Skip to main content
وَلَا
اور نہ
تَنكِحُوا۟
تم نکاح کرو
ٱلْمُشْرِكَٰتِ
مشرک عورتوں سے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يُؤْمِنَّۚ
وہ ایمان لے آئیں
وَلَأَمَةٌ
اور البتہ لونڈی
مُّؤْمِنَةٌ
مومنہ۔ ایمان والی
خَيْرٌ
بہتر ہے
مِّن
سے
مُّشْرِكَةٍ
مشرکہ عورت
وَلَوْ
اور اگرچہ
أَعْجَبَتْكُمْۗ
وہ اچھی لگے تم کو
وَلَا
اور نہ
تُنكِحُوا۟
تم نکاح کر کے دو
ٱلْمُشْرِكِينَ
مشرک مردوں کو
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يُؤْمِنُوا۟ۚ
وہ ایمان لے آئیں
وَلَعَبْدٌ
اور البتہ غلام
مُّؤْمِنٌ
مومن
خَيْرٌ
بہتر ہے
مِّن
سے
مُّشْرِكٍ
مشرک مرد
وَلَوْ
اور اگرچہ
أَعْجَبَكُمْۗ
وہ پسند آئے تم کو
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہ لوگ
يَدْعُونَ
بلاتے ہیں
إِلَى
طرف
ٱلنَّارِۖ
آگ کی
وَٱللَّهُ
اور اللہ
يَدْعُوٓا۟
بلاتا ہے
إِلَى
طرف
ٱلْجَنَّةِ
جنت کی طرف
وَٱلْمَغْفِرَةِ
اور بخشش کی طرف
بِإِذْنِهِۦۖ
ساتھ اپنے اذن کے
وَيُبَيِّنُ
اور بیان کرتا ہے
ءَايَٰتِهِۦ
آیات اپنی
لِلنَّاسِ
لوگوں کے لیے
لَعَلَّهُمْ
تاکہ وہ
يَتَذَكَّرُونَ
وہ نصیحت پکڑیں

تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے

تفسير
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ
اور وہ سوال کرتے ہیں آپ سے
ٱلْمَحِيضِۖ
حیض کے بارے میں
قُلْ
کہہ دیجیے
هُوَ
وہ
أَذًى
نجاست ہے۔ تکلیف ہے
فَٱعْتَزِلُوا۟
تو الگ رہو
ٱلنِّسَآءَ
عورتوں سے
فِى
میں
ٱلْمَحِيضِۖ
حیض
وَلَا
اور نہ
تَقْرَبُوهُنَّ
تم قریب جاؤ ان کے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَطْهُرْنَۖ
وہ پاک ہوجائیں
فَإِذَا
پھر جب
تَطَهَّرْنَ
وہ پاک ہو جائیں
فَأْتُوهُنَّ
تو آؤ ان کے پاس
مِنْ
سے
حَيْثُ
جہاں
أَمَرَكُمُ
حکم دیا تم کو
ٱللَّهُۚ
اللہ نے
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
يُحِبُّ
پسند کرتا ہے۔ محبت رکھتا ہے
ٱلتَّوَّٰبِينَ
توبہ کرنے والوں سے
وَيُحِبُّ
اور محبت رکھتا ہے
ٱلْمُتَطَهِّرِينَ
پاک رہنے والوں سے

پوچھتے ہیں; حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو; وہ ایک گندگی کی حالت ہے اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو اُن کے پاس جاؤ اُس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں

تفسير
نِسَآؤُكُمْ
عورتیں تمہاری
حَرْثٌ
کھیتی ہیں
لَّكُمْ
تمہارے لیے
فَأْتُوا۟
تو آؤ
حَرْثَكُمْ
اپنے کھیت میں
أَنَّىٰ
جہاں سے۔ جس طرح
شِئْتُمْۖ
چاہو تم
وَقَدِّمُوا۟
اور آگے بھیجو
لِأَنفُسِكُمْۚ
واسطے اپنے نفسوں کے
وَٱتَّقُوا۟
اور ڈرو
ٱللَّهَ
اللہ سے
وَٱعْلَمُوٓا۟
اور جان لو
أَنَّكُم
بیشک تم
مُّلَٰقُوهُۗ
ملاقات کرنے والے ہو اس سے
وَبَشِّرِ
اور خوشخبری دے دو
ٱلْمُؤْمِنِينَ
ایمان لانے والوں کو

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اُس سے ملنا ہے اور اے نبیؐ! جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں فلاح و سعادت کا مثردہ سنا دو

تفسير
وَلَا
اور نہ
تَجْعَلُوا۟
تم بناؤ
ٱللَّهَ
اللہ کو
عُرْضَةً
نشانہ۔ ڈھال۔ ہدف
لِّأَيْمَٰنِكُمْ
اپنی قسموں کے لیے
أَن
کہ
تَبَرُّوا۟
تم نیکی کرو
وَتَتَّقُوا۟
اور تم تقوی اختیار کرو
وَتُصْلِحُوا۟
اور تم صلح کراؤ
بَيْنَ
درمیان
ٱلنَّاسِۗ
لوگوں کے
وَٱللَّهُ
اور اللہ
سَمِيعٌ
سننے والا ہے
عَلِيمٌ
جاننے والا ہے

اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بند گان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے

تفسير
لَّا
نہیں
يُؤَاخِذُكُمُ
مواخذہ کرے گا تمہارا
ٱللَّهُ
اللہ
بِٱللَّغْوِ
ساتھ لغو کے
فِىٓ
میں
أَيْمَٰنِكُمْ
تمہاری قسموں
وَلَٰكِن
لیکن
يُؤَاخِذُكُم
مواخذہ کرے گا تمہارا
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَسَبَتْ
کمائی کی
قُلُوبُكُمْۗ
تمہارے دلوں نے
وَٱللَّهُ
اور اللہ
غَفُورٌ
مغفرت کرنے والا
حَلِيمٌ
حلم والا۔ بردبار ہے

جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، اُن کی باز پرس وہ ضرور کرے گا اللہ بہت در گزر کرنے والا اور بردبار ہے

تفسير
لِّلَّذِينَ
ان لوگوں کے لیے
يُؤْلُونَ
جو قسم کھالیتے ہیں
مِن
سے
نِّسَآئِهِمْ
اپنی بیویوں
تَرَبُّصُ
انتظار کرنا ہے
أَرْبَعَةِ
چار
أَشْهُرٍۖ
مہینے
فَإِن
پھر اگر
فَآءُو
وہ رجوع کریں۔ وہ لوٹیں
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
غَفُورٌ
بخشنے والا
رَّحِيمٌ
مہربان ہے

جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں، اُن کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے اگر انہوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے

تفسير
وَإِنْ
اور اگر
عَزَمُوا۟
وہ عزم کریں۔ انہوں نے ارادہ کیا
ٱلطَّلَٰقَ
طلاق کا
فَإِنَّ
تو بیشک
ٱللَّهَ
اللہ
سَمِيعٌ
سننے والا
عَلِيمٌ
جاننے والا ہے

اور اگر اُنہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

تفسير
وَٱلْمُطَلَّقَٰتُ
اور عورتیں جو طلاق یافتہ ہیں
يَتَرَبَّصْنَ
انتظار کریں وہ
بِأَنفُسِهِنَّ
ساتھ اپنے نفسوں کے
ثَلَٰثَةَ
تین
قُرُوٓءٍۚ
حیض۔ طہر
وَلَا
اور نہیں
يَحِلُّ
حلال
لَهُنَّ
ان کے لیے
أَن
کہ
يَكْتُمْنَ
وہ چھپائیں
مَا
جو
خَلَقَ
پیدا کیا
ٱللَّهُ
اللہ نے
فِىٓ
میں
أَرْحَامِهِنَّ
ان کے رحموں
إِن
اگر
كُنَّ
وہ ہیں
يُؤْمِنَّ
ایمان رکھتیں
بِٱللَّهِ
اللہ پر
وَٱلْيَوْمِ
اور یوم
ٱلْءَاخِرِۚ
آخرت پر
وَبُعُولَتُهُنَّ
اور ان کے شوہر
أَحَقُّ
زیادہ حق دار ہیں
بِرَدِّهِنَّ
ان کو لوٹانے کے
فِى
میں
ذَٰلِكَ
اس
إِنْ
اگر
أَرَادُوٓا۟
وہ ارادہ کریں۔ وہ چاہتے ہوں
إِصْلَٰحًاۚ
اصلاح کو
وَلَهُنَّ
اور ان کے لیے
مِثْلُ
مانند
ٱلَّذِى
اس کے ہے۔ جو
عَلَيْهِنَّ
اوپر ان کے ہے
بِٱلْمَعْرُوفِۚ
ساتھ معروف طریقے کے
وَلِلرِّجَالِ
اور مردوں کے لیے
عَلَيْهِنَّ
ان پر
دَرَجَةٌۗ
ایک درجہ ہے
وَٱللَّهُ
اور اللہ
عَزِيزٌ
زبردست ہے
حَكِيمٌ
حکمت والا ہے

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپائیں اُنہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے

تفسير
ٱلطَّلَٰقُ
طلاق
مَرَّتَانِۖ
دو مرتبہ ہے
فَإِمْسَاكٌۢ
پھر روک لینا ہے
بِمَعْرُوفٍ
ساتھ بھلے طریقے کے
أَوْ
یا
تَسْرِيحٌۢ
رخصت کردینا ہے
بِإِحْسَٰنٍۗ
ساتھ احسان کے
وَلَا
اور نہیں
يَحِلُّ
حلال۔ جائز
لَكُمْ
تمہارے لیے
أَن
کہ
تَأْخُذُوا۟
تم لے لو
مِمَّآ
اس میں سے جو
ءَاتَيْتُمُوهُنَّ
دے دیا ہے تم نے ان کو
شَيْـًٔا
کچھ بھی
إِلَّآ
مگر
أَن
کہ
يَخَافَآ
وہ دونوں ڈریں
أَلَّا
کہ نہ
يُقِيمَا
وہ دونوں قائم رکھ سکیں گے
حُدُودَ
حدود کو
ٱللَّهِۖ
اللہ کی
فَإِنْ
پھر اگر
خِفْتُمْ
اندیشہ ہو تمہیں
أَلَّا
کہ نہ
يُقِيمَا
وہ دونوں قائم رکھ سکیں گے
حُدُودَ
حدود کو
ٱللَّهِ
اللہ کی
فَلَا
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيْهِمَا
ان دونوں پر
فِيمَا
اس چیز میں
ٱفْتَدَتْ
جو وہ (عورت) فدیہ دے دے
بِهِۦۗ
ساتھ اس کے
تِلْكَ
یہ
حُدُودُ
حدود ہیں
ٱللَّهِ
اللہ کی
فَلَا
تو نہ
تَعْتَدُوهَاۚ
تم تجاوز کرنا ان سے
وَمَن
اور جو
يَتَعَدَّ
تجاوز کرے گا
حُدُودَ
حدود
ٱللَّهِ
اللہ کی
فَأُو۟لَٰٓئِكَ
تو یہی لوگ ہیں
هُمُ
وہ
ٱلظَّٰلِمُونَ
جو ظالم ہیں

طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کر تے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کر لے یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، اِن سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں

تفسير
فَإِن
پھر اگر
طَلَّقَهَا
وہ (مرد) طلاق دے دے اس (عورت) کو
فَلَا
تو نہیں
تَحِلُّ
وہ حلال ہوسکتی
لَهُۥ مِنۢ
اس کے لیے
بَعْدُ
اس کے بعد
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
تَنكِحَ
وہ (عورت) نکاح کرے
زَوْجًا
شوہر سے
غَيْرَهُۥۗ
اس کے علاوہ
فَإِن
پھر اگر
طَلَّقَهَا
وہ طلاق دے اس کو
فَلَا
تو نہیں
جُنَاحَ
کوئی گناہ
عَلَيْهِمَآ
ان دونوں پر
أَن
کہ
يَتَرَاجَعَآ
وہ دونوں رجوع کریں
إِن
کہ
ظَنَّآ
وہ دونوں سمجھیں
أَن
کہ
يُقِيمَا
وہ دونوں قائم کرلیں گے
حُدُودَ
حدود کو
ٱللَّهِۗ
اللہ کی
وَتِلْكَ
اور یہ
حُدُودُ
حدود ہیں
ٱللَّهِ
اللہ کی
يُبَيِّنُهَا
وہ بیان کرتا ہے ان کو
لِقَوْمٍ
(ان) لوگوں کے لیے جو
يَعْلَمُونَ
علم رکھتے ہیں

پھر اگر (دو بارہ طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار) طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہوگی، الّا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجو ع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنہیں وہ اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے، جو (اس کی حدود کو توڑنے کا انجام) جانتے ہیں

تفسير