اَوْ تَكُوْنَ لَـكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا ۙ
یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کردیں،
اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۤءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَأْتِىَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰۤٮِٕكَةِ قَبِيْلًا ۙ
یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اﷲ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں،
اَوْ يَكُوْنَ لَـكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِى السَّمَاۤءِ ۗ وَلَنْ نُّـؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّـقْرَؤُهٗ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا
یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اﷲ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں،
وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَاۤءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُـوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا
اور (ان) لوگوں کو ایمان لانے سے اور کوئی چیز مانع نہ ہوئی جبکہ ان کے پاس ہدایت (بھی) آچکی تھی سوائے اس کے کہ وہ کہنے لگے: کیا اﷲ نے (ایک) بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے،
قُلْ لَّوْ كَانَ فِى الْاَرْضِ مَلٰۤٮِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَٮِٕنِّيْنَ لَـنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۤءِ مَلَـكًا رَّسُوْلًا
فرما دیجئے: اگر زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے چلتے پھرتے سکونت پذیر ہوتے تو یقیناً ہم (بھی) ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے،
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْۗ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا
فرما دیجئے: میرے اور تمہارے درمیان اﷲ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب آگاہ خوب دیکھنے والا ہے،
وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَاۤءَ مِنْ دُوْنِهٖ ۗ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۗ مَأْوٰٮهُمْ جَهَـنَّمُ ۗ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا
اور اﷲ جسے ہدایت فرما دے تو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ ان کے لئے اس کے سوا مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، جب بھی وہ بجھنے لگے گی ہم انہیں (عذاب دینے کے لئے) اور زیادہ بھڑکا دیں گے،
ذٰلِكَ جَزَاۤؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا
یہ ان لوگوں کی سزا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم (مَر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟،
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۗ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے (وہ) اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ ان لوگوں کی مثل (دوبارہ) پیدا فرما دے اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کردیا ہے مگر (یہ) ناشکری ہے،
قُلْ لَّوْ اَنْـتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۤٮِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّىْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۗ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا
فرما دیجئے: اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تب بھی (سب) خرچ ہوجانے کے خوف سے تم (اپنے ہاتھ) روکے رکھتے، اور انسان بہت ہی تنگ دل اور بخیل واقع ہوا ہے،