Skip to main content

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَـقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَاۤءًۚ فَبُعْدًا لِّـلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ

فَأَخَذَتْهُمُ
تو پکڑ لیا ان کو
ٱلصَّيْحَةُ
چنگھاڑ نے۔ چیخ نے
بِٱلْحَقِّ
حق کے ساتھ
فَجَعَلْنَٰهُمْ
تو کردیا ہم نے ان کو
غُثَآءًۚ
کوڑا کرکٹ
فَبُعْدًا
تو ہلاکت ہے
لِّلْقَوْمِ
قوم کے لیے
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالم (قوم کے لیے)

پس سچے وعدہ کے مطابق انہیں خوفناک آواز نے آپکڑا سو ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا دیا، پس ظالم قوم کے لئے (ہماری رحمت سے) دوری و محرومی ہے،

تفسير

ثُمَّ اَنْشَأْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَۗ

ثُمَّ
پھر
أَنشَأْنَا
اٹھایا ہم نے
مِنۢ
سے
بَعْدِهِمْ
ان کے بعد
قُرُونًا
امتوں کو
ءَاخَرِينَ
کچھ دوسری

پھر ہم نے ان کے بعد (یکے بعد دیگرے) دوسری امتوں کو پیدا فرمایا،

تفسير

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسْتَـأْخِرُوْنَۗ

مَا
نہیں
تَسْبِقُ
سبقت لے جاسکی۔ آگے بڑھ سکتی ہے
مِنْ
کوئی
أُمَّةٍ
امت
أَجَلَهَا
اپنے مقرر وقت سے
وَمَا
اور نہ
يَسْتَـْٔخِرُونَ
وہ دیر کرسکتی ہے

کوئی بھی امت اپنے وقت مقرر سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے ہیں،

تفسير

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْـرَا ۗ كُلَّ مَا جَاۤءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَـعْنَا بَعْـضَهُمْ بَعْـضًا وَّجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ ۚ فَبُـعْدًا لِّـقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ

ثُمَّ
پھر
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
رُسُلَنَا
اپنے رسولوں کو
تَتْرَاۖ
پے در پے
كُلَّ
جب کبھی
مَا
جب کبھی
جَآءَ
آیا
أُمَّةً
کسی امت کے پاس
رَّسُولُهَا
اس کا رسول
كَذَّبُوهُۚ
انہوں نے جھٹلا دیا اس کو
فَأَتْبَعْنَا
تو پیچھے لائے ہم
بَعْضَهُم
ان میں سے بعض کو
بَعْضًا
بعض کے
وَجَعَلْنَٰهُمْ
اور بنادیا ہم نے ان کو
أَحَادِيثَۚ
باتیں۔ افسانہ
فَبُعْدًا
تو دوری ہے
لِّقَوْمٍ
اس قوم کے لیے
لَّا
نہ
يُؤْمِنُونَ
جو ایمان لاتی ہو

پھر ہم نے پے در پے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ جب بھی کسی امت کے پاس اس کا رسول آتا وہ اسے جھٹلا دیتے تو ہم (بھی) ان میں سے بعض کو بعض کے پیچھے (ہلاک در ہلاک) کرتے چلے گئے اور ہم نے انہیں داستانیں بنا ڈالا، پس ہلاکت ہو ان لوگوں کے لئے جو ایمان نہیں لاتے،

تفسير

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَاَخَاهُ هٰرُوْنَ ۙ بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ

ثُمَّ
پھر
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
مُوسَىٰ
موسیٰ کو
وَأَخَاهُ
اور اس کے بھائی
هَٰرُونَ
ہارون کو
بِـَٔايَٰتِنَا
اپنی نشانیوں کے ساتھ
وَسُلْطَٰنٍ
اور دلیل کے ساتھ
مُّبِينٍ
کھلی

پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور روشن دلیل دے کر بھیجا،

تفسير

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡٮِٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْا قَوْمًا عٰلِيْنَ ۚ

إِلَىٰ
طرف
فِرْعَوْنَ
فرعون کی
وَمَلَإِي۟هِۦ
اور اس کے سرداروں کی طرف
فَٱسْتَكْبَرُوا۟
تو ان سب نے تکبر کیا
وَكَانُوا۟
اور تھے وہ
قَوْمًا
لوگ
عَالِينَ
متکبر

فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف تو انہوں نے بھی تکبّر و رعونت سے کام لیا اور وہ بھی (بڑے) ظالم و سرکش لوگ تھے،

تفسير

فَقَالُـوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَـنَا عٰبِدُوْنَۚ

فَقَالُوٓا۟
تو کہنے لگے
أَنُؤْمِنُ
کیا ہم ایمان لائیں
لِبَشَرَيْنِ
دو انسانوں کے لیے
مِثْلِنَا
ہم جیسے۔ اپنے جیسے
وَقَوْمُهُمَا
اور ان دونوں کی قوم
لَنَا
ہماری
عَٰبِدُونَ
غلامی کرنے والے ہیں

سو انہوں نے (بھی یہی) کہا کہ کیا ہم اپنے جیسے دو بشروں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان کی قوم کے لوگ ہماری پرستش کرتے ہیں،

تفسير

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَـكِيْنَ

فَكَذَّبُوهُمَا
تو انہوں نے جھٹلایا ان دونوں کو
فَكَانُوا۟
تو ہوگئے وہ
مِنَ
سے
ٱلْمُهْلَكِينَ
ہلاک ہونے والوں میں (سے)

پس انہوں نے (بھی) ان دونوں کو جھٹلا دیا سو وہ بھی ہلاک کئے گئے لوگوں میں سے ہو گئے،

تفسير

وَلَـقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْـكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
ءَاتَيْنَا
دی ہم نے
مُوسَى
موسیٰ کو
ٱلْكِتَٰبَ
کتاب
لَعَلَّهُمْ
تاکہ وہ
يَهْتَدُونَ
ہدایت پائیں

اور بیشک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ ہدایت پاجائیں،

تفسير

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰيَةً وَّاٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ

وَجَعَلْنَا
اور بنایا ہم نے
ٱبْنَ
ابن
مَرْيَمَ
مریم کو
وَأُمَّهُۥٓ
اور اس کی ماں کو
ءَايَةً
ایک نشانی
وَءَاوَيْنَٰهُمَآ
اور پناہ دی ہم نے ان دونوں کو
إِلَىٰ
طرف
رَبْوَةٍ
بلند جگہ کے
ذَاتِ
والی
قَرَارٍ
قرار والی۔ رہنے والی
وَمَعِينٍ
اور بہتے چشمے والی

اور ہم نے ابن مریم (عیسٰی علیہ السلام) کو اور ان کی ماں کو اپنی (زبردست) نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک (ایسی) بلند زمین میں سکونت بخشی جو بآسائش و آرام رہنے کے قابل (بھی) تھی اور وہاں آنکھوں کے (نظارے کے) لئے بہتے پانی (یعنی نہریں، آبشاریں اور چشمے بھی) تھے،

تفسير