ثُمَّ اَنْشَأْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ ۚ
پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قوم کو پیدا فرمایا،
فَاَرْسَلْنَا فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ
سو ہم نے ان میں (بھی) انہی میں سے رسول بھیجا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے،
وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِلِقَاۤءِ الْاٰخِرَةِ وَاَتْرَفْنٰهُمْ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُوْنَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ
اور ان کی قوم کے (بھی وہی) سردار (اور وڈیرے) بول اٹھے جو کفر کر رہے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں (مال و دولت کی کثرت کے باعث) آسودگی (بھی) دے رکھی تھی (لوگوں سے کہنے لگے) کہ یہ شخص تو محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے، وہی چیزیں کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی کچھ پیتا ہے جو تم پیتے ہو،
وَلَٮِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَـكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ
اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کر لی تو پھر تم ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو گے،
اَيَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَكُنْتُمْ تُرَابًا وَّعِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَۖ
کیا یہ (شخص) تم سے یہ وعدہ کر رہا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور تم مٹی اور (بوسیدہ) ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم (دوبارہ زندہ ہو کر) نکالے جاؤ گے،
هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ ۖ
بعید (اَز قیاس) بعید (اَز وقوع) ہیں وہ باتیں جن کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے،
اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَۖ
وہ (آخرت کی زندگی کچھ) نہیں ہماری زندگانی تو یہی دنیا ہے ہم (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور (بس ختم)، ہم (دوبارہ) نہیں اٹھائے جائیں گے،
اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ ِفْتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّمَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِيْنَ
یہ تو محض ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا ہے اور ہم بالکل اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں،
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِىْ بِمَا كَذَّبُوْنِ
(پیغمبر نے) عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما اس صورتحال میں کہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے،
قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَۚ
ارشاد ہوا: تھوڑی ہی دیر میں وہ پشیماں ہو کر رہ جائیں گے،