Skip to main content

وَقَالَ الَّذِى اشْتَرٰٮهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِىْ مَثْوٰٮهُ عَسٰۤى اَنْ يَّـنْفَعَنَاۤ اَوْ نَـتَّخِذَهٗ وَلَدًا ۗ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِ ۖوَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَأْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِۗ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَلٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ

وَقَالَ
اور کہا
ٱلَّذِى
اس شخص نے
ٱشْتَرَىٰهُ
جس نے خریدا تھا اس کو
مِن
سے
مِّصْرَ
مصر سے
لِٱمْرَأَتِهِۦٓ
اپنی بیوی کو
أَكْرِمِى
باعزت رکھ۔ عزت کے ساتھ دے
مَثْوَىٰهُ
ٹھکانہ اس کو
عَسَىٰٓ
امید ہے
أَن
کہ
يَنفَعَنَآ
نفع دے گا ہم کو
أَوْ
یا
نَتَّخِذَهُۥ
ہم بنالیں گے اس کو
وَلَدًاۚ
بیٹا
وَكَذَٰلِكَ
اور اسی طرح
مَكَّنَّا
ٹھکانہ دیا ہم نے
لِيُوسُفَ
یوسف کو
فِى
میں
ٱلْأَرْضِ
زمین میں
وَلِنُعَلِّمَهُۥ
اور تاکہ ہم سکھائیں اس کو
مِن
سے
تَأْوِيلِ
مطلب مٰیں سے
ٱلْأَحَادِيثِۚ
باتوں کے (مطلب مٰیں سے)
وَٱللَّهُ
اور اللہ تعالیٰ
غَالِبٌ
غالب ہے
عَلَىٰٓ
میں۔ پر
أَمْرِهِۦ
اپنے فیصلے (میں) اپنے کام پر
وَلَٰكِنَّ
اور لیکن
أَكْثَرَ
اکثر
ٱلنَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
يَعْلَمُونَ
علم رکھتے

اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا (اس کا نام قطفیر تھا اور وہ بادشاہِ مصر ریان بن ولید کا وزیر خزانہ تھا اسے عرف عام میں عزیزِ مصر کہتے تھے) اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا: اسے عزت و اکرام سے ٹھہراؤ! شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں، اور اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو زمین (مصر) میں استحکام بخشا اور یہ اس لئے کہ ہم اسے باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی علمِ تعبیرِ رؤیا) سکھائیں، اور اﷲ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،

تفسير

وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ۗ وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَ

وَلَمَّا
اور جب
بَلَغَ
وہ پہنچا
أَشُدَّهُۥٓ
اپنی جوانی کو
ءَاتَيْنَٰهُ
دی ہم نے اس کو
حُكْمًا
قوت فیصلہ
وَعِلْمًاۚ
اور علم
وَكَذَٰلِكَ
اور اسی طرح
نَجْزِى
ہم جزا دیتے ہیں
ٱلْمُحْسِنِينَ
احسان کرنے والوں کو

اور جب وہ اپنے کمالِ شباب کو پہنچ گیا (تو) ہم نے اسے حکمِ (نبوت) اور علمِ (تعبیر) عطا فرمایا، اور اسی طرح ہم نیکوکاروں کو صلہ بخشا کرتے ہیں،

تفسير

وَرَاوَدَتْهُ الَّتِىْ هُوَ فِىْ بَيْتِهَا عَنْ نَّـفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَـكَۗ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّىْۤ اَحْسَنَ مَثْوَاىَۗ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ

وَرَٰوَدَتْهُ
اور پھسلانا چاہا اس کو
ٱلَّتِى
اس عورت نے
هُوَ
وہ
فِى
میں
بَيْتِهَا
جس کے گھر میں تھے
عَن
سے
نَّفْسِهِۦ
اس کے نفس سے
وَغَلَّقَتِ
اور بند کرلیے
ٱلْأَبْوَٰبَ
دروازے
وَقَالَتْ
اور بولی
هَيْتَ
آجاؤ
لَكَۚ
تم
قَالَ
بولے
مَعَاذَ
پناہ
ٱللَّهِۖ
اللہ کی
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
رَبِّىٓ
میرا رب ہے
أَحْسَنَ
جس نے اچھا دیا
مَثْوَاىَۖ
مجھے ٹھکانہ
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
لَا
نہیں
يُفْلِحُ
فلاح پاتے
ٱلظَّٰلِمُونَ
وہ جو ظالم ہیں

اور اس عورت (زلیخا) نے جس کے گھر وہ رہتے تھے آپ سے آپ کی ذات کی شدید خواہش کی اور اس نے دروازے (بھی) بند کر دیئے اور کہنے لگی: جلدی آجاؤ (میں تم سے کہتی ہوں)۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا: اﷲ کی پناہ! بیشک وہ (جو تمہارا شوہر ہے) میرا مربّی ہے اس نے مجھے بڑی عزت سے رکھا ہے۔ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے،

تفسير

وَلَـقَدْ هَمَّتْ بِهٖۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖۗ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّۤوْءَ وَالْـفَحْشَاۤءَۗ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ

وَلَقَدْ
اور البتہ تحقیق
هَمَّتْ
اس عورت نے ارادہ کیا
بِهِۦۖ
اس کا
وَهَمَّ
اور وہ بھی ارادہ کرلیتا
بِهَا
اس کا
لَوْلَآ
اگر نہ
أَن
کہ
رَّءَا
وہ دیکھ لیتا
بُرْهَٰنَ
برہان
رَبِّهِۦۚ
اپنے رب کی
كَذَٰلِكَ
اسی طرح
لِنَصْرِفَ
تاکہ ہم پھیر دیں
عَنْهُ
اس سے
ٱلسُّوٓءَ
برائی کو
وَٱلْفَحْشَآءَۚ
اور بےحیائی کو
إِنَّهُۥ
کیونکہ وہ
مِنْ
سے
عِبَادِنَا
ہمارے بندوں میں (سے) تھا
ٱلْمُخْلَصِينَ
چنے ہوئے

(یوسف علیہ السلام نے انکار کر دیا) اور بیشک اس (زلیخا) نے (تو) ان کا ارادہ کر (ہی) لیا تھا، (شاید) وہ بھی اس کا قصد کر لیتے اگر انہوں نے اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھا ہوتا۔٭ اس طرح (اس لئے کیا گیا) کہ ہم ان سے تکلیف اور بے حیائی (دونوں) کو دور رکھیں، بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے (برگزیدہ) بندوں میں سے تھے، ٭ (یا انہوں نے بھی اس کو طاقت سے دور کرنے کا قصد کر لیا تھا۔ اگر وہ اپنے رب کی روشن دلیل کو نہ دیکھ لیتے تو اپنے دفاع میں سختی کر گزرتے اور ممکن ہے اس دوران ان کا قمیض آگے سے پھٹ جاتا جو بعد ازاں ان کے خلاف شہادت اور وجہ تکلیف بنتا، سو اﷲ کی نشانی نے انہیں سختی کرنے سے روک دیا۔)

تفسير

وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِۗ قَالَتْ مَا جَزَاۤءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۤءًا اِلَّاۤ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ

وَٱسْتَبَقَا
اور وہ دونوں بڑھے
ٱلْبَابَ
دروازے کی طرف
وَقَدَّتْ
اور اس عورت نے پھاڑ دیا
قَمِيصَهُۥ
اس کا قمیص
مِن
سے
دُبُرٍ
پچھلی طرف سے
وَأَلْفَيَا
اور دونوں نے پایا
سَيِّدَهَا
اس کے شوہر کو
لَدَا
پاس
ٱلْبَابِۚ
دروازے کے (پاس)
قَالَتْ
بول اٹھی
مَا
کیا
جَزَآءُ
بدلہ ہوسکتا ہے
مَنْ
جو
أَرَادَ
ارادہ کرے
بِأَهْلِكَ
تیری گھروالی کے ساتھ
سُوٓءًا
برائی کا
إِلَّآ
مگر
أَن
یہ کہ
يُسْجَنَ
قید کیا جائے
أَوْ
یا
عَذَابٌ
سزا دیا جائے
أَلِيمٌ
دردناک

اور دونوں دروازے کی طرف (آگے پیچھے) دوڑے اور اس (زلیخا) نے ان کا قمیض پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور دونوں نے اس کے خاوند (عزیزِ مصر) کو دروازے کے قریب پا لیا وہ (فورًا) بول اٹھی کہ اس شخص کی سزا جو تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اور کیا ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ وہ قید کر دیا جائے یا (اسے) درد ناک عذاب (دیا جائے)،

تفسير

قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِىْ عَنْ نَّـفْسِىْ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ

قَالَ
اس نے کہا
هِىَ
یہ
رَٰوَدَتْنِى
پھسلانا چاہتی تھی تجھ کو
عَن
سے
نَّفْسِىۚ
میرے نفس
وَشَهِدَ
اور گواہی دی
شَاهِدٌ
ایک گواہ نے
مِّنْ
سے
أَهْلِهَآ
اس کے گھروالوں میں سے
إِن
اگر
كَانَ
ہے
قَمِيصُهُۥ
اس کی قمیص
قُدَّ
پھاڑی گئی
مِن
سے
قُبُلٍ
سامنے سے
فَصَدَقَتْ
تو یہ سچی ہے
وَهُوَ
اور وہ
مِنَ
سے
ٱلْكَٰذِبِينَ
جھوٹوں میں سے ہے

یوسف (علیہ السلام) نے کہا: (نہیں بلکہ) اس نے خود مجھ سے مطلب براری کے لئے مجھے پھسلانا چاہا اور (اتنے میں خود) اس کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (جو شیر خوار بچہ تھا) گواہی دی کہ اگر اس کا قمیض آگے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے،

تفسير

وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ

وَإِن
اور اگر
كَانَ
ہے
قَمِيصُهُۥ
اس کی قمیص
قُدَّ
پھاڑی گئی
مِن
سے
دُبُرٍ
پچھلی طرف
فَكَذَبَتْ
تو وہ جھوٹی ہے
وَهُوَ
اور وہ
مِنَ
سے
ٱلصَّٰدِقِينَ
سچوں میں سے ہے

اور اگر اس کا قمیض پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچوں میں سے ہے،

تفسير

فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّۗ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ

فَلَمَّا
تو جب
رَءَا
اس نے دیکھا
قَمِيصَهُۥ
اس کی قمیص کو
قُدَّ
پھاڑ دی گئی ہے
مِن
سے
دُبُرٍ
پچھلی طرف سے
قَالَ
کہا۔ بولا
إِنَّهُۥ
بیشک وہ
مِن
سے
كَيْدِكُنَّۖ
تم عورتوں کی چال میں سے ہے
إِنَّ
بیشک
كَيْدَكُنَّ
تم عورتوں کی چالیں
عَظِيمٌ
بہت بڑی ہوتی ہیں

پھر جب اس (عزیزِ مصر) نے ان کا قمیض دیکھا (کہ) وہ پیچھے سے پھٹا ہوا تھا تو اس نے کہا: بیشک یہ تم عورتوں کا فریب ہے۔ یقیناً تم عورتوں کا فریب بڑا (خطرناک) ہوتا ہے،

تفسير

يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاوَاسْتَغْفِرِىْ لِذَنْۢبِكِ ۖ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِٮـِٕيْنَ

يُوسُفُ
یوسف
أَعْرِضْ
درگزر کرو
عَنْ
سے
هَٰذَاۚ
اس (سے)
وَٱسْتَغْفِرِى
اور بخشش مانگ
لِذَنۢبِكِۖ
اے عورت اپنے گناہ کی
إِنَّكِ
کیونکہ تو
كُنتِ
ہی ہے تو
مِنَ
سے
ٱلْخَاطِـِٔينَ
خطا کاروں میں سے

اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور (اے زلیخا!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے تھی،

تفسير

وَقَالَ نِسْوَةٌ فِى الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰٮهَا عَنْ نَّـفْسِهٖۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۗ اِنَّا لَـنَرٰٮهَا فِىْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ

وَقَالَ
اور کہا
نِسْوَةٌ
عورتوں نے
فِى
میں
ٱلْمَدِينَةِ
شہر
ٱمْرَأَتُ
بیوی۔ عورت
ٱلْعَزِيزِ
عزیز کی
تُرَٰوِدُ
اکساتی ہے۔ پھسلاتی ہے
فَتَىٰهَا
اس کو
عَن
سے
نَّفْسِهِۦۖ
اس کے نفس سے
قَدْ
تحقیق
شَغَفَهَا
بےقابو کررکھا ہے اس کو
حُبًّاۖ
محبت نے
إِنَّا
بیشک ہم
لَنَرَىٰهَا
البتہ ہم دیکھتے ہیں اس کو
فِى
میں
ضَلَٰلٍ
گمراہی
مُّبِينٍ
کھلی

اور شہر میں (اُمراء کی) کچھ عورتوں نے کہنا (شروع) کر دیا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو اس سے مطلب براری کے لئے پھسلاتی ہے، اس (غلام) کی محبت اس کے دل میں گھر کر گئی ہے، بیشک ہم اسے کھلی گمراہی میں دیکھ رہی ہیں،

تفسير