Skip to main content
قَالُوا۟
انہوں نے کہا
يَٰشُعَيْبُ
اے شعیب
مَا
نہیں
نَفْقَهُ
ہم سمجھتے
كَثِيرًا
بہت سا
مِّمَّا
اس میں سے جو
تَقُولُ
تم کہتے ہو
وَإِنَّا
اور بیشک ہم
لَنَرَىٰكَ
البتہ ہم دیکھتے ہیں تجھ کو
فِينَا
اپنے میں
ضَعِيفًاۖ
کمزور
وَلَوْلَا
اور اگر نہ
رَهْطُكَ
تیرا کنبہ ہوتا
لَرَجَمْنَٰكَۖ
البتہ ہم سنگسار کردیتے تجھ کو
وَمَآ
اور نہیں
أَنتَ
تو
عَلَيْنَا
ہم پر
بِعَزِيزٍ
کچھ بھاری۔ زبردست۔ غالب

انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو"

تفسير
قَالَ
اس نے کہا
يَٰقَوْمِ
اے میری قوم
أَرَهْطِىٓ
کیا میرا کنبہ
أَعَزُّ
زیادہ زور والا ہے۔ غلبے والا ہے
عَلَيْكُم
تم پر
مِّنَ
سے
ٱللَّهِ
اللہ بڑھ کر
وَٱتَّخَذْتُمُوهُ
اور تم نے بنا لیا اس کو
وَرَآءَكُمْ
اپنے پیچھے
ظِهْرِيًّاۖ
پشت کے پیچھے
إِنَّ
بیشک
رَبِّى
میرا رب
بِمَا
ساتھ اس کے جو
تَعْمَلُونَ
تم عمل کرتے ہو
مُحِيطٌ
گھیرنے والا ہے

شعیبؑ نے کہا "بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے

تفسير
وَيَٰقَوْمِ
اور اے میری قوم
ٱعْمَلُوا۟
عمل کرو
عَلَىٰ
پر
مَكَانَتِكُمْ
اپنی جگہ
إِنِّى
بیشک میں
عَٰمِلٌۖ
عمل کرنے والا ہوں
سَوْفَ
عنقریب
تَعْلَمُونَ
تم جان لوگے
مَن
کون ہے
يَأْتِيهِ
کہ آتا ہے اس پر
عَذَابٌ
ایک عذاب
يُخْزِيهِ
جو رسوا کردے اس کو
وَمَنْ
اور کون ہے
هُوَ
وہ
كَٰذِبٌۖ
جو جھوٹا ہے
وَٱرْتَقِبُوٓا۟
اور انتظار کرو
إِنِّى
بیشک میں
مَعَكُمْ
تمہارے ساتھ
رَقِيبٌ
انتظار کرنے والا ہوں

اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا، جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں"

تفسير
وَلَمَّا
اور جب
جَآءَ
آگیا
أَمْرُنَا
ہمارا فیصلہ
نَجَّيْنَا
نجات دی ہم نے
شُعَيْبًا
شعیب کو
وَٱلَّذِينَ
اور ان لوگوں کو
ءَامَنُوا۟
جو ایمان لائے
مَعَهُۥ
اس کے ساتھ
بِرَحْمَةٍ
ساتھ رحمت کے
مِّنَّا
اپنی طرف سے
وَأَخَذَتِ
اور پکڑ لیا
ٱلَّذِينَ
ان لوگوں کو
ظَلَمُوا۟
جنہوں نے ظلم کیا تھا
ٱلصَّيْحَةُ
چیخ نے۔ چنگھاڑنے
فَأَصْبَحُوا۟
تو وہ ہوگئے
فِى
میں
دِيَٰرِهِمْ
اپنے گھروں میں
جَٰثِمِينَ
اوندھے گرنے والے

آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے

تفسير
كَأَن
گویا کہ
لَّمْ
نہیں
يَغْنَوْا۟
وہ بسے تھے
فِيهَآۗ
ان میں
أَلَا
خبردار
بُعْدًا
دوری ہے
لِّمَدْيَنَ
مدین کے لیے
كَمَا
جیسا کہ
بَعِدَتْ
دور ہوئے
ثَمُودُ
ثمود

گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے سنو! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے

تفسير
وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
أَرْسَلْنَا
بھیجا ہم نے
مُوسَىٰ
موسیٰ کو
بِـَٔايَٰتِنَا
اپنی آیات کے ساتھ
وَسُلْطَٰنٍ
اور دلیل کے ساتھ
مُّبِينٍ
کھلی

اور موسیٰؑ کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی کھلی سند ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا

تفسير
إِلَىٰ
طرف
فِرْعَوْنَ
فرعون کی
وَمَلَإِي۟هِۦ
اور اس کے سرداروں کی طرف
فَٱتَّبَعُوٓا۟
تو انہوں نے پیروی کی
أَمْرَ
حکم کی
فِرْعَوْنَۖ
فرعون
وَمَآ
اور نہیں تھا
أَمْرُ
حکم
فِرْعَوْنَ
فرعون کا
بِرَشِيدٍ
راستی پر

مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا

تفسير
يَقْدُمُ
قیادت کرے گا
قَوْمَهُۥ
اپنی قوم کی
يَوْمَ
دن
ٱلْقِيَٰمَةِ
قیامت کے
فَأَوْرَدَهُمُ
پھر لے آئے گا ان کو
ٱلنَّارَۖ
آگ پر
وَبِئْسَ
اور کتنی بری ہے
ٱلْوِرْدُ
گھاٹ
ٱلْمَوْرُودُ
کھڑا کرنے کی جگہ۔ اترنے کی جگہ

قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا کیسی بدتر جائے وُرُود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے!

تفسير
وَأُتْبِعُوا۟
اور وہ پیچھے لگائے گئے
فِى
میں
هَٰذِهِۦ
اس ( دنیا) میں
لَعْنَةً
لعنت کو۔ پھٹکار کو
وَيَوْمَ
اور دن
ٱلْقِيَٰمَةِۚ
قیامت کے
بِئْسَ
کتنی بری ہے
ٱلرِّفْدُ
بخشش
ٱلْمَرْفُودُ
دی جانے والی

اور ان لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی کیسا برا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے!

تفسير
ذَٰلِكَ
یہ
مِنْ
سے
أَنۢبَآءِ
خبروں میں سے ہے
ٱلْقُرَىٰ
بستوں کی
نَقُصُّهُۥ
ہم بیان کرتے ہیں اس کو
عَلَيْكَۖ
آپ پر
مِنْهَا
ان میں سے
قَآئِمٌ
کچھ قائم ہیں۔ کچھ کھڑی ہیں
وَحَصِيدٌ
اور کچھ کٹ چکی ہیں۔ اجڑ چکی ہیں

یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے

تفسير