وَ اِنَّ لَـكُمْ فِى الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۗ نُسْقِيْكُمْ مِّمَّا فِىْ بُطُوْنِهَا وَلَـكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ كَثِيْرَةٌ وَّمِنْهَا تَأْكُلُوْنَ ۙ
اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں (بھی) غور طلب پہلو ہیں، جو کچھ ان کے شکموں میں ہوتا ہے ہم تمہیں اس میں سے (بعض اجزاء کو دودھ بنا کر) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) بہت سے فوائد ہیں اور تم ان میں سے (بعض کو) کھاتے (بھی) ہو،
وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْـفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ
اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار (بھی) کئے جاتے ہو،
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ
اور بیشک ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، تو کیا تم نہیں ڈرتے،
فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۙ يُرِيْدُ اَنْ يَّـتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ ۗ وَلَوْ شَاۤءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰۤٮِٕكَةً ۖ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِىْۤ اٰبَاۤٮِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ ۚ
تو ان کی قوم کے سردار (اور وڈیرے) جو کفر کر رہے تھے کہنے لگے: یہ شخص محض تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے (اس کے سوا کچھ نہیں)، یہ تم پر (اپنی) فضیلت و برتری قائم کرنا چاہتا ہے، اور اگر اللہ (ہدایت کے لئے کسی پیغمبر کو بھیجنا) چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا، ہم نے تو یہ بات (کہ ہمارے جیسا ہی ایک شخص ہمارا رسول بنا دیا جائے) اپنے اگلے آباء و اجداد میں (کبھی) نہیں سنی،
اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِيْنٍ
یہ شخص تو سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسے دیوانگی (کا عارضہ لاحق ہو گیا) ہے سو تم ایک عرصہ تک اس کا انتظار کرو (دیکھو آگے کیا کرتا ہے)،
قَالَ رَبِّ انْصُرْنِىْ بِمَا كَذَّبُوْنِ
نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! میری مدد فرما کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے،
فَاَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا فَاِذَا جَاۤءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّـنُّوْرُۙ فَاسْلُكْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْۚ وَلَا تُخَاطِبْنِىْ فِى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ
پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناؤ سو جب ہمارا حکمِ (عذاب) آجائے اور تنور (بھر کر پانی) ابلنے لگے تو تم اس میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو جوڑے (نر و مادہ) بٹھا لینا اور اپنے گھر والوں کو بھی (اس میں سوار کر لینا) سوائے ان میں سے اس شخص کے جس پر فرمانِ (عذاب) پہلے ہی صادر ہو چکا ہے، اور مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں کچھ عرض بھی نہ کرنا جنہوں نے (تمہارے انکار و استہزاء کی صورت میں) ظلم کیا ہے، وہ (بہر طور) ڈبو دیئے جائیں گے،
فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَى الْـفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِىْ نَجّٰٮنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ
پھر جب تم اور تمہاری سنگت والے (لوگ) کشتی میں ٹھیک طرح سے بیٹھ جائیں تو کہنا (کہ) ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات بخشی،
وَقُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِىْ مُنْزَلًا مُّبٰـرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ
اور عرض کرنا: اے میرے رب! مجھے با برکت منزل پر اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے،
اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّاِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ
بیشک اس (واقعہ) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں اور یقیناً ہم آزمائش کرنے والے ہیں،