فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِۙ السِّحْرُۗ اِنَّ اللّٰهَ سَيُبْطِلُهٗ ۗ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ
پھر جب انہوں نے (اپنی رسیاں اور لاٹھیاں) ڈال دیں تو موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: جو کچھ تم لائے ہو (یہ) جادو ہے، بیشک اللہ ابھی اسے باطل کر دے گا، یقیناً اللہ مفسدوں کے کام کو درست نہیں کرتا،
وَيُحِقُّ اللّٰهُ الْحَـقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ
اور اللہ اپنے کلمات سے حق کا حق ہونا ثابت فرما دیتا ہے اگرچہ مجرم لوگ اسے ناپسند ہی کرتے رہیں،
فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡ ٮِٕهِمْ اَنْ يَّفْتِنَهُمْ ۗ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِى الْاَرْضِ ۚ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ
پس موسٰی (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند جوانوں کے سوا (کوئی) ایمان نہ لایا، فرعون اور اپنے (قومی) سرداروں (وڈیروں) سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ انہیں (کسی) مصیبت میں مبتلا نہ کر دیں، اور بیشک فرعون سرزمینِ (مصر) میں بڑا جابر و سرکش تھا، اور وہ یقیناً (ظلم میں) حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا،
وَقَالَ مُوْسٰى يٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوْاۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِيْنَ
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم (واقعی) مسلمان ہو،
فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّـلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَۙ
تو انہوں نے عرض کیا: ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے، اے ہمارے رب! تو ہمیں ظالم لوگوں کے لئے نشانہء ستم نہ بنا،
وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ
اور تو ہمیں اپنی رحمت سے کافروں کی قوم (کے تسلّط) سے نجات بخش دے،
وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَاَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا وَّاجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں مصر (کے شہر) میں اپنی قوم کے لئے چند مکانات تیار کرو اور اپنے (ان) گھروں کو (نماز کی ادائیگی کے لئے) قبلہ رخ بناؤ اور (پھر) نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو (فتح و نصرت کی) خوشخبری سنا دو،
وَقَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَهٗ زِيْنَةً وَّاَمْوَالًا فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِكَۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْا حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَ لِيْمَ
اور موسٰی (علیہ السلام) نے کہا: اے ہمارے رب! بیشک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیوی زندگی میں اسبابِ زینت اور مال و دولت (کی کثرت) دے رکھی ہے، اے ہمارے رب! (کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لئے دیا ہے) تاکہ وہ (لوگوں کو کبھی لالچ اور کبھی خوف دلا کر) تیری راہ سے بہکا دیں۔ اے ہمارے رب! تو ان کی دولتوں کو برباد کردے اور ان کے دلوں کو (اتنا) سخت کردے کہ وہ پھر بھی ایمان نہ لائیں حتٰی کہ وہ دردناک عذاب دیکھ لیں،
قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيْمَا وَلَا تَتَّبِعٰۤنِّ سَبِيْلَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ
ارشاد ہوا: بیشک تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم دونوں ثابت قدم رہنا اور ایسے لوگوں کے راستہ کی پیروی نہ کرنا جو علم نہیں رکھتے،
وَجَاوَزْنَا بِبَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبـَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُهٗ بَغْيًا وَّعَدْوًا ۗ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِىْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَاۤءِيْلَ وَ اَنَاۡ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ
اور ہم بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے گئے پس فرعون اوراس کے لشکر نے سرکشی اور ظلم و تعدّی سے ان کا تعاقب کیا، یہاں تک کہ جب اسے (یعنی فرعون کو) ڈوبنے نے آلیا وہ کہنے لگا: میں اس پر ایمان لے آیا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس (معبود) کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں (اب) مسلمانوں میں سے ہوں،