Skip to main content

يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ ۢبِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِىَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۤٮِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا

يَوْمَ
جس دن
نَدْعُوا۟
ہم پکاریں گے
كُلَّ
سب
أُنَاسٍۭ
لوگوں کو
بِإِمَٰمِهِمْۖ
ساتھ ان کے لیڈر کے/ پیشوا کے
فَمَنْ
تو جو کوئی
أُوتِىَ
دیا گیا
كِتَٰبَهُۥ
کتاب اپنی
بِيَمِينِهِۦ
اپنے دائیں ہاتھ میں
فَأُو۟لَٰٓئِكَ
تو یہی لوگ
يَقْرَءُونَ
پڑھیں گے
كِتَٰبَهُمْ
کتاب اپنی
وَلَا
اور نہ
يُظْلَمُونَ
وہ ظلم کئے جائیں گے
فَتِيلًا
دھاگے برابر

وہ دن (یاد کریں) جب ہم لوگوں کے ہر طبقہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے، سو جسے اس کا نوشتۂ اَعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پس یہ لوگ اپنا نامۂ اعمال (مسرت و شادمانی سے) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا،

تفسير

وَمَنْ كَانَ فِىْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا

وَمَن
اور جو کوئی
كَانَ
ہوا
فِى
میں
هَٰذِهِۦٓ
اس دنیا
أَعْمَىٰ
اندھا
فَهُوَ
تو وہ
فِى
میں
ٱلْءَاخِرَةِ
آخرت میں
أَعْمَىٰ
اندھا ہوگا
وَأَضَلُّ
اور سب سے زیادہ بھٹکا ہوا
سَبِيلًا
راستے کے اعتبار سے

اور جو شخص اس (دنیا) میں (حق سے) اندھا رہا سو وہ آخرت میں بھی اندھا اور راہِ (نجات) سے بھٹکا رہے گا،

تفسير

وَاِنْ كَادُوْا لَيَـفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِىْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِىَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ ۖ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا

وَإِن
اور اگر چہ
كَادُوا۟
قریب تھا
لَيَفْتِنُونَكَ
کہ وہ دھوکہ دیں تجھ کو/ فتنے میں ڈالیں تجھ کو
عَنِ
اس
ٱلَّذِىٓ
چیز کے بارے میں
أَوْحَيْنَآ
ہم نے وحی
إِلَيْكَ
آپ کی طرف
لِتَفْتَرِىَ
تاکہ تم گھڑ سکو
عَلَيْنَا
ہم پر
غَيْرَهُۥۖ
اس کے علاوہ
وَإِذًا
اور تب البتہ
لَّٱتَّخَذُوكَ
وہ بنالیتے تجھ کو
خَلِيلًا
دوست

اور کفار تو یہی چاہتے تھے کہ آپ کو اس (حکمِ الٰہی) سے پھیر دیں جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے تاکہ آپ اس (وحی) کے سوا ہم پر کچھ اور (باتوں) کو منسوب کر دیں اور تب آپ کو اپنا دوست بنا لیں،

تفسير

وَلَوْلَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَيْــًٔـا قَلِيْلًا ۙ

وَلَوْلَآ
اور اگر نہ ہوتی یہ بات
أَن
کہ
ثَبَّتْنَٰكَ
ہم ثابت قدم رکھتے تجھ کو
لَقَدْ
البتہ تحقیق
كِدتَّ
قریب تھا
تَرْكَنُ
کہ تو جھک جاتا
إِلَيْهِمْ
ان کی طرف
شَيْـًٔا
چیز
قَلِيلًا
تھوڑا سا/ تھوڑی سی

اور اگر ہم نے آپ کو (پہلے ہی سے عصمتِ نبوت کے ذریعہ) ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو تب بھی آپ ان کی طرف (اپنے پاکیزہ نفس اور طبعی استعداد کے باعث) بہت ہی معمولی سے جھکاؤ کے قریب جاتے۔(ان کی طرف پھر بھی زیادہ مائل نہ ہوتے اور وہ ناکام رہتے مگر اﷲ نے آپ کو عصمتِ نبوت کے ذریعہ اس معمولی سے میلان کے قریب جانے سے بھی محفوظ فرما لیا ہے)،

تفسير

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَـكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا

إِذًا
تب
لَّأَذَقْنَٰكَ
البتہ ہم چکھاتے تجھ کو
ضِعْفَ
دوگنا
ٱلْحَيَوٰةِ
زندگی میں
وَضِعْفَ
اور دوگنا
ٱلْمَمَاتِ
موت میں
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
تَجِدُ
تم پاتے
لَكَ
اپنے لئے
عَلَيْنَا
ہم پر/ ہمارے مقابلے پر
نَصِيرًا
کوئی مدد گار

(اگر بالفرض آپ مائل ہو جاتے تو) اس وقت ہم آپ کو دوگنا مزہ زندگی میں اور دوگنا موت میں چکھاتے پھر آپ اپنے لئے (بھی) ہم پر کوئی مدد گار نہ پاتے،

تفسير

وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَـثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا

وَإِن
اور بیشک
كَادُوا۟
قریب تھا
لَيَسْتَفِزُّونَكَ
البتہ عاجز کردیں تجھ کو
مِنَ
سے
ٱلْأَرْضِ
زمین
لِيُخْرِجُوكَ
تاکہ وہ نکال دیں تجھ کو
مِنْهَاۖ
اس سے
وَإِذًا
اور تب
لَّا
نہ
يَلْبَثُونَ
وہ ٹھہرتے
خِلَٰفَكَ
تیرے پیچھے
إِلَّا
مگر
قَلِيلًا
تھوڑا سا

اور کفار یہ بھی چاہتے تھے کہ آپ کے قدم سرزمینِ (مکّہ) سے اکھاڑ دیں تاکہ وہ آپ کو یہاں سے نکال سکیں اور (اگر بالفرض ایسا ہو جاتا تو) اس وقت وہ (خود بھی) آپ کے پیچھے تھوڑی سی مدت کے سوا ٹھہر نہ سکتے،

تفسير

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا

سُنَّةَ
طریقہ ہے
مَن
جن کو
قَدْ
تحقیق
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
قَبْلَكَ
تجھ سے پہلے
مِن
میں سے
رُّسُلِنَاۖ
اپنے رسولوں
وَلَا
اور نہ
تَجِدُ
تو پائے گا
لِسُنَّتِنَا
ہمارے طریقے کو
تَحْوِيلًا
بدلنے والا

ان سب رسولوں (کے لئے اﷲ) کا دستور (یہی رہا ہے) جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اور آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے،

تفسير

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْـفَجْرِۗ اِنَّ قُرْاٰنَ الْـفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا

أَقِمِ
قائم کرو
ٱلصَّلَوٰةَ
نماز کو
لِدُلُوكِ
ڈھلنے کے وقت
ٱلشَّمْسِ
سورج کے
إِلَىٰ
تک
غَسَقِ
سخت تاریکی
ٱلَّيْلِ
رات کی
وَقُرْءَانَ
اور قرآن پڑھنا
ٱلْفَجْرِۖ
فجر کا
إِنَّ
بیشک
قُرْءَانَ
قرآن پڑھنا
ٱلْفَجْرِ
فجر کا
كَانَ
ہے
مَشْهُودًا
حاضر کیا گیا/ دیکھا جانے والا

آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نماز قائم فرمایا کریں اور نمازِ فجر کا قرآن پڑھنا بھی (لازم کر لیں)، بیشک نمازِ فجر کے قرآن میں (فرشتوں کی) حاضری ہوتی ہے (اور حضوری بھی نصیب ہوتی ہے)،

تفسير

وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ۖ عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَـثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا

وَمِنَ
میں سے
ٱلَّيْلِ
اور رات
فَتَهَجَّدْ
پس تہجد پڑھو
بِهِۦ
اس میں
نَافِلَةً
نفل ہیں/ زائد ہیں
لَّكَ
آپ کے لئے
عَسَىٰٓ
امید ہے
أَن
یہ کہ
يَبْعَثَكَ
پہنچادے تجھ کو
رَبُّكَ
رب تیرا
مَقَامًا
مقام
مَّحْمُودًا
محمود پر

اور رات کے کچھ حصہ میں (بھی قرآن کے ساتھ شب خیزی کرتے ہوئے) نماز تہجد پڑھا کریں یہ خاص آپ کے لئے زیادہ (کی گئی) ہے، یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا (یعنی وہ مقامِ شفاعتِ عظمٰی جہاں جملہ اوّلین و آخرین آپ کی طرف رجوع اور آپ کی حمد کریں گے)،

تفسير

وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِىْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِىْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّىْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا

وَقُل
اور آپ کہہ دیجئے
رَّبِّ
اے میرے رب
أَدْخِلْنِى
داخل کر مجھ کو
مُدْخَلَ
داخل کرنا
صِدْقٍ
سچائی کے ساتھ
وَأَخْرِجْنِى
اور نکال مجھ کو
مُخْرَجَ
نکالنا
صِدْقٍ
سچائی کے ساتھ
وَٱجْعَل
اور بنادے
لِّى
میرے لئے
مِن
سے
لَّدُنكَ
اپنے پاس سے
سُلْطَٰنًا
ایک قوت،
نَّصِيرًا
طاقت/ مددگار

اور آپ (اپنے رب کے حضور یہ) عرض کرتے رہیں: اے میرے رب! مجھے سچائی (خوشنودی) کے ساتھ داخل فرما (جہاں بھی داخل فرمانا ہو) اور مجھے سچائی (و خوشنودی) کے ساتھ باہر لے آ(جہاں سے بھی لانا ہو) اور مجھے اپنی جانب سے مددگار غلبہ و قوت عطا فرما دے،

تفسير