Skip to main content

وَقُلْ جَاۤءَ الْحَـقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُۗ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

وَقُلْ
اور کہہ دیجئے
جَآءَ
آگیا
ٱلْحَقُّ
حق
وَزَهَقَ
اور زائل ہوگیا/ ہٹ گیا
ٱلْبَٰطِلُۚ
باطل
إِنَّ
بیشک
ٱلْبَٰطِلَ
باطل
كَانَ
ہے
زَهُوقًا
زائل ہونے والا

اور فرما دیجئے: حق آگیا اور باطل بھاگ گیا، بیشک باطل نے زائل و نابود ہی ہو جانا ہے،

تفسير

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْـقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۤءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّـلْمُؤْمِنِيْنَۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا

وَنُنَزِّلُ
اور ہم نازل کرتے ہیں
مِنَ
سے
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن میں (سے)
مَا
وہ
هُوَ
جو
شِفَآءٌ
شفاء ہے
وَرَحْمَةٌ
اور رحمت
لِّلْمُؤْمِنِينَۙ
ایمان لانے والوں کے لئے
وَلَا
اور نہیں
يَزِيدُ
زیادہ ہوتا
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالموں کو
إِلَّا
مگر
خَسَارًا
خسارہ

اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل فرما رہے ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لئے تو صرف نقصان ہی میں اضافہ کر رہا ہے،

تفسير

وَاِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَــُٔوْسًا

وَإِذَآ
اور جب
أَنْعَمْنَا
انعام کرتے ہیں ہم
عَلَى
پر
ٱلْإِنسَٰنِ
انسان
أَعْرَضَ
وہ منہ موڑ لیتا ہے
وَنَـَٔا
اور دور ہوتا ہے
بِجَانِبِهِۦۖ
اپنے پہلو کے ساتھ
وَإِذَا
اور جب
مَسَّهُ
پہنچتا ہے اس کو
ٱلشَّرُّ
شر/تکلیف
كَانَ
ہوجاتا ہے
يَـُٔوسًا
بہت مایوس

اور جب ہم انسان پر (کوئی) انعام فرماتے ہیں تو وہ (شکر سے) گریز کرتا اور پہلو تہی کر جاتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو مایوس ہو جاتا ہے (گویا نہ شاکر ہے نہ صابر)،

تفسير

قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖۗ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا

قُلْ
کہہ دیجئے
كُلٌّ
سب کے سب
يَعْمَلُ
عمل کر رہے ہیں
عَلَىٰ
پر
شَاكِلَتِهِۦ
اپنے طریقے
فَرَبُّكُمْ
تو رب تمہارا
أَعْلَمُ
زیادہ جانتا ہے
بِمَنْ
اس کو جو
هُوَ
وہ
أَهْدَىٰ
زیادہ ہدایت یافتہ ہے
سَبِيلًا
راستے کے اعتبار سے

فرما دیجئے: ہر کوئی (اپنے) اپنے طریقہ و فطرت پر عمل پیرا ہے، اور آپ کا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ سیدھی راہ پر کون ہے،

تفسير

وَيَسْـــَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۗ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ وَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا

وَيَسْـَٔلُونَكَ
اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
عَنِ
بارے میں
ٱلرُّوحِۖ
روح کے
قُلِ
کہہ دیجئے
ٱلرُّوحُ
روح
مِنْ
سے ہے
أَمْرِ
حکم
رَبِّى
میرے رب کے
وَمَآ
اور نہیں
أُوتِيتُم
دیئے گئے تم
مِّنَ
میں سے
ٱلْعِلْمِ
علم
إِلَّا
مگر
قَلِيلًا
بہت تھوڑا

اور یہ (کفّار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجئے: روح میرے رب کے اَمر سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے،

تفسير

وَلَٮِٕنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِىْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَـكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا ۙ

وَلَئِن
اور البتہ اگر
شِئْنَا
ہم چاہتے
لَنَذْهَبَنَّ
البتہ ہم ضرور لے جاتے
بِٱلَّذِىٓ
اس چیز کو
أَوْحَيْنَآ
جو وحی کی ہم نے
إِلَيْكَ
آپ کی طرف
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
تَجِدُ
تم پاتے
لَكَ
اپنے لئے
بِهِۦ
ساتھ اس کے
عَلَيْنَا
ہم پر
وَكِيلًا
کوئی کارساز

اور اگر ہم چاہیں تو اس (کتاب) کو جو ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے (لوگوں کے دلوں اور تحریری نسخوں سے) محو فرما دیں پھر آپ اپنے لئے اس (وحی) کے لے جانے پر ہماری بارگاہ میں کوئی وکالت کرنے والا بھی نہ پائیں گے،

تفسير

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۗ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا

إِلَّا
مگر
رَحْمَةً
رحمت
مِّن
سے
رَّبِّكَۚ
تیرے رب کی طرف (سے)
إِنَّ
بیشک
فَضْلَهُۥ
فضل اس کا
كَانَ
ہے
عَلَيْكَ
تجھ پر
كَبِيرًا
بہت بڑا

مگر یہ کہ آپ کے رب کی رحمت سے (ہم نے اسے قائم رکھا ہے)، بیشک (یہ) آپ پر (اور آپ کے وسیلہ سے آپ کی امّت پر)اس کا بہت بڑا فضل ہے،

تفسير

قُلْ لَّٮِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّأْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا

قُل
کہہ دیجئے
لَّئِنِ
البتہ اگر
ٱجْتَمَعَتِ
جمع ہوجائیں
ٱلْإِنسُ
انسان
وَٱلْجِنُّ
اور جن
عَلَىٰٓ
پر
أَن
کہ
يَأْتُوا۟
اس بات لے آئیں
بِمِثْلِ
مانند
هَٰذَا
اس
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن کے
لَا
نہ
يَأْتُونَ
لاسکیں گے
بِمِثْلِهِۦ
اس کی طرح کا
وَلَوْ
اور اگرچہ
كَانَ
ہوں
بَعْضُهُمْ
ان میں سے بعض
لِبَعْضٍ
بعض کے لئے
ظَهِيرًا
مدد گار

فرما دیجئے: اگر تمام انسان اور جنّات اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ اس قرآن کے مثل (کوئی دوسرا کلام بنا) لائیں گے تو (بھی) وہ اس کی مثل نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں،

تفسير

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍۖ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
صَرَّفْنَا
پھیر پھیر کر لائے ہم/ پھیر پھیر کر بیان کیں ہم نے
لِلنَّاسِ
لوگوں کے لئے
فِى
میں
هَٰذَا
اس
ٱلْقُرْءَانِ
قرآن
مِن
میں سے
كُلِّ
ہر طرح کی
مَثَلٍ
مثال
فَأَبَىٰٓ
تو نہ مانا
أَكْثَرُ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگوں نے
إِلَّا
مگر
كُفُورًا
انکار کرنا

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال (مختلف طریقوں سے) بار بار بیان کی ہے مگر اکثر لوگوں نے (اسے) قبول نہ کیا (یہ) سوائے ناشکری کے (اور کچھ نہیں)،

تفسير

وَقَالُوْا لَنْ نُّـؤْمِنَ لَـكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا ۙ

وَقَالُوا۟
اور انہوں نے کہا
لَن
ہم ہرگز نہ
نُّؤْمِنَ
ایمان لائیں گے
لَكَ
تیرے لئے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَفْجُرَ
تو جاری کرے
لَنَا
ہمارے لئے
مِنَ
سے
ٱلْأَرْضِ
زمین
يَنۢبُوعًا
ایک چشمہ

اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں،

تفسير