Skip to main content

وَيَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌۖ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَاۤٮِٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَيْرَ الَّذِىْ تَقُوْلُ ۗ وَاللّٰهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُوْنَ ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ۗ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا

وَيَقُولُونَ
اور وہ کہتے ہیں
طَاعَةٌ
اطاعت (کریں گے)
فَإِذَا
پھر جب
بَرَزُوا۟
وہ نکلتے ہیں
مِنْ
سے
عِندِكَ
تیرے پاس
بَيَّتَ
رات مشورے کرتا ہے۔ رات گذارتا ہے
طَآئِفَةٌ
ایک گروہ
مِّنْهُمْ
ان میں سے
غَيْرَ
سوائے
ٱلَّذِى
اس چیز کے جو
تَقُولُۖ
تم کہتے ہو
وَٱللَّهُ
اور اللہ
يَكْتُبُ
لکھ رہا ہے
مَا
جو
يُبَيِّتُونَۖ
وہ رات کو مشورے کرتے ہیں
فَأَعْرِضْ
پس اعراض برتیے
عَنْهُمْ
ان سے
وَتَوَكَّلْ
اور بھروسہ کریں
عَلَى
پر
ٱللَّهِۚ
اللہ
وَكَفَىٰ
اور کافی ہے
بِٱللَّهِ
اللہ
وَكِيلًا
کارساز

اور (ان منافقوں کا یہ حال ہے کہ آپ کے سامنے) کہتے ہیں کہ (ہم نے آپ کا حکم) مان لیا، پھر وہ آپ کے پاس سے (اٹھ کر) باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ آپ کی کہی ہوئی بات کے برعکس رات کو رائے زنی (اور سازشی مشورے) کرتا ہے، اور اللہ (وہ سب کچھ) لکھ رہا ہے جو وہ رات بھر منصوبے بناتے ہیں۔ پس (اے محبوب!) آپ ان سے رُخِ انور پھیر لیجئے اوراللہ پر بھروسہ رکھئیے، اور اللہ کافی کارساز ہے،

تفسير

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَۗ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا

أَفَلَا
کیا بھلا نہیں
يَتَدَبَّرُونَ
وہ غور و فکر کرتے
ٱلْقُرْءَانَۚ
قرآن میں
وَلَوْ
اور اگر
كَانَ
وہ ہوتا
مِنْ
سے
عِندِ
طرف سے
غَيْرِ
علاوہ
ٱللَّهِ
اللہ کے
لَوَجَدُوا۟
البتہ وہ پاتے
فِيهِ
اس میں
ٱخْتِلَٰفًا
اختلاف
كَثِيرًا
بہت زیادہ

تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے،

تفسير

وَاِذَا جَاۤءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَـوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ ۚ وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰۤى اُولِى الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْۗ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا

وَإِذَا
اور جب
جَآءَهُمْ
آتا ہے ان کے پاس
أَمْرٌ
کوئی امر، معاملہ
مِّنَ
میں سے
ٱلْأَمْنِ
امن
أَوِ
یا
ٱلْخَوْفِ
خوف میں سے
أَذَاعُوا۟ بِهِۦۖ
مشہور کردیتے ہیں اس کو۔ پھیلا دیتے ہیں اس کو
وَلَوْ
اور اگر
رَدُّوهُ
لوٹاتے اس کو
إِلَى
طرف
ٱلرَّسُولِ
رسول کے
وَإِلَىٰٓ
اور طرف
أُو۟لِى
اولی
ٱلْأَمْرِ
امر کے
مِنْهُمْ
ان میں سے
لَعَلِمَهُ
البتہ جان لیتے اس کو
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ
جو استنباط کرسکتے ہیں اس کا
مِنْهُمْۗ
ان میں سے
وَلَوْلَا
اور اگر نہ ہوتا
فَضْلُ
فضل
ٱللَّهِ
اللہ کا
عَلَيْكُمْ
تم پر
وَرَحْمَتُهُۥ
اور اس کی رحمت
لَٱتَّبَعْتُمُ
البتہ پیروی کرتے تم
ٱلشَّيْطَٰنَ
شیطان کی
إِلَّا
مگر
قَلِيلًا
بہت تھڑے

اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر وہ (بجائے شہرت دینے کے) اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی طرف لوٹادیتے تو ضرور ان میں سے وہ لوگ جو (کسی) بات کانتیجہ اخذ کرسکتے ہیں اس (خبر کی حقیقت) کو جان لیتے، اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقیناً چند ایک کے سوا تم (سب) شیطان کی پیروی کرنے لگتے،

تفسير

فَقَاتِلْ فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنْ يَّكُفَّ بَأْسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۗ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَأْسًا وَّاَشَدُّ تَـنْكِيْلًا

فَقَٰتِلْ
تو جنگ کرو
فِى
میں
سَبِيلِ
راہ
ٱللَّهِ
اللہ کی
لَا
نہیں
تُكَلَّفُ
تم مکلف بنائے گئے
إِلَّا
مگر
نَفْسَكَۚ
اپنی جان کے
وَحَرِّضِ
اور ابھارئیے
ٱلْمُؤْمِنِينَۖ
مومنوں کو
عَسَى
امید ہے کہ
ٱللَّهُ أَن
اللہ
يَكُفَّ
کہ روک دے
بَأْسَ
زور
ٱلَّذِينَ
ان لوگو ں کا
كَفَرُوا۟ۚ
جنہوں نے کفر کیا
وَٱللَّهُ
اور اللہ
أَشَدُّ
شدید ہے
بَأْسًا
طاقت میں
وَأَشَدُّ
اور زیادہ سخت ہے
تَنكِيلًا
عبرت ناک سزا میں

پس (اے محبوب!) آپ اللہ کی راہ میں جہاد کیجئے، آپ کو اپنی جان کے سوا (کسی اور کے لئے) ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا اور آپ مسلمانوں کو (جہاد کے لئے) اُبھاریں، عجب نہیں کہ اللہ کافروں کا جنگی زور توڑ دے، اور اللہ گرفت میں (بھی) بہت سخت ہے اور سزا دینے میں (بھی) بہت سخت،

تفسير

مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنْ لَّهٗ نَصِيْبٌ مِّنْهَا ۚ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا ۗ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ مُّقِيْتًا

مَّن
جو کئی
يَشْفَعْ
سفارش کرے گا
شَفَٰعَةً
سفارش
حَسَنَةً
اچھی
يَكُن
ہوگا
لَّهُۥ
اس کے لیے
نَصِيبٌ
ایک حصہ
مِّنْهَاۖ
اس میں سے
وَمَن
اور جو کوئی
يَشْفَعْ
سفارش کرے گا
شَفَٰعَةً
سفارش
سَيِّئَةً
بری
يَكُن
ہوگا
لَّهُۥ
اس کے لیے
كِفْلٌ
ایک حصہ
مِّنْهَاۗ
اس میں سے
وَكَانَ
اور ہے
ٱللَّهُ
اللہ
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
ہر
شَىْءٍ
چیز کے
مُّقِيتًا
حاضر۔ نگران

جو شخص کوئی نیک سفارش کرے تو اس کے لئے اس (کے ثواب) سے حصہ (مقرر) ہے، اور جو کوئی بری سفارش کرے تو اس کے لئے اس (کے گناہ) سے حصہ (مقرر) ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے،

تفسير

وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا ۗ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ حَسِيْبًا

وَإِذَا
اور جب
حُيِّيتُم
دعا دیے جاؤ تم
بِتَحِيَّةٍ
زندگی کی دعا
فَحَيُّوا۟
تو تم بھی دعا دو
بِأَحْسَنَ
ساتھ اچھے طریقے کے۔ زیادہ اچھی
مِنْهَآ
اس سے
أَوْ
یا
رُدُّوهَآۗ
لوٹا دو اس کو
إِنَّ
بیشک
ٱللَّهَ
اللہ تعالیٰ
كَانَ
ہے
عَلَىٰ
اوپر
كُلِّ
اوپر
شَىْءٍ
چیز کے
حَسِيبًا
حساب لینے والا

اور جب (کسی لفظ) سلام کے ذریعے تمہاری تکریم کی جائے تو تم (جواب میں) اس سے بہتر (لفظ کے ساتھ) سلام پیش کیا کرو یا (کم از کم) وہی (الفاظ جواب میں) لوٹا دیا کرو، بیشک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے،

تفسير

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۗ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِۗ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيْثًا

ٱللَّهُ
اللہ
لَآ
نہیں
إِلَٰهَ
کوئی الہ
إِلَّا
مگر
هُوَۚ
وہی
لَيَجْمَعَنَّكُمْ
البتہ ضرور جمع کرے گا تم سب کو
إِلَىٰ
طرف
يَوْمِ
دن کے
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
لَا
نہیں
رَيْبَ
کوئی شک
فِيهِۗ
اس میں
وَمَنْ
اور کون
أَصْدَقُ
زیادہ سچا ہے
مِنَ
سے بڑھ کر
ٱللَّهِ
اللہ
حَدِيثًا
بات میں

اللہ ہے (کہ) اس کے سوا کوئی لائقِ عبادت نہیں۔ وہ تمہیں ضرور قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے بات میں زیادہ سچا کون ہے،

تفسير

فَمَا لَـكُمْ فِىْ الْمُنٰفِقِيْنَ فِئَـتَيْنِ وَاللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْاۗ اَ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ ۗ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا

فَمَا
تو کیا ہے
لَكُمْ
تمہارے لیے
فِى
بارے میں
ٱلْمُنَٰفِقِينَ
منافقوں کے
فِئَتَيْنِ
دو گروہ
وَٱللَّهُ
اور اللہ نے
أَرْكَسَهُم
الٹا پھیر دیا ان کو
بِمَا
بوجہ اس کے جو
كَسَبُوٓا۟ۚ
انہوں نے کمائی کی
أَتُرِيدُونَ
کیا تم چاہتے ہو
أَن
کہ
تَهْدُوا۟
تم ہدایت دو
مَنْ
جس کو
أَضَلَّ
گمراہ کردیا
ٱللَّهُۖ
اللہ نے
وَمَن
اور جس کو
يُضْلِلِ
گمراہ کردے
ٱللَّهُ
اللہ
فَلَن
تو ہرگز نہیں
تَجِدَ
تم پاؤ گے
لَهُۥ
اس کے لیے
سَبِيلًا
کوئی راستہ

پس تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہو گئے ہو حالانکہ اللہ نے ان کے اپنے کرتوتوں کے باعث ان (کی عقل اور سوچ) کو اوندھا کر دیا ہے۔ کیا تم اس شخص کو راہِ راست پر لانا چاہتے ہو جسے اللہ نے گمراہ ٹھہرا دیا ہے، اور (اے مخاطب!) جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے ہرگز کوئی راہِ (ہدایت) نہیں پاسکتا،

تفسير

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَاۤءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِيَاۤءَ حَتّٰى يُهَاجِرُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۗ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَاقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا ۙ

وَدُّوا۟
وہ چاہتے ہیں
لَوْ
کاش
تَكْفُرُونَ
تم کفر کرو
كَمَا
جیسا کہ
كَفَرُوا۟
انہوں نے کفر کیا
فَتَكُونُونَ
تو تم سب ہوجاؤ
سَوَآءًۖ
برابر
فَلَا
تو نہ
تَتَّخِذُوا۟
تم بناؤ
مِنْهُمْ
ان میں سے
أَوْلِيَآءَ
دوست
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يُهَاجِرُوا۟
وہ ہجرت کرجائیں
فِى
میں
سَبِيلِ
راستے
ٱللَّهِۚ
اللہ کے
فَإِن
پھر اگر
تَوَلَّوْا۟
وہ منہ موڑ جائیں
فَخُذُوهُمْ
تو پکڑو ان کو
وَٱقْتُلُوهُمْ
اور قتل کرو ان کو
حَيْثُ
جہاں کہیں
وَجَدتُّمُوهُمْۖ
پاؤ تم ان کو
وَلَا
اور نہ
تَتَّخِذُوا۟
تم بناؤ
مِنْهُمْ
ان میں سے
وَلِيًّا
کوئی دوست
وَلَا
اور نہ
نَصِيرًا
کوئی مددگار

وہ (منافق تو) یہ تمنا کرتے ہیں کہ تم بھی کفر کروجیسے انہوں نے کفر کیا تاکہ تم سب برابر ہو جاؤ۔ سو تم ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت (کر کے اپنا ایمان اور اخلاص ثابت) کریں، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو انہیں پکڑ لو اور جہاں بھی پاؤ انہیں قتل کر ڈالو اور ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بناؤ اور نہ مددگار،

تفسير

اِلَّا الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ اَوْ جَاۤءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ يُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ ۗ وَلَوْ شَاۤءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ وَاَلْقَوْا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَـكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيْلًا

إِلَّا
مگر
ٱلَّذِينَ
وہ لوگ
يَصِلُونَ
جو پناہ لیں
إِلَىٰ
کی طرف
قَوْمٍۭ
ایسی ایک قوم
بَيْنَكُمْ
تمہارے درمیان
وَبَيْنَهُم
اور ان کے درمیان
مِّيثَٰقٌ
پختہ عہد ہے
أَوْ
یا
جَآءُوكُمْ
آئیں وہ تمہارے پاس
حَصِرَتْ
تنگ ہوئے
صُدُورُهُمْ
سینے ان کے
أَن
کہ
يُقَٰتِلُوكُمْ
وہ جنگ کریں تم سے
أَوْ
یا
يُقَٰتِلُوا۟
وہ جنگ کریں تم سے
قَوْمَهُمْۚ
اپنی قوم سے
وَلَوْ
اور اگر
شَآءَ
چاہتا
ٱللَّهُ
اللہ
لَسَلَّطَهُمْ
البتہ مسلط کردیتا ان کو
عَلَيْكُمْ
تم پر
فَلَقَٰتَلُوكُمْۚ
پس البتہ وہ لڑتے تم سے
فَإِنِ
پھر وہ اگر
ٱعْتَزَلُوكُمْ
ایک طرف ہوجائیں تم سے
فَلَمْ
پھر نہ
يُقَٰتِلُوكُمْ
وہ جنگ کریں تم سے
وَأَلْقَوْا۟
اور وہ ڈالیں
إِلَيْكُمُ
تمہاری طرف
ٱلسَّلَمَ
سلام
فَمَا
تو نہیں
جَعَلَ
بنایا
ٱللَّهُ
اللہ نے
لَكُمْ
تمہارے لئیے
عَلَيْهِمْ
ان پر
سَبِيلًا
کوئی راستہ

مگر ان لوگوں کو (قتل نہ کرو) جو ایسی قوم سے جا ملے ہوں کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدۂ (امان ہوچکا) ہو یا وہ (حوصلہ ہار کر) تمہارے پاس اس حال میں آجائیں کہ ان کے سینے (اس بات سے) تنگ آچکے ہوں کہ وہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں، اور اگر اللہ چاہتا تو (ان کے دلوں کو ہمت دیتے ہوئے) یقینا انہیں تم پر غالب کر دیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے، پس اگر وہ تم سے کنارہ کشی کر لیں اور تمہارے ساتھ جنگ نہ کریں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لئے (بھی صلح جوئی کی صورت میں) ان پر (دست درازی کی) کوئی راہ نہیں بنائی،

تفسير