Skip to main content
وَمِنْهُم
اور ان میں سے
مَّن
کوئی
يَقُولُ
کہتا ہے
رَبَّنَآ
اے ہمارے رب
ءَاتِنَا
دے ہم کو
فِى
میں
ٱلدُّنْيَا
دنیا
حَسَنَةً
بھلائی
وَفِى
اور میں
ٱلْءَاخِرَةِ
آخرت
حَسَنَةً
بھلائی
وَقِنَا
اور تو بچا ہم کو
عَذَابَ
عذاب سے
ٱلنَّارِ
آگ کے

اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا

تفسير
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی لوگ ہیں
لَهُمْ
جن کے لیے ہے
نَصِيبٌ
ایک حصہ
مِّمَّا
اس سے جو
كَسَبُوا۟ۚ
انہوں نے کمایا
وَٱللَّهُ
اور اللہ
سَرِيعُ
جلدی لینے والا ہے
ٱلْحِسَابِ
حساب کا

ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی

تفسير
وَٱذْكُرُوا۟
اور یاد کرو
ٱللَّهَ
اللہ کو
فِىٓ
میں
أَيَّامٍ
دنوں
مَّعْدُودَٰتٍۚ
گنے چنے
فَمَن
تو جو کوئی
تَعَجَّلَ
جلدی کرے
فِى
میں
يَوْمَيْنِ
دو دنوں
فَلَآ
تو نہیں ہے
إِثْمَ
کوئی گناہ
عَلَيْهِ
اس پر
وَمَن
اور جو
تَأَخَّرَ
تاخیر کرے۔ دیرے کرے
فَلَآ
تو نہیں ہے
إِثْمَ
کوئی گناہ
عَلَيْهِۚ
اس پر
لِمَنِ
واسطے اس کے جو
ٱتَّقَىٰۗ
تقوی اختیار کرے
وَٱتَّقُوا۟
اور ڈرو
ٱللَّهَ
اللہ سے
وَٱعْلَمُوٓا۟
اور جان لو
أَنَّكُمْ
بیشک تم
إِلَيْهِ
اس کی طرف
تُحْشَرُونَ
تم اکٹھے کیے جاؤ گے

یہ گنتی کے چند روز ہیں، جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہییں پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہو اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے

تفسير
وَمِنَ
اور سے
ٱلنَّاسِ
لوگوں
مَن
کوئی وہ ہے
يُعْجِبُكَ
جو اچھی لگتی ہے تجھ کو۔ جو پسند آتی ہے تجھ کو
قَوْلُهُۥ
بات اس کی
فِى
میں
ٱلْحَيَوٰةِ
زندگی میں
ٱلدُّنْيَا
دنیا کی
وَيُشْهِدُ
اور وہ گواہ بناتا ہے
ٱللَّهَ
اللہ کو
عَلَىٰ
اوپر
مَا
اس کے جو
فِى
میں
قَلْبِهِۦ
اس کے دل میں ہے
وَهُوَ
حالانکہ وہ
أَلَدُّ
سخت جھگڑالو
ٱلْخِصَامِ
جھگڑنے والوں میں سے ہے۔ جھگڑے میں

انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خد ا کو گواہ ٹھیرا تا ہے، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن حق ہوتا ہے

تفسير
وَإِذَا
اور جب
تَوَلَّىٰ
وہ منہ موڑتا ہے۔ پلٹ کرجاتا ہے
سَعَىٰ
کوشش کرتا ہے۔ دوڑ دھوپ کرتا ہے
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین
لِيُفْسِدَ
تاکہ وہ فساد کرے
فِيهَا
اس میں
وَيُهْلِكَ
اور تاکہ وہ ہلاک کرے
ٱلْحَرْثَ
کھیتی کو
وَٱلنَّسْلَۗ
اور نسل کو
وَٱللَّهُ
اور اللہ
لَا
نہیں
يُحِبُّ
پسند کرتا
ٱلْفَسَادَ
فساد کو

جب اُسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے حالاں کہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا

تفسير
وَإِذَا
اور جب
قِيلَ
کہا جاتا ہے
لَهُ
واسطے اس کے
ٱتَّقِ
ڈرو
ٱللَّهَ
اللہ سے
أَخَذَتْهُ
پکڑ لیتی ہے اس کو
ٱلْعِزَّةُ
عزت۔ وقار
بِٱلْإِثْمِۚ
ساتھ گناہ کے
فَحَسْبُهُۥ
تو کافی ہے اس کو
جَهَنَّمُۚ
جہنم
وَلَبِئْسَ
اور البتہ کتنا برا ہے۔ یقینا بہت ہی برا ہے
ٱلْمِهَادُ
ٹھکانہ

اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

تفسير
وَمِنَ
اور میں سے
ٱلنَّاسِ
لوگوں
مَن
کوئی وہ ہے
يَشْرِى
جو بیچتا ہے
نَفْسَهُ
اپنے نفس کو
ٱبْتِغَآءَ
تلاش کرنے کے لیے۔ چاہنے کے لیے
مَرْضَاتِ
رضا
ٱللَّهِۗ
اللہ کی
وَٱللَّهُ
اور اللہ
رَءُوفٌۢ
شفقت کرنے والا ہے
بِٱلْعِبَادِ
بندوں پر

دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضا ئے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے

تفسير
يَٰٓأَيُّهَا
اے
ٱلَّذِينَ
لوگو
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے ہو
ٱدْخُلُوا۟
داخل ہوجاؤ
فِى
میں
ٱلسِّلْمِ
اسلام میں۔ اطاعت میں
كَآفَّةً
سارے کے سارے۔ پورے کے پورے
وَلَا
اور نہ
تَتَّبِعُوا۟
تم پیروی کرو
خُطُوَٰتِ
قدموں کی
ٱلشَّيْطَٰنِۚ
شیطان کے
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
لَكُمْ
تمہارے لیے
عَدُوٌّ
دشمن ہے
مُّبِينٌ
کھلم کھلا

اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

تفسير
فَإِن
پھر اگر
زَلَلْتُم مِّنۢ
لڑکھڑا گئے تم۔ پھسل گئے تم
بَعْدِ
اس کے بعد
مَا
جو
جَآءَتْكُمُ
آگئیں تمہارے پاس
ٱلْبَيِّنَٰتُ
روشن نشانیاں
فَٱعْلَمُوٓا۟
تو جان لو
أَنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
عَزِيزٌ
زبردست ہے
حَكِيمٌ
حکمت والا ہے

جو صاف صاف ہدایات تمہارے پا س آ چکی ہیں، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغز ش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے

تفسير
هَلْ
کیا۔ پس
يَنظُرُونَ
وہ انتظار کر رہے۔ وہ دیکھ رہے
إِلَّآ
مگر
أَن
(اس بات کا) یہ کہ
يَأْتِيَهُمُ
آجائے ان کے پاس
ٱللَّهُ
اللہ
فِى
میں
ظُلَلٍ
سائبانوں
مِّنَ
سے
ٱلْغَمَامِ
بادلوں
وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ
اور فرشتے
وَقُضِىَ
اور پورا کردیا جائے
ٱلْأَمْرُۚ
معاملہ۔ فیصلہ
وَإِلَى
اور طرف
ٱللَّهِ
اللہ کے
تُرْجَعُ
لوٹائے جاتے ہیں
ٱلْأُمُورُ
سب کام

(اِن ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں، تو) کیا اب وہ اِس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے سا تھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟ آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں

تفسير