وَيٰقَوْمِ مَا لِىْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَى النَّارِۗ
اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو،
تَدْعُوْنَنِىْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِىْ بِهٖ عِلْمٌ وَّاَنَاۡ اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ
تم مجھے (یہ) دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم بھی نہیں اور میں تمہیں خدائے غالب کی طرف بلاتا ہوں جو بڑا بخشنے والا ہے،
لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَيْهِ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلَا فِى الْاٰخِرَةِ وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ
سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے جس چیز کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ (ہی) آخرت میں اور بے شک ہمارا واپس لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں،
فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَـكُمْۗ وَاُفَوِّضُ اَمْرِىْۤ اِلَى اللّٰهِۗ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ
سو تم عنقریب (وہ باتیں) یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے،
فَوَقٰٮهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۤءُ الْعَذَابِۚ
پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا،
اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُۗ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ
آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو،
وَاِذْ يَتَحَاۤجُّوْنَ فِى النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰۤؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَـكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ
اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو،
قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَاۤ ۙاِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ
تکبر کرنے والے کہیں گے: ہم سب ہی اسی (دوزخ) میں پڑے ہیں بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان حتمی فیصلہ فرما دیا ہے،
وَقَالَ الَّذِيْنَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ
اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے،
قَالُوْۤا اَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۗ قَالُوْا بَلٰى ۗ قَالُوْا فَادْعُوْا ۚ وَمَا دُعٰۤـؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ
وہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے: کیوں نہیں، (پھر داروغے) کہیں گے: تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (ہمیشہ) رائیگاں ہی ہوگی،