پاکیزہ
وَهُمْ
اور وہ
فِيهَا
اس میں
خَٰلِدُونَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں

اور اے پیغمبرؐ، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں، انہیں خوش خبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہونگے جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہونگی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے

تفسير
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
لَا
نہیں
يَسْتَحْىِۦٓ
حیا فرمایا
أَن
کہ
يَضْرِبَ
وہ بیان کرے
مَثَلًا
کوئی مثال
مَّا
خواہ جو
بَعُوضَةً
کسی مچھر کی ہو
فَمَا
یا اس کی جو
فَوْقَهَاۚ
اس کے اوپر ہے
فَأَمَّا
تو رہے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
فَيَعْلَمُونَ
پس وہ علم رکھتے ہیں
أَنَّهُ
بیشک وہ (مثال)
ٱلْحَقُّ
حق ہے
مِن
طرف سے
رَّبِّهِمْۖ
ان کے رب کی
وَأَمَّا
اور رہے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
فَيَقُولُونَ
تو وہ کہتے ہیں
مَاذَآ
کیا
أَرَادَ
ارادہ کیا/ چاہا
ٱللَّهُ
اللہ نے
بِهَٰذَا
ساتھ اس
مَثَلاًۘ
مثال کے
يُضِلُّ
وہ گمراہ کرتا ہے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
كَثِيرًا
کثیر (تعداد) کو
وَيَهْدِى
اورہدایت دیتا ہے
بِهِۦ
اس کے ساتھ
كَثِيرًاۚ
بہت کو
وَمَا
اورنہیں
يُضِلُّ
وہ گمراہ کرتا ہے
بِهِۦٓ
ساتھ اس (مثال کے)
إِلَّا
مگر
ٱلْفَٰسِقِينَ
ان کو جو فاسق ہیں

ہاں، اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں، وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے رب ہی کی طرف سے آیا ہے، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ انہیں سن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہ راست دکھا دیتا ہے اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کرتا ہے، جو فاسق ہیں

تفسير
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ ہیں
يَنقُضُونَ
جو توڑتے ہیں
عَهْدَ
عہد
ٱللَّهِ
اللہ کا
مِنۢ
سے
بَعْدِ
بعد
مِيثَٰقِهِۦ
پکا کرنے کے اس کے / مضبوطی اس کی کے
وَيَقْطَعُونَ
اور وہ کاٹتے ہیں
مَآ
اسے جو
أَمَرَ
حکم دیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
بِهِۦٓ
اس کے
أَن
یہ کہ
يُوصَلَ
وہ جوڑا جائے / ملایا جائے
وَيُفْسِدُونَ
اورفساد کرتے ہیں
فِى
میں
ٱلْأَرْضِۚ
زمین
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ
هُمُ
وہ
ٱلْخَٰسِرُونَ
جو خسارہ پانے والے ہیں/ جو نقصان اٹھانے والے ہیں

اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہے اُسے کاٹتے ہیں، اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

تفسير
كَيْفَ
کس طرح
تَكْفُرُونَ
تم انکار کرتے ہو
بِٱللَّهِ
اللہ کا
وَكُنتُمْ
حالانکہ تھے تم
أَمْوَٰتًا
مردہ
فَأَحْيَٰكُمْۖ
پھر اس نے زندہ کیا تم کو
ثُمَّ
پھر
يُمِيتُكُمْ
وہ موت طاری کر دے گا تم پر
ثُمَّ
پھر
يُحْيِيكُمْ
وہ زندہ کرے گا تم کو
ثُمَّ
پھر
إِلَيْهِ
طرف اس کے
تُرْجَعُونَ
تم لوٹائے جاؤ گے

تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویہ کیسے اختیار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے، اس نے تم کو زندگی عطا کی، پھر وہی تمھاری جان سلب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا، پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے

تفسير
هُوَ
وہی ہے
ٱلَّذِى
جس نے
خَلَقَ
پیدا کیا
لَكُم
واسطے تمہارے
مَّا
جو کچھ ہے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
جَمِيعًا
سارے کا سارا / سب کچھ
ثُمَّ
پھر
ٱسْتَوَىٰٓ
وہ متوجہ ہوا / ارادہ کیا
إِلَى
طرف
ٱلسَّمَآءِ
آسمان کے
فَسَوَّىٰهُنَّ
پس برابر کردیا ان کو / درست بنایا ان کو / ہموار کیا ان کو
سَبْعَ
سات
سَمَٰوَٰتٍۚ
آسمانوں کو
وَهُوَ
اور وہ
بِكُلِّ
ساتھ ہر
شَىْءٍ
چیز کے
عَلِيمٌ
خوب علم والا ہے

وہی تو ہے، جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پید ا کیں، پھر اوپر کی طرف توجہ فرمائی اور سات آسمان استوار کیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

تفسير
وَإِذْ
اور جب
قَالَ
کہا
رَبُّكَ
تیرے رب نے
لِلْمَلَٰٓئِكَةِ
فرشتوں سے
إِنِّى
بیشک میں
جَاعِلٌ
بنانے والا ہوں
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
خَلِيفَةًۖ
اپنا جانشین / ایک خلیفہ
قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
أَتَجْعَلُ
کیا تو بنائے گا
فِيهَا
اس میں
مَن
جو
يُفْسِدُ
فساد کرے گا
فِيهَا
اس میں
وَيَسْفِكُ
اور بہائے گا
ٱلدِّمَآءَ
خون
وَنَحْنُ
حالانکہ ہم
نُسَبِّحُ
ہم تسبیح کرتے ہیں
بِحَمْدِكَ
ساتھ تیری تعریف کے
وَنُقَدِّسُ
اور ہم پاکی بیان کرتے ہیں
لَكَۖ
واسطے تیرے
قَالَ
فرمایا
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَعْلَمُ
میں جانتا ہوں
مَا
جو
لَا
نہیں
تَعْلَمُونَ
تم علم رکھتے

پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں" انہوں نے عرض کیا; "کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقر ر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں" فرمایا; "میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے"

تفسير