Skip to main content

وَيٰقَوْمِ مَا لِىْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَى النَّارِۗ

وَيَٰقَوْمِ
اور اے میری قوم
مَا
کیا ہے
لِىٓ
میرے لیے
أَدْعُوكُمْ
میں بلاتا ہوں تم کو
إِلَى
طرف
ٱلنَّجَوٰةِ
نجات کے
وَتَدْعُونَنِىٓ
اور تم بلاتے ہو مجھ کو
إِلَى
طرف
ٱلنَّارِ
آگ کی

اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو،

تفسير

تَدْعُوْنَنِىْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِىْ بِهٖ عِلْمٌ وَّاَنَاۡ اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ

تَدْعُونَنِى
تم پکارتے ہو مجھ کو
لِأَكْفُرَ
کہ میں کفر کروں
بِٱللَّهِ
اللہ کے ساتھ
وَأُشْرِكَ
اور میں شریک ٹھہراؤں
بِهِۦ
ساتھ اس کے
مَا
جو
لَيْسَ
نہیں ہے
لِى
میرے لیے
بِهِۦ
اس کا
عِلْمٌ
کوئی علم
وَأَنَا۠
اور میں
أَدْعُوكُمْ
بلاتا ہوں تم کو
إِلَى
طرف
ٱلْعَزِيزِ
زبردست
ٱلْغَفَّٰرِ
بخشش فرمانے والے کے

تم مجھے (یہ) دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم بھی نہیں اور میں تمہیں خدائے غالب کی طرف بلاتا ہوں جو بڑا بخشنے والا ہے،

تفسير

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَيْهِ لَيْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِى الدُّنْيَا وَلَا فِى الْاٰخِرَةِ وَاَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَاَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ

لَا
نہیں
جَرَمَ
کوئی شک
أَنَّمَا
بیشک
تَدْعُونَنِىٓ
تم بلاتے ہو مجھ کو
إِلَيْهِ
جس کی طرف
لَيْسَ
نہیں ہے
لَهُۥ
اس کے لیے
دَعْوَةٌ
کوئی دعوت۔ پکار
فِى
میں
ٱلدُّنْيَا
دنیا
وَلَا
اور نہ
فِى
میں
ٱلْءَاخِرَةِ
آخرت میں
وَأَنَّ
اور بیشک
مَرَدَّنَآ
پلٹنا ہمارا
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ
اللہ کی (طرف ہے)
وَأَنَّ
اور بیشک
ٱلْمُسْرِفِينَ
حد سے بڑھنے والے
هُمْ
وہ
أَصْحَٰبُ
ساتھی ہیں
ٱلنَّارِ
آگ کے (ساتھی ہیں) آگ والے ہیں

سچ تو یہ ہے کہ تم مجھے جس چیز کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے اور نہ (ہی) آخرت میں اور بے شک ہمارا واپس لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے اور یقیناً حد سے گزرنے والے ہی دوزخی ہیں،

تفسير

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَـكُمْۗ وَاُفَوِّضُ اَمْرِىْۤ اِلَى اللّٰهِۗ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ

فَسَتَذْكُرُونَ
پس عنقریب تم یاد کرو گے
مَآ
جو
أَقُولُ
میں کہہ رہا ہوں
لَكُمْۚ
تم کو
وَأُفَوِّضُ
اور میں سپرد کرتا ہوں
أَمْرِىٓ
اپنا معاملہ
إِلَى
طرف
ٱللَّهِۚ
اللہ کی
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
بَصِيرٌۢ
دیکھنے والا ہے
بِٱلْعِبَادِ
بندوں کو

سو تم عنقریب (وہ باتیں) یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھنے والا ہے،

تفسير

فَوَقٰٮهُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْۤءُ الْعَذَابِۚ

فَوَقَىٰهُ
پس بچا لیا اس کو
ٱللَّهُ
اللہ نے
سَيِّـَٔاتِ
بری۔ برائی سے
مَا
جو
مَكَرُوا۟ۖ
انہوں نے چالیں چلیں (ان کی بری چالوں سے)
وَحَاقَ
اور گھیر لیا
بِـَٔالِ
آل
فِرْعَوْنَ
فرعون کو
سُوٓءُ
برے
ٱلْعَذَابِ
عذاب نے

پھر اللہ نے اُسے اُن لوگوں کی برائیوں سے بچا لیا جن کی وہ تدبیر کر رہے تھے اور آلِ فرعون کو بُرے عذاب نے گھیر لیا،

تفسير

اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُۗ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ

ٱلنَّارُ
آگ
يُعْرَضُونَ
وہ پیش کیے جاتے ہیں
عَلَيْهَا
اس پر
غُدُوًّا
صبح
وَعَشِيًّاۖ
اور شام
وَيَوْمَ
اور جب۔ جس دن
تَقُومُ
قائم ہوگی
ٱلسَّاعَةُ
قیامت
أَدْخِلُوٓا۟
(کہا جائے گا) داخل کرو
ءَالَ
آل
فِرْعَوْنَ
فرعون کو
أَشَدَّ
زیادہ سخت۔ شدید ترین
ٱلْعَذَابِ
عذاب میں

آتشِ دوزخ کے سامنے یہ لوگ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت بپا ہوگی (تو حکم ہوگا:) آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو،

تفسير

وَاِذْ يَتَحَاۤجُّوْنَ فِى النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفٰۤؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَـكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ

وَإِذْ
اور جب
يَتَحَآجُّونَ
وہ باہم جھگڑیں گے
فِى
میں
ٱلنَّارِ
آگ (میں)
فَيَقُولُ
تو کہیں گے
ٱلضُّعَفَٰٓؤُا۟
کمزور لوگ
لِلَّذِينَ
ان لوگوں سے
ٱسْتَكْبَرُوٓا۟
جنہوں نے تکبر کیا تھا
إِنَّا
بیشک ہم
كُنَّا
تھے ہم
لَكُمْ
تمہارے لیے
تَبَعًا
تابع
فَهَلْ
تو کیا
أَنتُم
تم
مُّغْنُونَ
بچانے والے ہو
عَنَّا
ہم کو
نَصِيبًا
ایک حصے
مِّنَ
سے
ٱلنَّارِ
آگ کے

اور جب وہ لوگ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے تو کمزور لوگ ان سے کہیں گے جو (دنیا میں) بڑائی ظاہر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے پیروکار تھے سو کیا تم آتشِ دوزخ کا کچھ حصّہ (ہی) ہم سے دور کر سکتے ہو،

تفسير

قَالَ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِيْهَاۤ  ۙاِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ

قَالَ
کہیں گے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
ٱسْتَكْبَرُوٓا۟
جنہوں نے تکبر کیا تھا
إِنَّا
بیشک ہم
كُلٌّ
سب کے سب
فِيهَآ
اس میں ہیں
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
قَدْ
تحقیق
حَكَمَ
وہ فیصلہ کرچکا
بَيْنَ
درمیان
ٱلْعِبَادِ
بندوں کے

تکبر کرنے والے کہیں گے: ہم سب ہی اسی (دوزخ) میں پڑے ہیں بے شک اللہ نے بندوں کے درمیان حتمی فیصلہ فرما دیا ہے،

تفسير

وَقَالَ الَّذِيْنَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ

وَقَالَ
اور کہیں گے
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
فِى
میں
ٱلنَّارِ
جو آگ میں ہوں گے
لِخَزَنَةِ
اہل کاروں کو
جَهَنَّمَ
جہنم کے
ٱدْعُوا۟
پکارو
رَبَّكُمْ
اپنے رب کو
يُخَفِّفْ
ہلکا کردے
عَنَّا
ہم سے
يَوْمًا
ایک دن
مِّنَ
سے
ٱلْعَذَابِ
عذاب میں (سے)

اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے: اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہم سے عذاب ہلکا کر دے،

تفسير

قَالُوْۤا اَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۗ قَالُوْا بَلٰى ۗ قَالُوْا فَادْعُوْا ۚ وَمَا دُعٰۤـؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلٰلٍ

قَالُوٓا۟
وہ کہیں گے
أَوَلَمْ
کیا بھلا نہ
تَكُ
تھے
تَأْتِيكُمْ
آئے تمہارے پاس
رُسُلُكُم
تمہارے رسول
بِٱلْبَيِّنَٰتِۖ
ساتھ روشن دلائل کے
قَالُوا۟
وہ کہیں گے
بَلَىٰۚ
کیوں نہیں
قَالُوا۟
وہ کہیں گے
فَٱدْعُوا۟ۗ
پس دعا کرو
وَمَا
اور نہیں
دُعَٰٓؤُا۟
دعا
ٱلْكَٰفِرِينَ
کافروں کی
إِلَّا
مگر
فِى
میں
ضَلَٰلٍ
گمراہی (میں) گم ہونے والی

وہ کہیں گے: کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے: کیوں نہیں، (پھر داروغے) کہیں گے: تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (ہمیشہ) رائیگاں ہی ہوگی،

تفسير