Skip to main content

اَوْ تَكُوْنَ لَـكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا ۙ

أَوْ
یا
تَكُونَ
ہو وے
لَكَ
تیرے لئے
جَنَّةٌ
ایک باغ
مِّن
میں سے
نَّخِيلٍ
کھجوروں
وَعِنَبٍ
اور انگوروںمیں سے
فَتُفَجِّرَ
پھر تو پھاڑے
ٱلْأَنْهَٰرَ
دریا
خِلَٰلَهَا
اس کے درمیان
تَفْجِيرًا
پھاڑنا/ جاری کرنا

یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کردیں،

تفسير

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۤءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَأْتِىَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰۤٮِٕكَةِ قَبِيْلًا ۙ

أَوْ
یا
تُسْقِطَ
تو گرائے
ٱلسَّمَآءَ
آسمان کو
كَمَا
جیسا کہ
زَعَمْتَ
تم دعویٰ کرتے ہو
عَلَيْنَا
ہم پر
كِسَفًا
ٹکڑے ٹکڑے کرکے
أَوْ
یا
تَأْتِىَ
تو لے آئے
بِٱللَّهِ
اللہ تعالیٰ کو
وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ
اور فرشتوں کو
قَبِيلًا
سامنے

یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اﷲ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں،

تفسير

اَوْ يَكُوْنَ لَـكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِى السَّمَاۤءِ ۗ وَلَنْ نُّـؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّـقْرَؤُهٗ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا

أَوْ
یا
يَكُونَ
ہو
لَكَ
تیرے لئے
بَيْتٌ مِّن
بیت
زُخْرُفٍ
سونے کا
أَوْ
یا
تَرْقَىٰ
تو چڑھ جائے
فِى
میں
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
وَلَن
اور ہم ہرگز نہ
نُّؤْمِنَ
مانیں گے
لِرُقِيِّكَ
تیرے چڑھنے کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تُنَزِّلَ
تو اتار لائے
عَلَيْنَا
ہم پر
كِتَٰبًا
ایک کتاب
نَّقْرَؤُهُۥۗ
ہم پڑھیں اس کو
قُلْ
کہہ دیجئے
سُبْحَانَ
پاک ہے
رَبِّى
میرا رب
هَلْ
کیا نہیں
كُنتُ
ہوں میں
إِلَّا
مگر/ سوائے
بَشَرًا
ایک انسان کے
رَّسُولًا
جو رسول ہے

یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اﷲ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں،

تفسير

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَاۤءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُـوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا

وَمَا
اور نہیں
مَنَعَ
روکا
ٱلنَّاسَ
لوگوں کو
أَن
کہ
يُؤْمِنُوٓا۟
وہ ایمان لائیں
إِذْ
جب
جَآءَهُمُ
آگئی ان کے پاس
ٱلْهُدَىٰٓ
ہدایت
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
قَالُوٓا۟
انہوں نے کہا
أَبَعَثَ
کیا بھیجا
ٱللَّهُ
اللہ نے
بَشَرًا
ایک بشر کو
رَّسُولًا
رسول بناکر

اور (ان) لوگوں کو ایمان لانے سے اور کوئی چیز مانع نہ ہوئی جبکہ ان کے پاس ہدایت (بھی) آچکی تھی سوائے اس کے کہ وہ کہنے لگے: کیا اﷲ نے (ایک) بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے،

تفسير

قُلْ لَّوْ كَانَ فِى الْاَرْضِ مَلٰۤٮِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَٮِٕنِّيْنَ لَـنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۤءِ مَلَـكًا رَّسُوْلًا

قُل
کہہ دیجئے
لَّوْ
اگر
كَانَ
ہوتے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
مَلَٰٓئِكَةٌ
فرشتے
يَمْشُونَ
چلتے پھرتے
مُطْمَئِنِّينَ
اطمینان کے ساتھ
لَنَزَّلْنَا
البتہ نازل کرتے ہم
عَلَيْهِم
ان پر
مِّنَ
سے
ٱلسَّمَآءِ
آسمان
مَلَكًا
ایک فرشتے کو
رَّسُولًا
رسول بنا کر

فرما دیجئے: اگر زمین میں (انسانوں کی بجائے) فرشتے چلتے پھرتے سکونت پذیر ہوتے تو یقیناً ہم (بھی) ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے،

تفسير

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْۗ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا

قُلْ
کہہ دیجئے
كَفَىٰ
کافی ہے
بِٱللَّهِ
اللہ تعالیٰ
شَهِيدًۢا
گواہ
بَيْنِى
میرے درمیان
وَبَيْنَكُمْۚ
اور تمہارے درمیان
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
كَانَ
ہے
بِعِبَادِهِۦ
اپنے بندوں کی
خَبِيرًۢا
خبر رکھنے والا،
بَصِيرًا
دیکھنے والا

فرما دیجئے: میرے اور تمہارے درمیان اﷲ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب آگاہ خوب دیکھنے والا ہے،

تفسير

وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَاۤءَ مِنْ دُوْنِهٖ ۗ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۗ مَأْوٰٮهُمْ جَهَـنَّمُ ۗ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا

وَمَن
اور جس کو
يَهْدِ
ہدایت دے
ٱللَّهُ
اللہ
فَهُوَ
تو وہی
ٱلْمُهْتَدِۖ
ہدایت پانے والا ہے
وَمَن
او ر جس کو
يُضْلِلْ
بھٹکادے
فَلَن
تو ہرگز نہیں
تَجِدَ
تم پاؤ گے
لَهُمْ
ان کے لئے
أَوْلِيَآءَ
کوئی مدد گار
مِن
اس کے
دُونِهِۦۖ
سوا
وَنَحْشُرُهُمْ
اور ہم اکٹھا کریں گے ان کو
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
عَلَىٰ
پر
وُجُوهِهِمْ
ان مونہوں
عُمْيًا
اندھا
وَبُكْمًا
اور گونگا
وَصُمًّاۖ
اور بہرا (بناکر)
مَّأْوَىٰهُمْ
ٹھکانہ ان کا ہوگا
جَهَنَّمُۖ
جہنم ہوگا
كُلَّمَا
جب کبھی
خَبَتْ
آہستہ ہونے لگے گی
زِدْنَٰهُمْ
زیادہ کردیں گے ہم ان کو
سَعِيرًا
بھڑکنے میں

اور اﷲ جسے ہدایت فرما دے تو وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ ٹھہرا دے تو آپ ان کے لئے اس کے سوا مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، جب بھی وہ بجھنے لگے گی ہم انہیں (عذاب دینے کے لئے) اور زیادہ بھڑکا دیں گے،

تفسير

ذٰلِكَ جَزَاۤؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا

ذَٰلِكَ
یہ
جَزَآؤُهُم
ان کی جزا ہے
بِأَنَّهُمْ
بوجہ اس کے کہ بیشک انہوں نے
كَفَرُوا۟
انہوں نے کفر کیا
بِـَٔايَٰتِنَا
ہماری آیات کا
وَقَالُوٓا۟
اور انہوں نے کہا
أَءِذَا
کیا جب ہوں گے
كُنَّا
ہم
عِظَٰمًا
ہڈیاں
وَرُفَٰتًا
اور ریزہ ریزہ
أَءِنَّا
کیا بیشک ہم
لَمَبْعُوثُونَ
البتہ اٹھائیں جائیں گے
خَلْقًا
پیدائش میں
جَدِيدًا
نئی

یہ ان لوگوں کی سزا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور یہ کہتے رہے کہ کیا جب ہم (مَر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم اَز سرِ نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟،

تفسير

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِىْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۗ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا

أَوَلَمْ
کیا بھلا انہوں نے
يَرَوْا۟
دیکھا نہیں
أَنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
خَلَقَ
جس نے پیدا کیا
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
آسمانوں کو
وَٱلْأَرْضَ
اور زمین کو
قَادِرٌ
قادر ہے
عَلَىٰٓ
اس بات پر
أَن
کہ
يَخْلُقَ
وہ پیدا کرے
مِثْلَهُمْ
ان کی مانند
وَجَعَلَ
اور اس نے مقرر کر رکھا ہے
لَهُمْ
ان کے لئے
أَجَلًا
ایک وقت
لَّا
نہیں
رَيْبَ
کوئی شک
فِيهِ
جس میں
فَأَبَى
تو انکار کیا
ٱلظَّٰلِمُونَ
ظالموں نے
إِلَّا
مگر
كُفُورًا
کفر کا/انکار کا

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے (وہ) اس بات پر (بھی) قادر ہے کہ وہ ان لوگوں کی مثل (دوبارہ) پیدا فرما دے اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر فرما دیا ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر بھی ظالموں نے انکار کردیا ہے مگر (یہ) ناشکری ہے،

تفسير

قُلْ لَّوْ اَنْـتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۤٮِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّىْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۗ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا

قُل
کہہ دیجئے
لَّوْ
اگر
أَنتُمْ
تم
تَمْلِكُونَ
مالک ہو
خَزَآئِنَ
خزانوں کے
رَحْمَةِ
رحمت کے
رَبِّىٓ
میرے رب کی
إِذًا
تب
لَّأَمْسَكْتُمْ
البتہ روک لیتے تم
خَشْيَةَ
ڈر سے
ٱلْإِنفَاقِۚ
خرچ ہوجانے کے
وَكَانَ
اور ہے
ٱلْإِنسَٰنُ
انسان
قَتُورًا
کنجوس/ بخیل

فرما دیجئے: اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تب بھی (سب) خرچ ہوجانے کے خوف سے تم (اپنے ہاتھ) روکے رکھتے، اور انسان بہت ہی تنگ دل اور بخیل واقع ہوا ہے،

تفسير