وَقُلْ جَاۤءَ الْحَـقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُۗ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا
اور فرما دیجئے: حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، بیشک باطل نے زائل و نابود ہی ہو جانا ہے،
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْـقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۤءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّـلْمُؤْمِنِيْنَۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا
اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل فرما رہے ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لئے تو صرف نقصان ہی میں اضافہ کر رہا ہے،
وَاِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَــُٔوْسًا
اور جب ہم انسان پر (کوئی) انعام فرماتے ہیں تو وہ (شکر سے) گریز کرتا اور پہلو تہی کر جاتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے (گویا نہ شاکر ہے نہ صابر)،
قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖۗ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا
فرما دیجئے: ہر کوئی (اپنے) اپنے طریقہ و فطرت پر عمل پیرا ہے، اور آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ سیدھی راہ پر کون ہے،
وَيَسْـــَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۗ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ وَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا
اور یہ (کفّار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: روح میرے رب کے اَمر سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے،
وَلَٮِٕنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِىْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَـكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا ۙ
اور اگر ہم چاہیں تو اس (کتاب) کو جو ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے (لوگوں کے دلوں اور تحریری نسخوں سے) محو فرما دیں پھر آپ اپنے لئے اس (وحی) کے لے جانے پر ہماری بارگاہ میں کوئی وکالت کرنے والا بھی نہ پائیں گے،
اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۗ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا
مگر یہ کہ آپ کے رب کی رحمت سے (ہم نے اسے قائم رکھا ہے)، بیشک (یہ) آپ پر (اور آپ کے وسیلہ سے آپ کی امّت پر)اس کا بہت بڑا فضل ہے،
قُلْ لَّٮِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّأْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا
فرما دیجئے: اگر تمام انسان اور جنّات اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ اس قرآن کے مثل (کوئی دوسرا کلام بنا) لائیں گے تو (بھی) وہ اس کی مثل نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں،
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍۖ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا
اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال (مختلف طریقوں سے) بار بار بیان کی ہے مگر اکثر لوگوں نے (اسے) قبول نہ کیا (یہ) سوائے ناشکری کے (اور کچھ نہیں)،
وَقَالُوْا لَنْ نُّـؤْمِنَ لَـكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا ۙ
اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں،