Skip to main content

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۤٮِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا ۚ

وَإِذْ
اور جب
قُلْنَا
کہا ہم نے
لِلْمَلَٰٓئِكَةِ
فرشوں سے
ٱسْجُدُوا۟
سجدہ کرو
لِءَادَمَ
آدم کو
فَسَجَدُوٓا۟
تو ان سب نے سجدہ کیا
إِلَّآ
مگر
إِبْلِيسَ
ابلیس نے
قَالَ
اس نے کہا
ءَأَسْجُدُ
کیا میں سجدہ کروں
لِمَنْ
واسطے اس کے
خَلَقْتَ
جس کو پیدا کیا تو نے
طِينًا
مٹی سے

اور (وہ وقت یاد کیجئے) جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ تم آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، اس نے کہا: کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے،

تفسير

قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِىْ كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَٮِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلًا

قَالَ
کہا
أَرَءَيْتَكَ
کیا دیکھا تو نے اپنے آپ کو
هَٰذَا
یہ ہے
ٱلَّذِى
جسے
كَرَّمْتَ
تو نے عزت بخشی
عَلَىَّ
مجھ پر
لَئِنْ
البتہ اگر
أَخَّرْتَنِ
تو نے مہلت دی مجھ کو
إِلَىٰ
تک
يَوْمِ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
لَأَحْتَنِكَنَّ
البتہ میں ضرور قابو میں کرلوں گا
ذُرِّيَّتَهُۥٓ
اس کی اولاد کو
إِلَّا
مگر/ سوائے تھوڑوں کے
قَلِيلًا
مگر/ سوائے تھوڑوں کے

(اور شیطان یہ بھی) کہنے لگا: مجھے بتا تو سہی کہ یہ وہ شخص ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (آخر اس کی کیا وجہ ہے؟) اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے (اپنے قبضہ میں لے کر) جڑ سے اکھاڑ دوں گا،

تفسير

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَـنَّمَ جَزَاۤؤُكُمْ جَزَاۤءً مَّوْفُوْرًا

قَالَ
فرمایا
ٱذْهَبْ
جا
فَمَن
تو جو کوئی
تَبِعَكَ
پیروی کرے تیری
مِنْهُمْ
ان میں سے
فَإِنَّ
تو بیشک
جَهَنَّمَ
جہنم
جَزَآؤُكُمْ
بدلہ ہے تمہارا
جَزَآءً
بدلہ
مَّوْفُورًا
پورا پورا

اﷲ نے فرمایا: جا (تجھے مہلت ہے) پس ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا تو بیشک دوزخ (ہی) تم سب کی پوری پوری سزا ہے،

تفسير

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۗ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا

وَٱسْتَفْزِزْ
اور بہکالے/ اکسالے
مَنِ
جس کو
ٱسْتَطَعْتَ
تو استطاعت رکھتا ہے
مِنْهُم
ان میں سے
بِصَوْتِكَ
اپنی آواز کے ساتھ
وَأَجْلِبْ
اور چڑھا لا
عَلَيْهِم
ان پر
بِخَيْلِكَ
سوار اپنے
وَرَجِلِكَ
اور پیادے اپنے
وَشَارِكْهُمْ
اور شریک ہو ان کا
فِى
میں
ٱلْأَمْوَٰلِ
مالوں
وَٱلْأَوْلَٰدِ
اور بچوں میں
وَعِدْهُمْۚ
اور وعدہ کر ان سے
وَمَا
اور نہیں
يَعِدُهُمُ
وعدہ کرتا ان سے
ٱلشَّيْطَٰنُ
شیطان
إِلَّا
مگر
غُرُورًا
دھوکے کا

اور جس پر بھی تیرا بس چل سکتا ہے تو (اسے) اپنی آواز سے ڈگمگا لے اور ان پر اپنی (فوج کے) سوار اور پیادہ دستوں کو چڑھا دے اور ان کے مال و اولاد میں ان کا شریک بن جا اور ان سے (جھوٹے) وعدے کر، اور ان سے شیطان دھوکہ و فریب کے سوا (کوئی) وعدہ نہیں کرتا،

تفسير

اِنَّ عِبَادِىْ لَـيْسَ لَـكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۗ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا

إِنَّ
بیشک
عِبَادِى
میرے بندے
لَيْسَ
نہیں ہے
لَكَ
تیرے لئے
عَلَيْهِمْ
ان پر
سُلْطَٰنٌۚ
کوئی زور
وَكَفَىٰ
اور کافی ہے
بِرَبِّكَ
تیرا رب
وَكِيلًا
کارساز

بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا تسلط نہیں ہو سکے گا، اور تیرا رب ان (اﷲ والوں) کی کارسازی کے لئے کافی ہے،

تفسير

رَبُّكُمُ الَّذِىْ يُزْجِىْ لَـكُمُ الْفُلْكَ فِى الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖۗ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا

رَّبُّكُمُ
رب تمہارا
ٱلَّذِى
وہ ذات ہے
يُزْجِى
جو چلاتا ہے
لَكُمُ
تمہارے لئے
ٱلْفُلْكَ
کشتیوں کو
فِى
میں
ٱلْبَحْرِ
سمندر
لِتَبْتَغُوا۟
تاکہ تم تلاش کرو
مِن
سے
فَضْلِهِۦٓۚ
اسکے فضل
إِنَّهُۥ
یقیناً وہ
كَانَ
ہے
بِكُمْ
ساتھ تمہارے
رَحِيمًا
رحم فرمانے والا

تمہارا رب وہ ہے جو سمندر (اور دریا) میں تمہارے لئے (جہاز اور) کشتیاں رواں فرماتا ہے تاکہ تم (اندرونی و بیرونی تجارت کے ذریعہ) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو، بیشک وہ تم پر بڑا مہربان ہے،

تفسير

وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰٮكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۗ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا

وَإِذَا
اور جب
مَسَّكُمُ
چھو جاتی ہے تم کو
ٱلضُّرُّ
تکلیف
فِى
میں
ٱلْبَحْرِ
سمندر
ضَلَّ
گم ہوجاتے ہیں
مَن
جن کو
تَدْعُونَ
تم پکارتے ہو
إِلَّآ
سوائے
إِيَّاهُۖ
صرف اس کے
فَلَمَّا
تو جب
نَجَّىٰكُمْ
وہ نجات دیتا ہے تم کو
إِلَى
طرف
ٱلْبَرِّ
خشکی کی
أَعْرَضْتُمْۚ
تو تم منہ موڑ جاتے ہو
وَكَانَ
اور ہے
ٱلْإِنسَٰنُ
انسان
كَفُورًا
بڑا ناشکرا

اور جب سمندر میں تمہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ (سب بت تمہارے ذہنوں سے) گم ہو جاتے ہیں جن کی تم پرستش کرتے رہتے ہو سوائے اسی (اﷲ) کے (جسے تم اس وقت یاد کرتے ہو)، پھر جب وہ (اﷲ) تمہیں بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے (تو پھر اس سے) رُوگردانی کرنے لگتے ہو، اور انسان بڑا ناشکرا واقع ہوا ہے،

تفسير

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْالَـكُمْ وَكِيْلًا ۙ

أَفَأَمِنتُمْ
کیا بےخوف ہوگئے تم
أَن
کہ
يَخْسِفَ
وہ دھنسا دے
بِكُمْ
تم کو
جَانِبَ
جانب
ٱلْبَرِّ
خشکی کے
أَوْ
یا
يُرْسِلَ
بھیجے
عَلَيْكُمْ
تم پر
حَاصِبًا
پتھروں کی بارش
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
تَجِدُوا۟
تم پاؤ گے
لَكُمْ
اپنے لئے
وَكِيلًا
کوئی کارساز

کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کے کنارے پر ہی (زمین میں) دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم اپنے لئے کوئی کارساز نہ پاسکو گے،

تفسير

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَـكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا

أَمْ
یا
أَمِنتُمْ
بےخوف ہوگئے
أَن
کہ
يُعِيدَكُمْ
وہ لوٹائے تم کو
فِيهِ
اس میں
تَارَةً
مرتبہ
أُخْرَىٰ
دوسری
فَيُرْسِلَ
پھر بھیجے
عَلَيْكُمْ
تم پر
قَاصِفًا
گرجنے والی/ توڑنے والی
مِّنَ
میں سے
ٱلرِّيحِ
ہوا
فَيُغْرِقَكُم
پھر غرق کردے تم کو
بِمَا
بوجہ اس کے
كَفَرْتُمْۙ
جو ناشکری کی تم نے
ثُمَّ
پھر
لَا
نہ
تَجِدُوا۟
تم پاؤ
لَكُمْ
اپنے لئے
عَلَيْنَا
ہمارے مقابلے میں
بِهِۦ
ساتھ اس کے
تَبِيعًا
کوئی تابع/ کوئی یپیچھا کرنے والا

یا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اس (سمندر) میں پلٹا کر لے جائے اور تم پر کشتیاں توڑ دینے والی آندھی بھیج دے پھر تمہیں اس کفر کے باعث جو تم کرتے تھے (سمندر میں) غرق کر دے پھر تم اپنے لئے اس (ڈبونے) پر ہم سے مؤاخذہ کرنے والا کوئی نہیں پاؤ گے،

تفسير

وَلَـقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىْۤ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
كَرَّمْنَا
عزت بخشی ہم نے
بَنِىٓ
بنی
ءَادَمَ
آدم کو
وَحَمَلْنَٰهُمْ
اور سوار کیا ہمنے ان کو
فِى
میں
ٱلْبَرِّ
خشکی
وَٱلْبَحْرِ
اور سمندر میں
وَرَزَقْنَٰهُم
اور رزق دیا ہم نے ان کو
مِّنَ
سے
ٱلطَّيِّبَٰتِ
پاکیزہ چیزوں میں (سے)
وَفَضَّلْنَٰهُمْ
اور فضیلت دی ہم نے ان کو
عَلَىٰ
اوپر
كَثِيرٍ
بہت ساروں کے
مِّمَّنْ
ان میں سے جو
خَلَقْنَا
پیدا کئے ہم نے
تَفْضِيلًا
فضیلت دینا

اور بیشک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری (یعنی شہروں اور صحراؤں اور سمندروں اور دریاؤں) میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے فضیلت دے کر برتر بنا دیا،

تفسير