Skip to main content

الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَۗ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ

ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَرِثُونَ
جو ورثے میں پائیں گے
ٱلْفِرْدَوْسَ
فردوس کو
هُمْ
وہ
فِيهَا
اس میں
خَٰلِدُونَ
ہمیشہ رہنے والے ہیں

یہ لوگ جنت کے سب سے اعلیٰ باغات (جہاں تمام نعمتوں، راحتوں اور قربِ الٰہی کی لذتوں کی کثرت ہوگی ان) کی وراثت (بھی) پائیں گے، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،

تفسير

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِيْنٍ ۚ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
خَلَقْنَا
پیدا کیا ہم نے
ٱلْإِنسَٰنَ
انسان کو
مِن
سے
سُلَٰلَةٍ
ست سے۔ خلاصے سے۔ نچوڑ سے۔ مغز سے
مِّن
کے
طِينٍ
مٹی کے

اور بیشک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتداء) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی،

تفسير

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِىْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍۖ

ثُمَّ
پھر
جَعَلْنَٰهُ
بنایا ہم نے اس کو۔ بناکر رکھا ہم نے اس کو
نُطْفَةً
ایک نطفے کی شکل میں
فِى
میں
قَرَارٍ
ایک ٹھکانے میں
مَّكِينٍ
محفوظ

پھر اسے نطفہ (تولیدی قطرہ) بنا کر ایک مضبوط جگہ (رحمِ مادر) میں رکھا،

تفسير

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ثُمَّ اَنْشَأْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ۗ فَتَبٰـرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ۗ

ثُمَّ
پھر
خَلَقْنَا
بنایا ہم نے
ٱلنُّطْفَةَ
نطفے کو
عَلَقَةً
علقہ۔ جما ہوا خون
فَخَلَقْنَا
پھر بنایا ہم نے
ٱلْعَلَقَةَ
جمے ہوئے خون کو
مُضْغَةً
مغضٖہ۔ گوشت کی بوٹی
فَخَلَقْنَا
پھر بنایا ہم نے
ٱلْمُضْغَةَ
بوٹی کو
عِظَٰمًا
ہڈیاں
فَكَسَوْنَا
پھر پہنچایا ہم نے۔ ڈھانکا ہم نے
ٱلْعِظَٰمَ
ہڈیوں کو
لَحْمًا
گوشت کے ساتھ
ثُمَّ
پھر
أَنشَأْنَٰهُ
اٹھایا ہم نے اس کو۔ پیدا کیا ہم نے اس کو
خَلْقًا
مخلوق
ءَاخَرَۚ
ایک دوسری
فَتَبَارَكَ
تو بہت بابرکت ہے
ٱللَّهُ
اللہ
أَحْسَنُ
جو سب سے اچھا ہے
ٱلْخَٰلِقِينَ
پیدا کرنے والوں میں

پھر ہم نے اس نطفہ کو (رحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلّق وجود بنا دیا، پھر ہم نے اس معلّق وجود کو ایک (ایسا) لوتھڑا بنا دیا جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، پھر ہم نے اس لوتھڑے سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت (اور پٹھے) چڑھائے، پھر ہم نے اسے تخلیق کی دوسری صورت میں (بدل کر تدریجاً) نشو و نما دی، پھر اللہ نے (اسے) بڑھا (کر محکم وجود بنا) دیا جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے،

تفسير

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَۗ

ثُمَّ
پھر
إِنَّكُم
بیشک تم
بَعْدَ
بعد
ذَٰلِكَ
اس کے
لَمَيِّتُونَ
البتہ مرنے والے ہو

پھر بیشک تم اس (زندگی) کے بعد ضرور مرنے والے ہو،

تفسير

ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ

ثُمَّ
پھر
إِنَّكُمْ
بیشک تم
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
تُبْعَثُونَ
تم اٹھائے جاؤ گے

پھر بیشک تم قیامت کے دن (زندہ کر کے) اٹھائے جاؤ گے،

تفسير

وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَاۤٮِٕقَ ۖ وَمَا كُنَّا عَنِ الْخَـلْقِ غٰفِلِيْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
خَلَقْنَا
بنائے ہم نے
فَوْقَكُمْ
تمہارے اوپر
سَبْعَ
سات
طَرَآئِقَ
راستے
وَمَا
اور نہیں
كُنَّا
ہیں ہم
عَنِ
سے
ٱلْخَلْقِ
مخلوق (سے)
غَٰفِلِينَ
غافل

اور بیشک ہم نے تمہارے اوپر (کرّۂ اَرضی کے گرد فضائے بسیط میں نظامِ کائنات کی حفاظت کے لئے) سات راستے (یعنی سات مقناطیسی پٹیاں یا میدان) بنائے ہیں، اور ہم (کائنات کی) تخلیق (اور اس کی حفاطت کے تقاضوں) سے بے خبر نہ تھے،

تفسير

وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۤءِ مَاۤءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِى الْاَرْضِۖ وَاِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۢ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَ ۚ

وَأَنزَلْنَا
اور نازل کیا ہم نے
مِنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان (سے)
مَآءًۢ
پانی
بِقَدَرٍ
اندازے کے ساتھ
فَأَسْكَنَّٰهُ
پھر ٹھہرایا ہم نے اس کو
فِى
میں
ٱلْأَرْضِۖ
زمین (میں)
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
عَلَىٰ
اوپر
ذَهَابٍۭ
لے جانے کے
بِهِۦ
اس کو
لَقَٰدِرُونَ
البتہ قادر ہیں۔ قدرت رکھنے والے ہیں

اور ہم ایک اندازہ کے مطابق (عرصہ دراز تک) بادلوں سے پانی برساتے رہے، پھر (جب زمین ٹھنڈی ہوگئی تو) ہم نے اس پانی کو زمین (کی نشیبی جگہوں) میں ٹھہرا دیا (جس سے ابتدائی سمندر وجود میں آئے) اور بیشک ہم اسے (بخارات بنا کر) اڑا دینے پر بھی قدرت رکھتے ہیں،

تفسير

فَاَنْشَأْنَا لَـكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ اَعْنَابٍ ۘ لَـكُمْ فِيْهَا فَوَاكِهُ كَثِيْرَةٌ وَّمِنْهَا تَأْكُلُوْنَ ۙ

فَأَنشَأْنَا
پھر پیدا کیا ہم نے
لَكُم
تمہارے لیے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
جَنَّٰتٍ
باغات کو
مِّن
کے
نَّخِيلٍ
کھجور کے
وَأَعْنَٰبٍ
اور انگوروں کے
لَّكُمْ
تمہارے لیے
فِيهَا
اس میں
فَوَٰكِهُ
پھل ہیں
كَثِيرَةٌ
بہت سے
وَمِنْهَا
اور اس میں سے
تَأْكُلُونَ
تم کھاتے ہو

پھر ہم نے تمہارے لئے اس سے (درجہ بہ درجہ یعنی پہلے ابتدائی نباتات پھر بڑے پودے پھر درخت وجود میں لاتے ہوئے) کھجور اور انگور کے باغات بنا دیئے (مزید برآں) تمہارے لئے زمین میں (اور بھی) بہت سے پھل اور میوے (پیدا کئے) اور (اب) تم ان میں سے کھاتے ہو،

تفسير

وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَيْنَاۤءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰكِلِيْنَ

وَشَجَرَةً
اور درخت
تَخْرُجُ
نکلتا ہے
مِن
سے
طُورِ
طور
سَيْنَآءَ
سینا (سے)
تَنۢبُتُ
اگتا ہے
بِٱلدُّهْنِ
ساتھ چکنائی کے۔ چکنائے لیے ہوئے
وَصِبْغٍ
اور سالن
لِّلْءَاكِلِينَ
کھانے والوں کے لیے

اور یہ درخت (زیتون بھی ہم نے پیدا کیا ہے) جو طورِ سینا سے نکلتا ہے (اور) تیل اور کھانے والوں کے لئے سالن لے کر اگتا ہے،

تفسير