Skip to main content

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَـاً وَّاٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا وَّقَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ ۚ فَلَمَّا رَاَيْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَقَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّۖ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا ۗ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ

فَلَمَّا
تو جب
سَمِعَتْ
اس نے سنا
بِمَكْرِهِنَّ
ان عورتوں کے مکر کو
أَرْسَلَتْ
اس نے بھیجا
إِلَيْهِنَّ
ان کی طرف (بلا بھیجنا ان کو)
وَأَعْتَدَتْ
اور تیار کیں
لَهُنَّ
ان کے لیے
مُتَّكَـًٔا
تکیہ لگانے کی جگہ (مجلس)
وَءَاتَتْ
اور دی
كُلَّ
ہر
وَٰحِدَةٍ
ایک عورت کو
مِّنْهُنَّ
ان میں سے
سِكِّينًا
ایک چھری
وَقَالَتِ
اور کہنے لگی
ٱخْرُجْ
نکل آ
عَلَيْهِنَّۖ
ان پر
فَلَمَّا
تو جب
رَأَيْنَهُۥٓ
ان عورتوں نے دیکھا اس کو
أَكْبَرْنَهُۥ
بڑا سمجھا اس کو۔ مرعوب ہوگئیں اس سے
وَقَطَّعْنَ
اور کاٹ بیٹھیں
أَيْدِيَهُنَّ
اپنے ہاتھ
وَقُلْنَ
اور کہنے لگیں
حَٰشَ
حاش۔پاکی
لِلَّهِ
للہ۔ پاکی ہے اللہ کے لیے
مَا
نہیں
هَٰذَا
ہے یہ
بَشَرًا
ایک انسان
إِنْ
نہیں
هَٰذَآ
یہ
إِلَّا
مگر
مَلَكٌ
ایک فرشتہ
كَرِيمٌ
معزز

پس جب اس (زلیخا) نے ان کی مکارانہ باتیں سنیں (تو) انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مجلس آراستہ کی (پھر ان کے سامنے پھل رکھ دیئے) اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دے دی اور (یوسف علیہ السلام سے) درخواست کی کہ ذرا ان کے سامنے سے (ہوکر) نکل جاؤ (تاکہ انہیں بھی میری کیفیت کا سبب معلوم ہو جائے)، سو جب انہوں نے یوسف (علیہ السلام کے حسنِ زیبا) کو دیکھا تو اس (کے جلوۂ جمال) کی بڑائی کرنے لگیں اور وہ (مدہوشی کے عالم میں پھل کاٹنے کے بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور (دیکھ لینے کے بعد بے ساختہ) بول اٹھیں: اﷲ کی پناہ! یہ تو بشر نہیں ہے، یہ تو بس کوئی برگزیدہ فرشتہ (یعنی عالمِ بالا سے اترا ہوا نور کا پیکر) ہے،

تفسير

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِىْ لُمْتُنَّنِىْ فِيْهِۗ وَ لَـقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّـفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَۗ وَلَٮِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَـيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ

قَالَتْ
وہ کہنے لگی
فَذَٰلِكُنَّ
تو یہ ہے
ٱلَّذِى
وہ شخص
لُمْتُنَّنِى
تم ملامت کرتی تھیں مجھ کو
فِيهِۖ
اس کے بارے میں
وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
رَٰوَدتُّهُۥ
میں نے پھسلانا چاہا اس کو
عَن
سے
نَّفْسِهِۦ
اس کے نفس سے
فَٱسْتَعْصَمَۖ
تو بچا گیا۔ بچ نکلا
وَلَئِن
اور البتہ اگر
لَّمْ
نہ
يَفْعَلْ
کرے
مَآ
جو
ءَامُرُهُۥ
میں حکم دیتی ہوں اس کو
لَيُسْجَنَنَّ
البتہ ضرور قید کیا جائے گا
وَلَيَكُونًا
اور البتہ ہوجائے گا
مِّنَ
سے
ٱلصَّٰغِرِينَ
ذلیل ہونے والوں میں سے

(زلیخا کی تدبیر کامیاب ہوگئی تب) وہ بولی: یہی وہ (پیکرِ نور) ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور بیشک میں نے ہی (اپنی خواہش کی شدت میں) اسے پھسلانے کی کوشش کی مگر وہ سراپا عصمت ہی رہا، اور اگر (اب بھی) اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے کہتی ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ یقینًا بے آبرو کیا جائے گا،

تفسير

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَىَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِىْۤ اِلَيْهِۚ وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّىْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ

قَالَ
اس نے کہا
رَبِّ
اے میرے رب
ٱلسِّجْنُ
قیدخانہ
أَحَبُّ
زیادہ پیارا ہے
إِلَىَّ
میری طرف
مِمَّا
اس سے جو
يَدْعُونَنِىٓ
وہ بلاتی ہیں مجھ کو
إِلَيْهِۖ
اس کی طرف
وَإِلَّا
اور اگر نہیں
تَصْرِفْ
تو پھیرے گا
عَنِّى
مجھ سے
كَيْدَهُنَّ
ان عورتوں کی چال کو
أَصْبُ
میں مائل ہوجاؤں گا
إِلَيْهِنَّ
ان کی طرف
وَأَكُن
اور میں ہوجاؤں گا
مِّنَ
سے
ٱلْجَٰهِلِينَ
جاہلوں میں سے

(اب زنانِ مصر بھی زلیخا کی ہم نوا بن گئی تھیں) یوسف (علیہ السلام) نے (سب کی باتیں سن کر) عرض کیا: اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے کہیں زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو نے ان کے مکر کو مجھ سے نہ پھیرا تو میں ان کی (باتوں کی) طرف مائل ہو جاؤں گا اور میں نادانوں میں سے ہو جاؤں گا،

تفسير

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّۗ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ

فَٱسْتَجَابَ
تو دعا قبول کرلی
لَهُۥ
اس کے لیے
رَبُّهُۥ
اس کے رب نے
فَصَرَفَ
تو دور کردیں۔ پھیر دیں
عَنْهُ
اس سے
كَيْدَهُنَّۚ
ان عورتوں کی چال
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
هُوَ
وہ
ٱلسَّمِيعُ
سننے والا ہے
ٱلْعَلِيمُ
جاننے والا ہے

سو ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی اور عورتوں کے مکر و فریب کو ان سے دور کر دیا۔ بیشک وہی خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے،

تفسير

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُـنَّهٗ حَتّٰى حِيْنٍ

ثُمَّ
پھر
بَدَا
ظاہر ہوگیا
لَهُم
ان کے لیے
مِّنۢ
کے
بَعْدِ
اس کے بعد
مَا
جو
رَأَوُا۟
انہوں نے دیکھیں
ٱلْءَايَٰتِ
نشانیاں
لَيَسْجُنُنَّهُۥ
البتہ ضرور قید کردیں گے اس کو
حَتَّىٰ
تک
حِينٍ
ایک وقت

پھر انہیں (یوسف علیہ السلام کی پاک بازی کی) نشانیاں دیکھ لینے کے بعد بھی یہی مناسب معلوم ہوا کہ اسے ایک مدت تک قید کر دیں (تاکہ عوام میں اس واقعہ کا چرچا ختم ہو جائے)،

تفسير

وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِۗ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّىْۤ اَرٰٮنِىْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا ۚ وَقَالَ الْاٰخَرُ اِنِّىْۤ اَرٰٮنِىْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِىْ خُبْزًا تَأْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ ۗ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيْلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰٮكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ

وَدَخَلَ
اور داخل ہوئے
مَعَهُ
اس کے ساتھ
ٱلسِّجْنَ
قید خانہ میں
فَتَيَانِۖ
دو غلام
قَالَ
کہا
أَحَدُهُمَآ
ان دونوں میں سے ایک نے
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَرَىٰنِىٓ
میں دیکھتا ہوں خود کو
أَعْصِرُ
میں نچوڑ رہا ہوں
خَمْرًاۖ
شراب
وَقَالَ
اور کہا
ٱلْءَاخَرُ
دوسرے نے
إِنِّىٓ
بیشک میں
أَرَىٰنِىٓ
دیکھتا ہوں خود کو
أَحْمِلُ
کہ میں اٹھائے ہوئے ہوں
فَوْقَ
اوپر
رَأْسِى
اپنے سر کے
خُبْزًا
روٹی
تَأْكُلُ
کھاتے ہیں
ٱلطَّيْرُ
پرندے
مِنْهُۖ
اس میں سے
نَبِّئْنَا
بتاؤ ہم کو
بِتَأْوِيلِهِۦٓۖ
اس کی تعبیر۔ مطلب
إِنَّا
بیشک ہم
نَرَىٰكَ
ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
مِنَ
سے
ٱلْمُحْسِنِينَ
محسنین میں سے

اور ان کے ساتھ دو جوان بھی قید خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں (انگور سے) شراب نچوڑ رہا ہوں، اور دوسرے نے کہا: میں نے اپنے آپ کو (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں، اس میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔ (اے یوسف!) ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، بیشک ہم آپ کو نیک لوگوں میں سے دیکھ رہے ہیں،

تفسير

قَالَ لَا يَأْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَـبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيْلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّأْتِيَكُمَا ۗ ذٰ لِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِىْ رَبِّىْ ۗ اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ

قَالَ
اس نے کہا
لَا
نہیں
يَأْتِيكُمَا
آئے گا تم دونوں کے پاس
طَعَامٌ
کھانا
تُرْزَقَانِهِۦٓ
تم کھلائے جاتے ہو اس کو
إِلَّا
مگر
نَبَّأْتُكُمَا
میں بتادوں گا تم دونوں کو
بِتَأْوِيلِهِۦ
اس کی تعبیر
قَبْلَ
اس سے پہلے
أَن
کہ
يَأْتِيَكُمَاۚ
وہ آئے تم دونوں کے پاس
ذَٰلِكُمَا
یہ
مِمَّا
اس میں سے ہے جو
عَلَّمَنِى
سکھایا مجھ کو
رَبِّىٓۚ
میرے رب نے
إِنِّى
بیشک میں
تَرَكْتُ
میں نے چھوڑ دیا
مِلَّةَ
ملت کو
قَوْمٍ
ایک قوم کی
لَّا
نہیں
يُؤْمِنُونَ
جو ایمان رکھتی
بِٱللَّهِ
اللہ پر
وَهُم
اور وہ
بِٱلْءَاخِرَةِ
آخرت کے ساتھ
هُمْ
وہ
كَٰفِرُونَ
انکاری ہیں

یوسف (علیہ السلام) نے کہا: جو کھانا (روز) تمہیں کھلایا جاتا ہے وہ تمہارے پاس آنے بھی نہ پائے گا کہ میں تم دونوں کو اس کی تعبیر تمہارے پاس اس کے آنے سے قبل بتا دوں گا، یہ (تعبیر) ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے ہیں۔ بیشک میں نے اس قوم کا مذہب (شروع ہی سے) چھوڑ رکھا ہے جو اﷲ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں،

تفسير

وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَاۤءِىْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَۗ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَىْءٍۗ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ

وَٱتَّبَعْتُ
اور میں نے پیروی کی
مِلَّةَ
ملت کی
ءَابَآءِىٓ
اپنے آباء کی
إِبْرَٰهِيمَ
ابراہیم
وَإِسْحَٰقَ
اور اسحاق
وَيَعْقُوبَۚ
اور یعقوب
مَا
نہیں
كَانَ
ہے
لَنَآ
ہمارے لیے
أَن
کہ
نُّشْرِكَ
ہم شریک ٹھہرائیں
بِٱللَّهِ
ساتھ اللہ کے
مِن
کسی
شَىْءٍۚ
چیز کو
ذَٰلِكَ
یہ
مِن
کے
فَضْلِ
فضل میں سے ہے
ٱللَّهِ
اللہ کے
عَلَيْنَا
ہم پر
وَعَلَى
اور پر
ٱلنَّاسِ
لوگوں
وَلَٰكِنَّ
اور لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَشْكُرُونَ
شکرادا کرتے

اور میں نے تو اپنے باپ دادا، ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیھم السلام) کے دین کی پیروی کر رکھی ہے، ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو بھی اﷲ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں، یہ (توحید) ہم پر اور لوگوں پر اﷲ کا (خاص) فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے،

تفسير

يٰصَاحِبَىِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۗ

يَٰصَىٰحِبَىِ
اے میرے دو ساتھیو
ٱلسِّجْنِ
قیدخانے کے
ءَأَرْبَابٌ
کیا بہت سے رب
مُّتَفَرِّقُونَ
مختلف قسم کے
خَيْرٌ
بہتر ہیں
أَمِ
یا
ٱللَّهُ
اللہ
ٱلْوَٰحِدُ
جو ایک ہے
ٱلْقَهَّارُ
زبردست ہے

اے میرے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! (بتاؤ) کیا الگ الگ بہت سے معبود بہتر ہیں یا ایک اﷲ جو سب پر غالب ہے،

تفسير

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَاۤءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْـتُمْ وَ اٰبَاۤؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍۗ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِۗ اَمَرَ اَ لَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُۗ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ

مَا
نہیں
تَعْبُدُونَ
تم عبادت کرتے
مِن
کے
دُونِهِۦٓ
اس کے سوا
إِلَّآ
مگر
أَسْمَآءً
کچھ ناموں کی
سَمَّيْتُمُوهَآ
نام رکھ لیے تم نے ان کے
أَنتُمْ
تم نے
وَءَابَآؤُكُم
اور تمہارے آباؤ اجداد نے
مَّآ
نہیں
أَنزَلَ
اتاری
ٱللَّهُ
اللہ نے
بِهَا
ان کے ساتھ
مِن
کوئی
سُلْطَٰنٍۚ
دلیل
إِنِ
نہیں
ٱلْحُكْمُ
فیصلہ۔ حکم
إِلَّا
مگر
لِلَّهِۚ
اللہ ہی کے لیے
أَمَرَ
اس نے حکم دیا
أَلَّا
کہ نہ
تَعْبُدُوٓا۟
تم عبادت کرو
إِلَّآ
مگر
إِيَّاهُۚ
صرف اسی کی
ذَٰلِكَ
یہ
ٱلدِّينُ
دین ہے
ٱلْقَيِّمُ
درست
وَلَٰكِنَّ
لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
جانتے ہیں

تم (حقیقت میں) اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے ہو مگر چند ناموں کی جو خود تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنے پاس سے) رکھ لئے ہیں، اﷲ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔ حکم کا اختیار صرف اﷲ کو ہے، اسی نے حکم فرمایا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا راستہ (درست دین) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

تفسير