Skip to main content

وَ اِنَّ لَـكُمْ فِى الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۗ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِىْ بُطُوْنِهَا وَلَـكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ وَّمِنْهَا تَأْكُلُوْنَ ۙ

وَإِنَّ
اور بیشک
لَكُمْ
تمہارے لیے
فِى
میں
ٱلْأَنْعَٰمِ
جانوروں (میں)
لَعِبْرَةًۖ
البتہ سبق ہے
نُّسْقِيكُم
ہم پلاتے ہیں تم کو
مِّمَّا
اس میں سے جو
فِى
میں
بُطُونِهَا
ان کے پیٹوں میں ہے
وَلَكُمْ
اور تمہارے لیے
فِيهَا
ان میں
مَنَٰفِعُ
فائدے ہیں
كَثِيرَةٌ
بہت سے
وَمِنْهَا
اور ان میں سے
تَأْكُلُونَ
تم کھاتے ہو

اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں (بھی) غور طلب پہلو ہیں، جو کچھ ان کے شکموں میں ہوتا ہے ہم تمہیں اس میں سے (بعض اجزاء کو دودھ بنا کر) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) بہت سے فوائد ہیں اور تم ان میں سے (بعض کو) کھاتے (بھی) ہو،

تفسير

وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْـفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ

وَعَلَيْهَا
اور ان پر
وَعَلَى
اورپر
ٱلْفُلْكِ
کشتیوں (پر)
تُحْمَلُونَ
تم اٹھائے جاتے ہو

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار (بھی) کئے جاتے ہو،

تفسير

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
نُوحًا
نوح کو
إِلَىٰ
طرف
قَوْمِهِۦ
ان کی قوم کی (طرف)
فَقَالَ
تو اس نے کہا
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
ٱعْبُدُوا۟
عبادت کرو
ٱللَّهَ
اللہ کی
مَا
نہیں
لَكُم
تمہارے لیے
مِّنْ
کوئی
إِلَٰهٍ
الہ
غَيْرُهُۥٓۖ
اس کے سوا
أَفَلَا
کیا بھلا نہ
تَتَّقُونَ
تم تقوی اختیار کرو گے

اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے،

تفسير

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّـتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ ۗ وَلَوْ شَاۤءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰۤٮِٕكَةً ۖ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِىْۤ اٰبَاۤٮِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ ۚ

فَقَالَ
تو کہا
ٱلْمَلَؤُا۟
سرداروں نے
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں نے
كَفَرُوا۟
جنہوں نے کفر کیا
مِن
سے
قَوْمِهِۦ
اس کی قوم میں سے
مَا
نہیں
هَٰذَآ
یہ
إِلَّا
مگر
بَشَرٌ
ایک انسان ہے
مِّثْلُكُمْ
تمہاری طرح
يُرِيدُ
چاہتا ہے
أَن
کہ
يَتَفَضَّلَ
فضیلت حاصل کرلے
عَلَيْكُمْ
تم پر
وَلَوْ
اور اگر
شَآءَ
چاہتا
ٱللَّهُ
اللہ
لَأَنزَلَ
البتہ نازل کردیتا
مَلَٰٓئِكَةً
فرشتے
مَّا
نہیں
سَمِعْنَا
سنا ہم نے
بِهَٰذَا
اس بات کو
فِىٓ
میں
ءَابَآئِنَا
اپنے آباؤ اجداد میں
ٱلْأَوَّلِينَ
پہلے

تو ان کی قوم کے سردار (اور وڈیرے) جو کفر کر رہے تھے کہنے لگے: یہ شخص محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے (اس کے سوا کچھ نہیں)، یہ تم پر (اپنی) فضیلت و برتری قائم کرنا چاہتا ہے، اور اگر اللہ (ہدایت کے لئے کسی پیغمبر کو بھیجنا) چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا، ہم نے تو یہ بات (کہ ہمارے جیسا ہی ایک شخص ہمارا رسول بنا دیا جائے) اپنے اگلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنی،

تفسير

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ

إِنْ
نہیں
هُوَ
وہ
إِلَّا
مگر
رَجُلٌۢ
ایک شخص ہے
بِهِۦ
اس کے ساتھ
جِنَّةٌ
جنون ہے
فَتَرَبَّصُوا۟
تو انتظار کرو
بِهِۦ
اس کے ساتھ
حَتَّىٰ
تک
حِينٍ
ایک وقت (تک)

یہ شخص تو سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے دیوانگی (کا عارضہ لاحق ہو گیا) ہے سو تم ایک عرصہ تک اس کا انتظار کرو (دیکھو آگے کیا کرتا ہے)،

تفسير

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِىْ بِمَا كَذَّبُوْنِ

قَالَ
کہا
رَبِّ
اے میرے رب
ٱنصُرْنِى
مدد فرما میری
بِمَا
بدلے اس کے جو
كَذَّبُونِ
وہ جھٹلاتے ہیں مجھ کو

نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے،

تفسير

فَاَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا فَاِذَا جَاۤءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّـنُّوْرُۙ فَاسْلُكْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْۚ وَلَا تُخَاطِبْنِىْ فِى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ

فَأَوْحَيْنَآ
تو وحی کی ہم نے
إِلَيْهِ
اس کی طرف
أَنِ
کہ
ٱصْنَعِ
بنا
ٱلْفُلْكَ
کشتی
بِأَعْيُنِنَا
ہماری نگاہوں کے سامنے
وَوَحْيِنَا
اور ہماری وحی کے مطابق
فَإِذَا
پھر جب
جَآءَ
آجائے
أَمْرُنَا
حکم ہمارا
وَفَارَ
اور ابل پڑے
ٱلتَّنُّورُۙ
تنور
فَٱسْلُكْ
تو داخل کرلے
فِيهَا
اس میں
مِن
سے
كُلٍّ
ہر قسم کے
زَوْجَيْنِ
جوڑے
ٱثْنَيْنِ
دو
وَأَهْلَكَ
اور اپنے گھر والوں کو۔ اہل و عیال کو
إِلَّا
مگر
مَن
جو
سَبَقَ
پہلے ہوچکا
عَلَيْهِ
اس پر
ٱلْقَوْلُ
بات۔ فیصلہ
مِنْهُمْۖ
ان میں سے
وَلَا
اور نہ
تُخَٰطِبْنِى
تم مخاطب ہونا مجھ سے۔ نہ بات کرنا مجھ سے
فِى
میں
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کے معاملے میں
ظَلَمُوٓا۟ۖ
جنہوں نے ظلم کیا
إِنَّهُم
بیشک وہ
مُّغْرَقُونَ
غرق کیے جانے والے ہیں

پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناؤ سو جب ہمارا حکمِ (عذاب) آجائے اور تنور (بھر کر پانی) ابلنے لگے تو تم اس میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو جوڑے (نر و مادہ) بٹھا لینا اور اپنے گھر والوں کو بھی (اس میں سوار کر لینا) سوائے ان میں سے اس شخص کے جس پر فرمانِ (عذاب) پہلے ہی صادر ہو چکا ہے، اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کچھ عرض بھی نہ کرنا جنہوں نے (تمہارے انکار و استہزاء کی صورت میں) ظلم کیا ہے، وہ (بہر طور) ڈبو دیئے جائیں گے،

تفسير

فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَى الْـفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ نَجّٰٮنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ

فَإِذَا
پھر جب
ٱسْتَوَيْتَ
سوار ہو تم
أَنتَ
تم
وَمَن
اور جو
مَّعَكَ
ساتھ تیرے ہیں
عَلَى
اوپر
ٱلْفُلْكِ
کشتی کے
فَقُلِ
تو کہنا
ٱلْحَمْدُ
سب تعریف
لِلَّهِ
اللہ کے لیے ہے
ٱلَّذِى
جس نے
نَجَّىٰنَا
نجات دی ہم کو
مِنَ
سے
ٱلْقَوْمِ
قوم
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالم (قوم سے)

پھر جب تم اور تمہاری سنگت والے (لوگ) کشتی میں ٹھیک طرح سے بیٹھ جائیں تو کہنا (کہ) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات بخشی،

تفسير

وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِىْ مُنْزَلًا مُّبٰـرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ

وَقُل
اور کہنا
رَّبِّ
اے میرے رب
أَنزِلْنِى
اتار مجھ کو
مُنزَلًا
اتارنے کی جگہ
مُّبَارَكًا
بابرکت
وَأَنتَ
اور تو
خَيْرُ
بہترین
ٱلْمُنزِلِينَ
اتارنے والا ہے

اور عرض کرنا: اے میرے رب! مجھے با برکت منزل پر اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے،

تفسير

اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّاِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ

إِنَّ
بیشک
فِى
میں
ذَٰلِكَ
اس (میں)
لَءَايَٰتٍ
البتہ نشانیاں ہیں
وَإِن
اور بیشک
كُنَّا
تھے ہم
لَمُبْتَلِينَ
البتہ آزمانے والے

بیشک اس (واقعہ) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم آزمائش کرنے والے ہیں،

تفسير