Skip to main content

فَلَمَّا تَرَاۤءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ

فَلَمَّا
پھر جب
تَرَٰٓءَا
آمنے سامنے ہوئیں
ٱلْجَمْعَانِ
دو جماعتیں
قَالَ
کہنے لگے
أَصْحَٰبُ
ساتھی
مُوسَىٰٓ
موسیٰ کے
إِنَّا
بیشک ہم
لَمُدْرَكُونَ
البتہ پالیے جانے والے ہیں

پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے،

تفسير

قَالَ كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىْ سَيَهْدِيْنِ

قَالَ
کہا
كَلَّآۖ
ہرگز نہیں
إِنَّ
بیشک
مَعِىَ
میرے ساتھ
رَبِّى
میرا ر ب ہے
سَيَهْدِينِ
عنقریب رہنمائی کرے گا میری

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گا،

تفسير

فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَۗ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِۚ

فَأَوْحَيْنَآ
تو وحی کی ہم نے
إِلَىٰ
طرف
مُوسَىٰٓ
موسیٰ کے
أَنِ
کہ
ٱضْرِب
مار
بِّعَصَاكَ
اپنے عصا کو
ٱلْبَحْرَۖ
سمندر پر
فَٱنفَلَقَ
تو وہ پھٹ گیا
فَكَانَ
پھر ہوگیا
كُلُّ
ہر
فِرْقٍ
ٹکڑا
كَٱلطَّوْدِ
عالیشان پہاڑ کی طرح
ٱلْعَظِيمِ
بڑے

پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، پس دریا (بارہ حصوں میں) پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا زبردست پہاڑ کی مانند ہو گیا،

تفسير

وَاَزْلَـفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَۚ

وَأَزْلَفْنَا
اور قریب کردیا ہم نے
ثَمَّ
اس جگہ
ٱلْءَاخَرِينَ
دوسروں کو

اور ہم نے دوسروں (یعنی فرعون اور اس کے ساتھیوں) کو اس جگہ کے قریب کر دیا،

تفسير

وَاَنْجَيْنَا مُوْسٰى وَمَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِيْنَۚ

وَأَنجَيْنَا
اور نجات دی ہم نے
مُوسَىٰ
موسیٰ کو
وَمَن
اور جو
مَّعَهُۥٓ
اس کے ساتھ تھے
أَجْمَعِينَ
سب کے سب

اور ہم نے موسٰی علیہ السلام کو (بھی) نجات بخشی اور ان سب لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ تھے،

تفسير

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَۗ

ثُمَّ
پھر
أَغْرَقْنَا
غرق کردیا ہم نے
ٱلْءَاخَرِينَ
دوسروں کو

پھر ہم نے دوسروں (یعنی فرعونیوں) کو غرق کر دیا،

تفسير

اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۗ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ

إِنَّ
بیشک
فِى
اس میں
ذَٰلِكَ
البتہ
لَءَايَةًۖ
ایک نشانی ہے
وَمَا
اور نہ
كَانَ
تھے
أَكْثَرُهُم
ان میں سے اکثر
مُّؤْمِنِينَ
ایمان لانے والے

بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ) کی بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

تفسير

وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ

وَإِنَّ
اور بیشک
رَبَّكَ
رب تیرا
لَهُوَ
البتہ وہ
ٱلْعَزِيزُ
زبردست
ٱلرَّحِيمُ
رحم فرمانے والا ہے

اور بیشک آپ کا رب ہی یقیناً غالب رحمت والا ہے،

تفسير

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَۘ

وَٱتْلُ
اور پڑھ سنائیے
عَلَيْهِمْ
ان کو
نَبَأَ
خبر
إِبْرَٰهِيمَ
ابراہیم کی

اور آپ ان پر ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ (بھی) پڑھ کر سنا دیں،

تفسير

اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَقَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ

إِذْ
جب
قَالَ
اس نے کہا
لِأَبِيهِ
اپنے باپ سے
وَقَوْمِهِۦ
اور اپنی قوم سے
مَا
کس چیز کی
تَعْبُدُونَ
تم عبادت کرتے ہو

جب انہوں نے اپنے باپ ٭ اور اپنی قوم سے فرمایا: تم کس چیز کو پوجتے ہو، ٭ (یہ حقیقی باپ نہ تھا، چچا تھا۔ اسی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پرورش کی تھی جس کی وجہ سے اسے باپ کہا کرتے تھے۔ اس کا نام آزر ہے جبکہ آپ کے حقیقی والد کا نام تارخ ہے۔)

تفسير