Skip to main content
وَهُوَ
اور وہ
ٱلْقَاهِرُ
غالب آنے والا ہے
فَوْقَ
اوپر
عِبَادِهِۦۖ
اپنے بندوں کے
وَيُرْسِلُ
اور وہ بھیجتا ہے
عَلَيْكُمْ
تم پر
حَفَظَةً
نگہبان
حَتَّىٰٓ
یہاں تک کہ
إِذَا
جب
جَآءَ
آتی ہے
أَحَدَكُمُ
تم میں سے کسی ایک کو
ٱلْمَوْتُ
موت
تَوَفَّتْهُ
فوت کرنے ہیں اس کو
رُسُلُنَا
ہمارے بھیجے ہوئے
وَهُمْ
اور وہ
لَا
نہیں
يُفَرِّطُونَ
کمی کرتے

اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے

تفسير
ثُمَّ
پھر
رُدُّوٓا۟
وہ لوٹائے جائیں گے
إِلَى
طرف
ٱللَّهِ
اللہ کی
مَوْلَىٰهُمُ
جو مولا ہے ان کا
ٱلْحَقِّۚ
سچا
أَلَا
خبردار
لَهُ
اسی کے لیے ہے
ٱلْحُكْمُ
فیصلہ ۣ
وَهُوَ
اور وہ
أَسْرَعُ
سب سے تیز ہے
ٱلْحَٰسِبِينَ
حساب لینے والوں میں

پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے

تفسير
قُلْ
کہہ دیجیے
مَن
کون
يُنَجِّيكُم
بچاتا ہے تم کو
مِّن
سے
ظُلُمَٰتِ
اندھیروں سے
ٱلْبَرِّ
خشکی کے
وَٱلْبَحْرِ
اور سمندر کے
تَدْعُونَهُۥ
تم پکارتے ہو اس کو
تَضَرُّعًا
گڑ گڑا کر
وَخُفْيَةً
اور چپکے چپکے ۚ
لَّئِنْ
البتہ اگر
أَنجَىٰنَا
اس نے نجات دی ہمیں
مِنْ
سے
هَٰذِهِۦ
اس
لَنَكُونَنَّ
البتہ ہم ضرور ہوجائیں گے
مِنَ
میں سے
ٱلشَّٰكِرِينَ
شکر کرنے والوں

اے محمدؐ! ا ن سے پوچھو، صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کو ن ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا، گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟

تفسير
قُلِ
کہہ دیجیے
ٱللَّهُ
کہ اللہ
يُنَجِّيكُم
نجات دیتا ہے تم کو
مِّنْهَا
اس سے
وَمِن
اور سے
كُلِّ
ہر
كَرْبٍ
مشکل
ثُمَّ
پھر
أَنتُمْ
تم
تُشْرِكُونَ
تم شرک کرتے ہو

کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے ہو

تفسير
قُلْ
کہہ دیجیے
هُوَ
وہ
ٱلْقَادِرُ
قدرت رکھتا ہے
عَلَىٰٓ
اس بات پر
أَن
کہ
يَبْعَثَ
وہ بھیجے
عَلَيْكُمْ
تم پر
عَذَابًا
عذاب
مِّن
سے
فَوْقِكُمْ
تمہارے اوپر
أَوْ
یا
مِن
سے
تَحْتِ
نیچے
أَرْجُلِكُمْ
تمہارے پاؤں کے
أَوْ
یا
يَلْبِسَكُمْ
وہ تم کو ملا دے
شِيَعًا
گروہوں میں
وَيُذِيقَ
اور چکھا دے
بَعْضَكُم
تم میں سے بعض کو
بَأْسَ
زور
بَعْضٍۗ
بعض کا
ٱنظُرْ
دیکھو
كَيْفَ
کس طرح
نُصَرِّفُ
ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں
ٱلْءَايَٰتِ
آیات
لَعَلَّهُمْ
تاکہ وہ
يَفْقَهُونَ
وہ سمجھیں

کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں

تفسير
وَكَذَّبَ
اور جھٹلایا
بِهِۦ
اس کو
قَوْمُكَ
تیری قوم نے
وَهُوَ
حالانکہ وہ
ٱلْحَقُّۚ
حق ہے
قُل
کہہ دیجیے
لَّسْتُ
نہیں ہوں میں
عَلَيْكُم
تم پر
بِوَكِيلٍ
حوالہ دار۔ کارساز

تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں

تفسير
لِّكُلِّ
واسطے ہر
نَبَإٍ
خبر کے
مُّسْتَقَرٌّۚ
ایک وقت مقرر ہے
وَسَوْفَ
اور عنقریب
تَعْلَمُونَ
تم جان لو گے

ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا

تفسير
وَإِذَا
اور جب
رَأَيْتَ
تم دیکھو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
يَخُوضُونَ
وہ مشغول ہوتے ہیں
فِىٓ
میں
ءَايَٰتِنَا
ہماری آیات
فَأَعْرِضْ
تو اعراض کر
عَنْهُمْ
ان سے
حَتَّىٰ
یہاں تک کہ
يَخُوضُوا۟
وہ مشغول ہوجائیں
فِى
میں
حَدِيثٍ
کسی بات
غَيْرِهِۦۚ
اس کے علاوہ
وَإِمَّا
اور اگر
يُنسِيَنَّكَ
بھلا دے تم کو
ٱلشَّيْطَٰنُ
شیطان
فَلَا
تو نہ
تَقْعُدْ
تم بیٹھو
بَعْدَ
بعد
ٱلذِّكْرَىٰ
یاد آنے کے
مَعَ
ساتھ
ٱلْقَوْمِ
قوم کے
ٱلظَّٰلِمِينَ
ظالم

اور اے محمدؐ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہو جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو

تفسير
وَمَا
اور نہیں
عَلَى
ذمہ
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کے
يَتَّقُونَ
جو تقوی اختیار کرتے ہیں
مِنْ
میں سے
حِسَابِهِم
ان کے حساب
مِّن
کوئی
شَىْءٍ
چیز
وَلَٰكِن
او لیکن
ذِكْرَىٰ
یاد دہانی ہے
لَعَلَّهُمْ
تاکہ وہ
يَتَّقُونَ
وہ تقوی اختیار کریں

اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے، البتہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں

تفسير
وَذَرِ
اور چھوڑ دو
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ٱتَّخَذُوا۟
جنہوں نے بنا لیا
دِينَهُمْ
اپنے دین کو
لَعِبًا
کھیل
وَلَهْوًا
اور تماشا
وَغَرَّتْهُمُ
اور دھوکے میں ڈالا
ٱلْحَيَوٰةُ
زندگی نے
ٱلدُّنْيَاۚ
دنیا کی
وَذَكِّرْ
اور نصیحت کرو
بِهِۦٓ
ساتھ اس کے
أَن
(مبادا) کہ
تُبْسَلَ
گرفتار ہوجائے
نَفْسٌۢ
کوئی نفس
بِمَا
بوجہ اس کے
كَسَبَتْ
جو کمائی کی اس نے
لَيْسَ
نہیں
لَهَا
اس کے لیے
مِن
کے
دُونِ
سوا
ٱللَّهِ
اللہ
وَلِىٌّ
کوئی ولایت
وَلَا
اور نہ
شَفِيعٌ
کوئی سفارشی
وَإِن
اور اگر
تَعْدِلْ
وہ بدلہ دے
كُلَّ
ہر طرح کا
عَدْلٍ
بدلہ
لَّا
نہ
يُؤْخَذْ
لیا جائے گا
مِنْهَآۗ
اس سے
أُو۟لَٰٓئِكَ
یہی وہ
ٱلَّذِينَ
لوگ ہیں جو
أُبْسِلُوا۟
ہلاک کردیے گئے۔ محروم کردیے گئے
بِمَا
بوجہ اس کے
كَسَبُوا۟ۖ
جو انہوں نے کمائی کی
لَهُمْ
ان کے لیے
شَرَابٌ
پینا ہے
مِّنْ
میں سے
حَمِيمٍ
کھولتے ہوئے پانی
وَعَذَابٌ
اور عذاب
أَلِيمٌۢ
دردناک
بِمَا
بوجہ اس کے
كَانُوا۟
جو وہ تھے
يَكْفُرُونَ
کفر کرتے

چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور گر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا

تفسير